مس مارول آن ٹی وی: ’متنوع کردار دکھانے کے لیے مارول کا جرات مندانہ اقدام‘

عمران رحمان جونز - صحافی، نیوز بیٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آن لائن جریدے ڈیڈ لائن کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایمان ویلانی ڈزنی کی فلم اور سیریز میں سپر ہیرو مس مارول کا کردار ادا کریں گی۔

خبر کے مطابق اس کردار کو مستقبل میں مارول یونیورسل فلمز میں بھی پیش کیا جائے گا۔

مس مارول کے کردار کو پاکستانی نژاد نوجوان اور مارول ایڈیٹر و ڈائریکٹر ثنا امانت نے بطور شریک تخلیق کار 2014 میں بنایا تھا۔ وہ خود بھی سپر ہیرو کیپٹن مارول جیسے دوسرے کرداروں کی فین ہیں۔

ثنا امانت جو ایک امریکی مسلمان خاتون ہیں، وہ ایک ایسا کردار تخلیق کرنا چاہتی تھیں جس کے بارے میں اس طرح کا پس منظر رکھنے والی نو عمر لڑکیاں سوچتی ہوں اور اس کے ساتھ اپنی شناخت کی مماثلت تلاش کر سکیں۔

مارول کا کہنا ہے کہ اس کردار میں ’شکل اور سائز بدلنے کی غیر فطری صلاحیت موجود ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مس مارول: گیمنگ کی دنیا کی پہلی پاکستانی نژاد مسلمان سپر ہیرو

پاک لیجن: پاکستان کو جن ’سپر ہیروز‘ کی ضرورت ہے

سپائڈرمین کو بچاؤ! مداحوں کا سوشل میڈیا پر احتجاج

بی بی سی کے پروگرام نیوز بیٹ نے ڈزنی سے اس بارے میں تصدیق کے لیے رابطہ کیا لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ثنا امانت

Getty Images
ثنا امانت نے 2014 میں کمالہ خان کا کردار تخلیق کیا

مس مارول کون ہیں؟

یہ اس کردار کا چوتھا اوتار ہے۔ پہلے تین اوتار میں یہ کردار نبھانے والی خواتین سفید فام تھیں جن میں سے سب سے زیادہ مشہور کیرول ڈینورس ہوئیں جو بعد میں کیپٹن مارول بن گئیں۔

نیوجرسی میں پرورش پانے والی 16 برس کی کمالا اسی کیپٹن مارول کی فین ہیں۔ کمالا کے اس کردار کے پاس ‘اپنے ہاتھ پاؤں لمبے کرنے اور اپنی شکل بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔’

کمالا کی سٹوری لائن سنہ 2013 میں کیپٹن مارول کی کامکس میں متعارف کرائی گئی تھی جبکہ سنہ 2014 میں کمالا نے اپنی کامک کتاب متعارف کرائی۔

نوجوان نسل کو مزید تنوع چاہیے

کامک بکس کی ماہر کلیرے لم کا کہنا ہے کہ ‘یہ وقت کے عین مطابق ہے۔’

انھوں نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام نیوزبیٹ میں بتایا: ‘بہت سال سے کامکس یہ نظریہ پیش کرتے رہے ہیں کہ کئی طرح کے سپر ہیروز ہیں، مختلف طرح کے لوگ ہیں۔’

کلیرے نے کہا: ‘مس مارول ایک بہترین کردار ہے لیکن ٹی وی اور فلم میں جو لوگ یہاں انچارج ہیں ان کی وجہ سے زیادہ تر کہانیوں کو شامل کرنے میں سست روی ہو سکتی ہے۔’

‘پیسہ رکھنے اور فیصلہ کرنے والے لوگ معاشرے کے حصوں یا ذیلی حصوں کو جتنا جلدی سمجھ لیں گے اتنا بہتر ہو گا۔ کیونکہ ان کو احساس ہو گا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خود کو ٹی وی یا فلم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔’

‘میرے خیال میں نوجوان نسل تنوع کو لازم بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔’

وہ صرف مسلمان خواتین سے مخاطب نہیں

لندن سکول آف اکنامکس اور امپیرئیل کالج لندن کی ماہر عمرانیات ڈاکٹر منمیت بہامبرا کہتی ہیں: ‘جو چیز ہم دیکھ رہے ہیں وہ مارول یونیورسل فلمز کا چند برس سے اپنے کرداروں میں تنوع لانے کا جرات مندانہ اقدام ہے۔’

منمیت نے دنیا بھر کی کمیونٹیز پر مس مارول کے کردار کے اثرات کا ایک جائزہ لیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ کامک ان نوجوان افراد کے تجربات کی ترجمانی کرتا ہے جن کے والدین میری طرح مہاجرین ہیں، مثال کے طور پر اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنا۔’

لیکن ان کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انٹرویو دینے والے غیر مسلم افراد نے بھی نسل اور خاندانی تقسیم کے موضوعات میں جواب دیا ہے۔

‘نسل، اقلیت اور صنف نسواں سے متعلق ایسی بہت سی چیزیں ہیں جس سے نوجوان مختلف انداز میں اپنا کوئی تعلق تلاش کر سکتے ہیں۔’

منمیت نے اپنے اس جائزے کے لیے برطانیہ، لبنان، عرب امارات اور سنگاپور میں 182 افراد کا انٹرویو کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مارول یونورسل فلمز میں مس مارول کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈزنی ‘اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ یہ کردار وہاں مختصر دورانیے کے لیے نہیں اور یہ کہ ان پر سرمایہ لگایا گیا ہے۔’

ایمان ویلانی کون ہیں؟

آن لائن جریدے ڈیڈ لائن کے مطابق یہ ہالی ووڈ کی 18 برس کی پہلی پروڈکشن ہو گی۔

وہ گذشتہ برس ٹورونٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹول کی نیکسٹ ویو کمیٹی میں شامل تھیں، جو نوجوانوں پر مبنی فلموں پر اپنی رائے دیتے ہیں۔ جہاں ایمان ویلانی نے خود کو ‘متجسس، ایڈونچر کی شوقین اور محتاط’ کے طور پر بیان کیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فلم میں ان کا کردار کون ادا کرے گا تو ایمان نے کہا: ‘آئرن مین۔۔۔’

اس فیسٹول میں ان کی پسندیدہ فلم ‘ہالا’ تھی جو ایک پاکستانی نژاد امریکی مسلمان نوجوان کے بارے میں تھی جس کے والدین ہجرت کر کے آئے تھے۔

ایمان نے کہا تھا کہ وہ اس فلم سے بہت سی وجوہات کی بنا پر وابستگی رکھتی ہیں ‘معاشرے کا ایک نوجوان جو دونوں دنیاؤں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔’

لیکن یاد رہے کہ اس قسم کے متنوع کرداروں کو اکثر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

مارول یونیورسل فلمز کی پہلی فلم میں مرکزی کردار ایک خاتون سٹار نے نبھایا تھا اور فلم کی ریلیز سے قبل ہی ان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

کیلی میری ٹران

Getty Images
کیلی میری ٹران

سٹار وارز فرنچائز کی پہلی لیڈ خاتون کیلی میری ٹران نے آن لائن ہونے والی جنسی اور نسل پرستانہ تنقید کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

ان کے علاوہ ڈی سی یونیورس کے ٹی وی شو ٹائٹز کی اینا ڈیوپ نے بھی کامک بک فینز کی جانب سے نسل پرستانہ تنقید کے بعد اپنے انسٹاگرام پر کمنٹس سیکشن بند کر دیا تھا۔

کلیئر کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ ٹیلی ویژن پر مختلف چہروں کو دیکھنا ایک بری چیز ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ آپ کو خود کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16076 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp