طلاق یافتہ عورت خوش کیوں نہیں رہ سکتی، پاکستانی عورت کا سوال

کریم الاسلام - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انعم جنجوعہ

BBC
'وہ میری ایک بہت اچھی سہیلی کی شادی تھی۔ میں اُس زمانے میں شادیوں میں نہیں جایا کرتی تھی لیکن اُس نے اصرار کر کے مجھے بلایا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو نکاح ہو رہا تھا۔ میں کمرے میں داخل ہی ہو رہی تھی کہ میری دوست کی والدہ نے مجھے روک دیا اور کہا کہ اِس وقت نکاح ہو رہا ہے تمھاری وجہ سے نحوست کا سایہ پڑے گا۔'

ذرا ٹہریں۔۔۔ اکیسویں صدی کی ایک جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی عورت کے اِن الفاظ پر غور کرنے کے لیے کچھ وقت لیں۔

اب اگر آپ کے اندر مزید آگے پڑھنے کی ہمت واپس آ چکی ہے تو جان لیں کہ کراچی کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والی انعم جنجوعہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہیں۔

وہ معاشرے کے بنائے گئے بیوٹی سٹینڈرڈز کے مطابق خوبصورت ہیں، اپر مِڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے شعبے میں انتہائی کامیاب ہیں۔

تو پھر کیا ہوا جو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اُنھیں ’منحوس‘ قرار دے دیا گیا۔ اِس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اب سے لگ بھگ دس سال پہلے انعم کی طلاق ہوئی تھی اور بس۔

یہ بھی پڑھیے

آپ کی ازدواجی زندگی مشکل میں ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان میں شادی عورت کی ’کامیابی‘ کا پیمانہ کیوں

پراعتماد عورت سے لوگوں کو مسئلہ کیوں ہوتا ہے؟

خواتین کی عمر کیوں اتنا بڑا ’مسئلہ‘

‘طلاق یافتہ لیکن خوش’

سنہ 2019 میں پاکستان کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین اپنے حقوق کے لیے ‘عورت مارچ’ کی شکل میں سڑکوں پر آئیں تو بے شمار مردوں کی بھنویں تَنیں اور تیوریاں چڑھ گئیں۔

‘سب ٹھیک ہے’ کے شور شرابے میں کچھ داناؤں کو عورتوں کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر بھی اعتراض تھا۔

ایک طرف جہاں ‘اپنا کھانا خود گرم کرلو’ اور ‘میرا جسم میری مرضی’ جیسے عام فہم خیالات پر لعن تعن کی گئی وہیں ‘ڈیورسڈ اینڈ ہیپی’ یعنی ‘طلاق یافتہ لیکن خوش’ کے نعرے کو بھی فساد کی جڑ قرار دیا گیا۔

اِس پلے کارڈ کے ساتھ جو تصویر وائرل ہوئی وہ صحافی اور سماجی کارکن صباحت ذکریا کی تھی۔

اِس سال مارچ میں بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے صباحت نے بتایا تھا کہ ‘عورت مارچ’ کے دوران تو اُنھیں اِس پلے کارڈ پر کافی مثبت ردِعمل ملا اور بہت سی خواتین نے اُنھیں سراہا بھی لیکن سوشل میڈیا پر اس پلے کارڈ کے ساتھ اُن کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد منفی ردعمل سامنے آیا۔

آخر اِس ایک فقرے ‘طلاق یافتہ لیکن خوش’ میں ایسا کیا ہے جو ہر جانب ایک بھونچال آ گیا؟ ایک طلاق یافتہ لیکن خوش عورت مرد کے بنائے سماجی نظام کو کیوں قابلِ قبول نہیں؟ آئیے یہ سب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں انعم جنجوعہ کی کہانی کے ذریعے۔

‘شناخت شادی سے کیوں؟’

ہیومن ریسورسز کے شعبے سے منسلک انعم جنجوعہ کی اکیس سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ بائیس برس کی عمر میں بیٹا پیدا ہوا اور ساڑھے بائیس سال میں طلاق ہو گئی۔

انعم کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں کو بچپن سے صرف ایک ہی بات بتائی جاتی ہے کہ اُن کی شادی ہونی ہے۔ انعم کے نزدیک پدر شاہی معاشرے میں عورت کی ذات کا واحد مقصد شادی کرنا طے پاتا ہے۔

کچھ ایسی ہی بات صباحت ذکریا نے ‘طلاق یافتہ لیکن خوش’ کے پلے کارڈ کے پیچھے موجود منطق کے بارے میں کی تھی۔

‘میرا خیال ہے کہ پاکستان میں خواتین کی شناخت کو صرف اُن کی شادی سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اِس سے ہٹ کر اُن کی کوئی پہچان نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی اس میں دلچسپی لیتا ہے۔’

‘عورت خوش کیوں نہیں رہ سکتی؟’

صباحت ذکریا کے نزدیک پاکستانی معاشرے میں جب شادی یا طلاق کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو عورتوں کی بے چارگی یا اُن کے دُکھ پر ہی توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

‘جب میں نے وہ پلے کارڈ اُٹھایا تھا تو میری طلاق کو کافی عرصہ گزر چکا تھا۔ لیکن طلاق کے وقت بھی میرے جذبات آزادی کے ہی تھے۔ ایک ایسی کیفیت تھی جیسے آپ کسی جیل سے آزاد ہوتے ہیں۔‘

لوگ طلاق کو ایک حادثہ سمجھتے ہیں لیکن میں زندگی کے ایک مخصوص موقعے کا ایک مختلف نقطہِ نظر پیش کرنا چاہتی تھی۔’

دوسری جانب انعم جنجوعہ بھی طلاق اور خوشی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں دیکھتیں۔

‘کِس نے کہا طلاق یافتہ عورت خوش نہیں رہ سکتی ہے؟ خوشی کا براہ راست تعلق میرے زندگی کو دیکھنے کے نظریے سے ہے۔ میرا فلسفہِ زندگی میری خوشی کے نظریے کی تشریح کرے گا۔ میں اپنی زندگی کو جس طرح دیکھتی ہوں میں خوش ہوں۔ اور لوگوں کی پرواہ کون کرتا ہے۔ لوگوں نے کونسے میرے بجلی اور گیس کے بل دینے ہیں؟’

انعم جنجوعہ

BBC

خوشی پر سب کا حق

ماہرینِ نفسیات کے بقول ‘خوشی’ پر ایک طلاق یافتہ عورت کا بھی اُتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ عطیہ نقوی سوال کرتی ہیں کہ کیا زندگی میں کسی بڑے نقصان کے بعد انسان کا خوشیوں پر سے حق اُٹھ جاتا ہے؟

‘کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ طلاق یافتہ عورت اپنی بقیہ تمام زندگی اُس ذاتی نقصان کے غم میں گزار دے؟ یہ ایک بالکل غلط تصّور ہے۔

خوشی اور غم زندگی میں آتے رہتے ہیں۔ اصل بہادری تو اُن کا مقابلہ کرنا ہے۔ اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم طلاق کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ ہم ہمت اور بہادری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔’

کیا طلاق میں اضافہ ہو رہا ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں طلاق اور خلع کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

گیلپ پاکستان کے ایک حالیہ سروے کے مطابق اٹھاون فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ملک میں طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے۔

سماجی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمان اِس رجحان کو خواتین کی ترقی سے جوڑتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ موجودہ دور میں لڑکیوں کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے، وہ کما رہی ہیں اور اپنے حقوق کے بارے میں جانتی ہیں۔

‘اب لڑکیوں میں شعور اور عزتِ نفس کا احساس مضبوط ہو چکا ہے۔ لہذا اب اگر صدیوں سے جاری استحصالی نظریے کے تحت اُس کو ذاتی پراپرٹی یا مال مویشی سمجھ کر برتاؤ کیا جائے گا تو ظاہر ہے وہ برداشت نہیں کرے گی۔’

‘یہ طلاق یافتہ عورت ہے’

انعم جنجوعہ آج ایک کامیاب زندگی گزار رہی ہیں۔ لیکن دس برس پہلے جب اُن کی طلاق ہوئی تو وہ یونیورسٹی کے ساتویں سیمسٹر میں تھیں۔ بقول اُن کے وہ وقت کچھ اتنا آسان نہیں تھا۔

‘اُس یونیورسٹی میں ہر کوئی جانتا تھا کہ بیچلرز کے ساتویں سیمسٹر کی یہ سٹوڈنٹ ایک طلاق یافتہ عورت ہے اور ایک بچے کی ماں بھی ہے۔

انعم جنجوعہ

BBC
میں اکثر یونیورسٹی میں بیٹھے بیٹھے رونا شروع کر دیتی تھی۔ میرے والدین بھی بہت رنجیدہ تھے اور حالانکہ آج اُن کا رویہ مختلف ہے لیکن اُس وقت اُنھوں نے ساری صورتحال کا ذمہ دار مجھے ٹھہرایا۔'

انعم کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرہ عورتوں کو اپنی ذات کو ترجیح دینا نہیں سکھاتا۔

‘ماں باپ لڑکیوں کو نہیں سِکھاتے کہ اپنی ذات کو فوقیت دینی ضروری ہے۔ اِسی لیے لڑکیاں ایسے رشتوں اور صورتحال میں پھنسی رہتی ہیں جو اُنھیں تکلیف دے رہے ہوتے ہیں اور نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔’

‘بریانی کی پلیٹ’

انعم جنجوعہ کہتی ہیں کہ معاشرہ اب بھی اُنھیں، ایک طلاق یافتہ عورت کو، گالی سمجھتا ہے۔

‘مجھے یاد ہے کہ میں اپنی پہلی جاب پر گئی تھی تو چلتے پھرتے سُننے کو ملتا تھا کہ یہ تو بریانی کی پلیٹ ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اُسے بُری نگاہوں سے دیکھا جائے۔ منحوس کہا جائے۔ صرف اِس لیے کیونکہ اُس کی طلاق ہو گئی ہے۔’

عورت فاؤنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمان کہتی ہیں کہ پاکستانی عورت طلاق کا فیصلہ کرنے میں تو کسی حد تک آزاد ہو چکی ہے لیکن طلاق کے بعد بے شمار مسائل سر اُٹھاتے ہیں۔

‘مالی خود مختاری ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ سماجی رویے بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اکیلی عورت کے لیے تو مکان کرائے پر لینا بھی آسان نہیں ہے۔

طلاق یافتہ عورت کو غلیظ نگاہوں سے دیکھنا معمول ہے۔ طرح طرح کی باتیں بنائی جاتیں ہیں کہ وہ کیسے کپڑے پہن رہی ہے اور رات کو کس وقت گھر واپس آ رہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ لوگ خوش نہیں رہنے دیتے۔ ڈنڈے لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔’

‘امّاں نہیں مان رہیں’

انعم جنجوعہ کے بقول طلاق یافتہ عورت مردوں کی بے جا توجہ کا مرکز بھی بنی رہتی ہے جو اُس کی محبت اور رفاقت کی ضرورت اور خواہش کا غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

‘کچھ طلاق یافتہ عورتیں خوف زدہ رہتی ہیں کہ اُنھیں ایک بار مسترد کیا جا چکا ہے۔ بھر جب کوئی دوسرا مرد اُن سے تعلق بڑھاتا ہے تو وہ سمجھتی ہیں کہ وہ مخلص ہے۔

شاید اِس وجہ سے مَردوں کے ذہن میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ طلاق یافتہ عورتیں اُن کی ہر قسم کی آفرز کو قبول کر لیں گی۔’

https://www.youtube.com/watch?v=uUxVOJypNjc

انعم طنزیہ سوال کرتی ہیں کہ مارکیٹ میں ‘ریجیکٹڈ’ مال کو بِکنے میں کیا مسائل پیش آتے ہیں؟ وہی بات ہے کہ سستے میں مل جائے تو بہترین ہے لیکن مہنگے میں نہیں چلے گا۔

‘آخر میں جو مسئلہ آتا ہے وہ امّاں ابّا کا ہوتا ہے کہ گھر سے اجازت نہیں مل رہی۔ شادی نہیں ہو سکتی کیونکہ امّاں نے کہا ہے طلاق یافتہ عورت سے شادی نہیں ہو سکتی۔’

برابری کا درجہ

سماجی کارکن مہناز رحمان کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پہلے عورتوں کے ساتھ ناانصافیاں نہیں ہوتی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اُن کا جواب بھی دیا جا رہا ہے۔ اب یہ تصّور نہیں ہے کہ شادی شدہ لڑکی نے ہر حال میں گزارا کرنا ہے اور سُسرال سے اُس کی لاش ہی نکلے گی۔

انعم اور اُن جیسی نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیوں کو احساس ہو گیا ہے کہ آج کی عورت صرف اور صرف برابری کا درجہ ہی قبول کرے گی۔

‘اب عورتوں کو مرد کی شکل میں صرف ایک پارٹنر کی ضرورت ہے۔ وہ مالی طور پر خود کفیل ہیں اور خوش بھی رہ سکتی ہیں۔ اُنھیں صرف ایک ساتھی چاہیے جو اُن کا ہمسفر بن کر زندگی گزارے۔’

‘طلاق گالی نہیں’

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کو ادراک ہے کہ طلاق کے بارے میں معاشرتی رویے کو تبدیل ہونے میں وقت لگے گا۔

مہناز رحمان کا خیال ہے کہ طبقاتی تفریق پر قائم معاشرہ جو زندگی کے اکثر شعبوں میں جہالت، تعصب اور توہمات کا شکار ہے، طلاق کے معاملے کو بھی اُسی طرح دیکھتا ہے۔

‘لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر میاں بیوی طلاق کا فیصلہ کر رہے ہیں تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایک بُرا اور دوسرا اچھا ہے بلکہ ممکن ہے کہ وہ دو مخلتف لوگ ہوں جو ایک ساتھ نہیں رہ پا رہے۔

لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اگر کوئی شادی طلاق پر ختم ہوتی ہے تو اُس کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں۔ اگر دو لوگوں کا ایک ساتھ گزارا نہیں ہو پا رہا تو اِس میں کوئی قیامت نہیں آ گئی۔’

اُدھر پاکستان میں طلاق کے موضوع پر بحث کو محض ایک پلے کارڈ سے ازسرِنو شروع کرنے والی صباحت ذکریا مطمئن ہیں کہ کم از کم معاشرہ اِس موضوع پر بات تو کر رہا ہے۔

‘میرے نزدیک یہ ایک بہت مثبت بات ہے کہ میرا پلے کارڈ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔

اگر لوگ اِس موضوع پر بحث کر رہے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی وقت شاید ہم کسی نتیجے پر پہنچ ہی جائیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اِس بحث کو شروع کرنے کا باعث بنی ہوں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16014 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp