ستم کا شکار ہیمو فیلیا مریض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا۔ اس کے گال تھپڑوں سے سرخ ہو چکے تھے۔ شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی۔ امی میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ ایک جملہ قتل نا حق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ چناں چہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا۔

عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اس کے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی۔ عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی۔ دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوب صوت بچہ ہے۔ بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اس کی مرہم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی، لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے، تمام آزمائے گئے مگر یہ خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

غریب مرتے کیا نہ کرتے، اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ختنے ٹھیک نہیں ہوئے۔ سارا خاندان اس کمپوڈر کو کوسنے اور لعنت طعن کرنے لگ گیا۔ خون کی ایک بوتل لگنے کے بعد، خون تھم گیا اور گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا۔ تین ماہ گزرنے کے بعد عمار چارپائی سے گزا اور ماتھے پر چوٹ لگ گئی پھر مرہم پٹی کروائی مگر خون ایک بار پھر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

اسی اثنا میں محلے کی چاچی بلقیس بیگم نے کہا کہ ”میں تو کہتی ہوں اسے سول اسپتال لے کر جاؤ، وہاں سیانے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ شاید اس کا کوئی علاج نکل آئے۔“

عمار کو صبح صادق کے وقت سول اسپتال لے جایا گیا۔ خدا خدا کر کہ بڑے ڈاکٹر صاحب کی آمد ہوئی، اور انہوں نے عمار کا چیک اپ گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے پی ٹی، اے پی ٹی ٹی اور سی بی سی ٹیسٹ لکھ کر دہے۔ جب لیب سے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ ڈاکٹر صاحب کو دکھائی گئی، تو معلوم ہوا کہ عمار کو ہیمو فیلیا جیسا مہلک مرض لاحق ہے اور اس کے جسم بھی قدرتی طور پر فیکٹر 9 کی کمی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے عمار کے والدین کو بتایا کہ ہیمو فیلیا ایک وراثتی بیماری ہے، جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کے جسم میں خون جمانے والے اجزا کی کمی ہوتی ہے، جنہیں فیکٹرز کہتے ہیں۔ اسی کمی کی وجہ سے ختنے کروانے کے بعد اور حالیہ چوٹ لگنے کے بعد، عماد کا خون بند نہیں ہوا تھا۔

عمار کے والد محمد ارسلان کو سعودی عرب سے ورکنگ ویزا مل گیا اور وہ سعودی عرب چلا گئے۔ بعد ازاں ویزے کی مدت ختم ہونے پر اقامہ نہ لگوانے کی پاداش میں گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہیں۔ عمار کی ماں چٹی ان پڑھ ہیں، اور عمار کو فقط چوٹ لگنے کے ڈر سے دوسرے بچوں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ والد کا جیل میں ہونا ماں کے سٹریس کا باعث ہے، مگر جب بھی عمار کھیل کود کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے آگے سے خوب لتریشن اور تھپڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے عمار میں ایک وحشی پن موجود ہے۔ اس کی زبان گنگ ہو گی ہے، اور وہ بولنے کی بجائے بات کا جواب مکے اور تھپڑ سے دیتا ہے۔

عمار اور اس سے اور بچے جو ہیمو فیلیا کے مرض میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ والدین کی کونسلنگ اشد ضروری ہے، تا کہ وہ ان بچوں کو چوٹ لگنے سے بچانے کی خاطر تشدد کا نشانہ نہ بنائیں۔ انہیں ان ڈور گیم کا بتائیں۔ سکولوں میں پرنسپل، ان بچوں کا داخلہ کرنے سے گھبراتے دکھائی دیتے ہیں۔ اساتذہ کو اس بابت آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ انہیں سپیشل بچے کے طور پر ٹریٹ کیا جائے اور ان سے مار پیٹ جیسے روہے سے اجتناب برتا جائے۔ یہ بچے صرف تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر، ہماری ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
انجینیئر محمد ابرار، سیالکوٹ کی دیگر تحریریں