اپنی شرطوں پر زندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر انسان دنیا میں ایک منفرد افتاد طبع لے کر آتا ہے اور اپنی شرطوں پر زندگی جینا چاہتا ہے۔ زندگی کے اس رستے میں کبھی کبھی بظاہر بہت خوبصورت موڑ آتے ہیں، جہاں سے اگلی منزلیں بہت سہل اور آسان نظر آتی ہیں، بشرطیکہ انسان اپنی شرائط پر سمجھوتا کر لے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور ایک نا معلوم سی خلش دل میں لئے تا عمر سلگتے رہتے ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا، صحیح بات کہنا بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ زندگی اکثر اوقات صرف سیاہ یا سفید کے بجائے سرمئی رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر موڑ پر ملگجے اندھیرے اور نیم جاں روشنی میں کچھ پگڈنڈیاں ڈوبتی اور ابھرتی ہیں۔ ایسے میں اگر دل میں اپنی ذات پر یقین کی شمع روشن نہ ہو، تو بہت ممکن ہے کہ انسان غلط پگڈنڈی پر چل پڑے۔

کچھ عرصہ پہلے لٹل وومن نامی ایک فلم دیکھی تھی۔ اس میں اس خیال کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔ لوئیسا مے ایلکوٹ کے ناول پر بنی اس فلم میں امریکی سول وار کے زمانے میں چار بہنوں کی زندگی، خوابوں اور محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ غریبی میں پلی ان چار بہنوں اور ان کی ماں کی یہ کہانی، ایک نئی امریکی عورت کا تصور پیش کرتی ہے۔

ان بہنوں میں جوزفائن ایک انتہائی خوبصورت دل کی مالک، ذہین اور تخلیقی قوت سے مالا مال، لیکن عام ڈگر سے مختلف تھی۔ اس نے اپنے امیر اور مہذب پڑوسی کے پروپوزل کو محض اس لیے مسترد کر دیا تھا کہ اسے نہیں لگتا تھا کہ وہ محبت کر سکتی ہے۔ انتہائی دل گرفتگی سے اس کے پڑوسی نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا، جب وہ کسی سے بہت پیار کرے گی۔ وہ چلا گیا، تو اسے لگا کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ وہ ماں کے سامنے رو دی تھی کہ کیوں وہ محبتوں کی قدر نہیں کر سکتی۔ اس کی ماں نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر پیار سے کہا، وہ ایک بہت خاص لڑکی ہے، تو اپنے لئے ایک عام سی زندگی کی امید کیسے کر سکتی ہے۔ اس کی ماں نے اسے حوصلہ دیا کہ وہ اپنی زندگی کو اپنے طور پر کھوجے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانے۔

جوزفائن اپنی قسمت آزمانے نیویارک چلی آتی ہے، جو ہمیشہ سے اس کے خوابوں کا شہر تھا۔ اسے ڈراما لکھنے اور نیویارک میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا شوق ہے۔ جیسا کہ سارے بڑے شہر ہوتے ہیں، نیویارک بھی اس کے لئے بہت روکھا اور سخت مزاج شہر نکلا۔ اس کی اپنی خوبصورت فطرت کی طرح کی خوبصورت تحریریں یہاں کچھ زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکیں، تو وہ مایوس ہونے لگی۔ اس کا واحد دوست ایک ادھیڑ عمر جرمن پروفیسر تھا، جو اسی کی طرح اپنی شرطوں پر زندگی جینا چاہتا تھا۔ مسلسل ناکامیوں سے مایوس ہو کر اس نے اپنی روش سے ہٹ کر لکھنا شروع کیا اور اپنی پہلی چھپی ہوئی کہانی، جب پروفیسر کو دکھائی تو پروفیسر نے اسے مشورہ دیا، وہ اپنے لیے لکھے اور خود کو خوش کرنے کی کوشش کرے، نا کہ زمانے کے مطالبات سے ہار مان کر اپنی شخصیت کی انفرادیت کو ختم کر دے۔

اپنی چھوٹی بہن کی بیماری کی وجہ سے وہ واپس اپنے گھر لوٹ گئی، جہاں اس کی سب سے بڑی بہن نے ایک استاد سے شادی کر لی تھی، اور اپنے چھوٹے سے خاندان میں ایک عام لیکن خوش باش زندگی گزار رہی تھی۔ جب کہ اس کی سب سے چھوٹی بہن نے، اس کے پرانے محبوب سے شادی کر کے اپنا گھر آباد کر لیا تھا۔ جوزفائن کی امیر خالہ اپنا خاندانی گھر اور ساری جائیداد اس کے لئے چھوڑ گئی تھی، جہاں اس نے غریب بچوں کے لیے سکول کھول لیا اور یوں خود کو بھول کر انسانیت کے دکھوں کو دور کرنے میں مصروف ہو گئی۔

کبھی کبھی جب وہ اکیلی ہوتی، تو اپنے گھر کی دو چھتی میں بیٹھ کر انہی خوبصورت دنوں کو یاد کرتی۔ جب وہ سب بہنیں اس کے لکھے ڈراموں اور خبروں پر اونٹ پٹانگ ایکٹنگ کرتے تھے۔ اسے پروفیسر یاد آتا تھا، جس نے اسے اپنی شخصیت کی خوبصورتی سے متعارف کروایا تھا۔ تب اس نے اپنی داستان اپنے مخصوص خوبصورت انداز میں لکھنا شروع کی اور بغیر کسی وجہ سے اس نے وہ مسودہ پروفیسر کو نیویارک بھجوا دیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ اپنے پسندیدہ مقام سے چہل قدمی کے بعد گھر لوٹی تو میز پر ایک پیکٹ پڑا ہوا تھا۔ اس میں اس کی چھپی ہوئی کتاب ملفوف تھی۔

پروفیسر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر کہ اس کی شادی ہو چکی ہے، کتاب اس کے گھر چھوڑ کر فوراً واپس ہو گیا تھا۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی طرف بھاگی اور راستے ہی میں پروفیسر کو جا لیا۔ اس نے پروفیسر کی غلط فہمی دور کی اور اس سے درخواست کی کہ وہ سکول چلانے میں اس کی مدد کرے۔ پروفیسر نے اسے دیکھا اور پوچھا، کیا وہ صرف اسی لیے اس کو روک رہی ہے؟ تب اس نے بے اختیار پروفیسر سے اپنی محبت کا اقرار کیا۔ پروفیسر خود بھی اس کی محبت میں گرفتار تھا۔ یوں دو محبت کرنے والے انسانوں نے اپنی شرطوں پر ایک نئی اور خوبصورت زندگی شروع کی۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •