شیخ عزیز: تین زبانوں کے منجھے ہوئے منفرد صحافی، محقق و مصنف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک میں صحافی تو بہت پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے کئی ایک عظمت کے رتبوں پر بھی فائز ہوئے، مگر شیخ عزیز صاحب جیسے کثیر اللسانی، با صلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف کی صحافیانہ و قلمی خدمات کو یہ ملک ہرگز با آسانی فراموش نہیں کر سکتا۔

نامور و ممتاز صحافی اور قلم کار، شیخ عزیز نے، 9 دسمبر 1938ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر اور سندھ کے ثقافتی دار الحکومت، حیدر آباد میں آنکھ کھولی۔ شیخ عزیز کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کے ایک بھائی، شیخ محمد اسمٰعیل، سندھی زبان و ادب کے معروف محقق تھے، جب کہ دوسرے بھائی، شیخ محمد ابراہیم، معروف براڈ کاسٹر گزرے ہیں، جو ریڈیو پاکستان حیدر آباد اور کراچی سے اپنے دور کے ڈرامے کے معروف پروڈیوسر کے طور پر جانے پہچانے گئے، اور دونوں اسٹیشنز کے ”پروگرام مینیجر“ بھی رہے۔

شیخ عزیز نے اپنی ابتدا تا انٹرمیڈیٹ تعلیم، حیدر آباد ہی سے حاصل کی۔ جب کہ گریجوایشن، لندن کے ”تھامس کالج آف جرنلزم“ سے 1968ء میں کیا۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی میں عملی سفر کا آغاز، 1957ء میں روزنامہ ’کاروان‘ حیدر آباد میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا۔ وہ 1958ء تا 1961ء، سندھی کے ماضی کے نامور اخبار، روزنامہ ’عبرت‘ حیدر آباد کے سب ایڈیٹر رہے۔ 1961ء تا 1965ء، ’عبرت‘ ہی میں ”سینیئر سب ایڈیٹر“ رہے۔

1965ء تا 1975ء اسی اخبار میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر رہے۔ 1976ء میں انہوں نے انگریزی صحافت کا آغاز کیا اور انگریزی کے ہفت روزہ اخبار ’دی آبزرور‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1977ء تا 1980ء سندھی کے روزنامے ’سندھ نیوز‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ 1980ء میں وہ اردو کے معروف اخبار، روزنامہ ’جنگ‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور میگزین ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ جب کہ 1982ء تا 1987ء روزنامہ ’حریت‘ کراچی کے میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور 1987ء تا 1989ء، اسی اخبار میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1989ء میں وہ پاکستان کے سب سے اہم اور بڑے انگریزی اخبار، روزنامہ ’ڈان‘ کے ”سینیئر سب ایڈیٹر“ اور ”نائٹ ایڈیٹر“ مقرر ہوئے، جب کہ 2000ء تا 2008ء ’ڈان‘ ہی کے ایڈیشن انچارج اور نائٹ انچارج رہے۔

شیخ عزیز کا نام سندھی، اردو اور انگریزی صحافت میں، اس لئے انفرادیت کا حامل ہے، کہ انہوں نے فرسودگی کا دامن چھوڑ کر، صحافت میں نیا ڈھب متعارف کرایا۔ ’خبر‘ کی ساخت اور سرخی سازی سے لے کر، ایڈیٹوریل پیج کے مضامین اور کالم تک، نیا طرز تحریر دیا۔ جس میں خبر کی تصدیق اور تحقیق سے لے کر، خبر بنانے والے کی غیر جانبداری تک، اس کے انداز ابلاغ کی آسانی سے لے کر، اس کو طوالت سے بچانے تک کے وہ تمام عوامل شامل تھے، جن کی بدولت شیخ عزیز یا ان کے عملے کی بنائی ہوئی خبر، اس دور کے تمام اخبارات کی خبروں سے پڑھنے میں منفرد لگتی تھی۔

ساتھ ساتھ ایڈیٹوریل پیج پر شائع شدہ مضامین کا بھی انداز نوشت ممتاز ہوا کرتا تھا۔ متعدد اخبارات کے مدیر یا مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے، شیخ صاحب کا اپنے اخبار کے ”گیٹ اپ“ اور ”لے آؤٹ“ کے انداز پیشکش میں انفرادیت پر بھی زور ہوا کرتا تھا، جس کی وجہ سے شیخ صاحب کی ادارت میں نکلنے والا ہر اخبار، مواد خواہ اشاعت کے لحاظ سے بے نظیر ہوا کرتا تھا، اور اس دور کے مختلف معروف اخبارات کے مالکان کی کوشش ہوا کرتی تھی، کہ شیخ صاحب ان کے اخبار کو سنبھال کر اسے یکتائی سے سجائیں۔ اور مارکیٹ میں اسے ممتاز مقام دلوائیں۔

ادبی تحقیق کے حوالے سے بھی شیخ عزیز کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ 1956ء سے 1957ء تک، سندھی ادبی بورڈ جامشورو کی جانب سے تیار کی جانے والی جامع سندھی لغت کی تدوینی ٹیم میں ”ریسرچ اسسٹنٹ“ کی حیثیت سے ”سندھی ڈکشنری اسکیم“ کا حصہ رہے، اور اس ملک کے مایۂ ناز عالم، تاریخ نویس، محقق اور دانشور، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کی زیر نگرانی، اس ”جامع سندھی لغت“ کی تیاری میں اپنا تحقیقی کردار ادا کرتے رہے۔

اس اہم تحقیقی کام میں ان کے بھائی، شیخ محمد اسمٰعیل اور ان کے دوست اور سندھی ثقافت کی ایک اہم اور قابل فخر پہچان، ممتاز مرزا بھی ان کے تحقیقی رفقا رہے۔ اسی عرصے کے دوران میں شیخ عزیز نے حکومت پاکستان کی جانب سے ترتیب دی جانے والی ”سندھی اردو ڈکشنری“ کی تیاری میں بھی ”ریسرچ اسسٹنٹ“ کی حیثیت سے اپنی تحقیقی خدمات انجام دیں۔ 1957ء تا 1960ء وہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو کی ایک اور انتہائی اہم ادبی اسکیم، ”سندھی لوک ادب پروجیکٹ“ میں بھی ”ریسرچ اسسٹنٹ“ کی حیثیت سے، ایک بار پھر ڈاکٹر این۔ اے۔ بلوچ کی زیر نگرانی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ 1978ء میں انہوں نے ”رائز اینڈ فال آف رائیٹنگ اسٹڈیز ان ہیومین کمیونیکیشنز“ (انسانی روابط میں تحریر تحقیقات کا عروج و زوال) کے موضوع پر انگریزی میں ایک بے مثال تحقیقی مقالہ (مونوگراف) تحریر کیا، جسے بے پناہ ستائش ملی۔

شیخ عزیز کی اہم ادبی و تحقیقی تصانیف میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:
1۔ ’سندھ جوں پراسرار کہانڑیوں‘ [سندھ کے پر اسرار افسانے ] شائع: 1960ء
2۔ ’الحمرا جا داستان‘ [الحمرا کی داستانیں ] شائع: 1961ء
3۔ ’انتخاب‘ (سندھی افسانوں کی ترتیب) شائع: 1963ء
4۔ ’نقش لطیف‘ (شاہ لطیف جی زندگی ائیں شاعریٔ تے لکھیل مقالہ۔ ترتیب) [شاہ عبداللطیف بھٹائی کی حیات و پیغام کے حوالے سے لکھے گئے مقالہ جات کی ترتیب] شائع: 1964ء

5۔ ’پریفیس ٹو دی کیٹلاگ آف بکس‘ [کتب کی تفصیلی فہرست کا دیباچہ] (انگریزی) شائع: 1972ء
6۔ ’عالمی صحافت‘ (شائع: 1975ء)
7۔ ’موں لینن جو ڈیہہ ڈٹھو‘ [میں نے لینن کا دیس دیکھا] (روس کا سفرنامہ) شائع: 1976ء
8۔ ’بھٹو میموریز اینڈ رمیمبرنسز‘ [شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یادیں اور باتیں ] (انگریزی کتاب) شائع: 1993ء
9۔ ’راگ ساگر‘ [راگ کا سمندر] شائع: 2004ء
10۔ ’کھیرتھر‘ (انگریزی کتاب) شائع: 2006ء
11۔ ’کمپینڈیم آف دی پوئٹری آف شاہ لطیف ان فور لینگویجز ود ایپروپری ایٹ میوزیکل نیریشنز‘ [موسیقی کے موزوں بیانیے کے ساتھ، چار زبانوں میں شاہ لطیف کی شاعری کا ایک مجموعہ] (انگریزی کتاب) شائع: 2006ء
12۔ ’ننڈھے کھنڈ میں ڈرامے جی تاریخ‘ [بر صغیر میں ڈرامے کی تاریخ] شائع: 2007ء
13۔ ’دی ٹریبیوٹ‘ [خراج] (انگریزی کتاب) شائع: 2007ء
14۔ ’تقسیم کھاں تقسیم تائیں‘ (پاکستان جی سیاسی تاریخ) [تقسیم تا تقسیم۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ] شائع: 2008ء
15۔ ’اے ہسٹری آف سندھی لٹریچر‘ [تاریخ سندھی ادب] (انگریزی کتاب) شائع: 2008ء
16۔ ’دی اوریجن اینڈ ایولیوشن آف سندھی میوزک‘ [سندھی موسیقی کی بنیاد اور اس کا ارتقا] (انگریزی کتاب) شائع: 2008ء
17۔ ’سندھ کی محلاتی داستانیں‘ (اردو کتاب) شائع: 2009ء
18۔ ’نوٹس آن سندھ‘ [سندھ سے متعلق مضامین] (انگریزی کتاب) شائع: 2009ء
19۔ ’برصغیر میں موسیقی لکنڑ جی روایت‘ [بر صغیر میں موسیقی لکھنے کی روایت] شائع: 2010ء
20۔ ’میوزیکل نوٹس‘ [باتیں موسیقی کی] (انگریزی کتاب) شائع: 2010ء
21۔ ’بھٹو کھاں ضیاء تائیں‘ [بھٹو سے ضیا تک] شائع: 2012 ع
22۔ ’داروں ائیں کاروں‘ [علاج اور حیلے ] (خود نوشت) شائع: 2018ء
وغیرہ

شیخ عزیز کی قلمی مشقت، تا دم مرگ، کبھی نہیں رکی اور انہوں نے عبادت سمجھ کر لکھا اور لکھتے رہے۔ ان کے تین زبانوں، سندھی، اردو اور انگریزی میں، 3000 سے زائد مضامین، مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔ نئے میلنیئم کے حوالے سے پاکستانی موسیقی پر ’دی ٹریڈیشن گوز آن‘ (روایت جاری رہتی ہے) کے عنوان سے تحریر شدہ ان کے شاندار تحقیقی مقالے کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی، نے فخریہ طور پر اپنی یادگار کتب کی فہرست میں شامل کیا۔

شیخ صاحب کا ایک اور مقالہ، بعنوان ’عالمی غلامی‘ 2003ء میں جاہنسبرگ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر شائع ہوا، جو بعد ازاں اقوام متحدہ نے اپنے سرکاری رکارڈ کے حصے کے طور پر محفوظ کیا۔ ایک ماہر موسیقی کی حیثیت سے ان کے متعدد تحقیقی مقالے بیرون ملک کے انتہائی اہم جرائد اور ریسرچ جرنلز میں بھی شائع ہوتے رہے۔

شیخ عزیز، عملی صحافت کے ساتھ ساتھ مختلف صحافتی اور ادبی تنظیموں خواہ اداروں کی سربراہی بھی کرتے رہے۔ اور متعدد اداروں میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ جن کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ صدر، حیدر آباد پریس کلب ( 1963ء تا 1966ء)
2۔ صدر، حیدر آباد یونین آف جرنلسٹس ( 1974ء)
3۔ وزیٹنگ پروفیسر، شعبۂ صحافت، سندھ یونیورسٹی، جامشورو۔ سندھ ( 1978ء تا 1980ء)
4۔ رکن، بورڈ آف گورننس، میرزا قلیچ بیگ چیئر، یونیورسٹی آف سندھ، جامشورو۔ سندھ (2008 ء)
5۔ نائب صدر نشین (وائس چیئرمین)، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو ( 2008ء تا 2011ء)

شیخ عزیز کو ان کی صحافتی، ادبی اور تحقیقی خدمات کے اعتراف میں، جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے 1998ء میں ملنے والے ”سلور جوبلی ایوارڈ آف ایکسیلنس“، جامعہ کراچی کی جانب سے 1999ء میں ملنے والے ”لٹرری ایکسیلنس ایوارڈ“، 2000ء میں ملنے والے ”ڈیپلائی ایکسیلنس ایوارڈ آف جرنلزم“ اور 2001ء میں ملنے والے ”ترقی پسند ادبی ایوارڈ“ وغیرہ سمیت کئی ایک اہم اعزازات سے نوازا گیا۔

موسیقی، شیخ عزیز صاحب کا صرف تحقیق و تحریر کی حد تک ہی مرغوب موضوع نہیں رہا، بلکہ وہ بذات خود موسیقی کی وسیع معلومات رکھنے والے، سروں کے دل دادہ تھے۔ ان کو لوک، کلاسیکی اور نیم کلاسیکی سمیت نہ صرف سندھی موسیقی کی تمام اصناف کا گہرائی سے علم تھا، بلکہ برصغیر کی موسیقی، موسیقاروں اور گویوں کے بارے میں وسیع معلومات تھیں۔ انہوں نے تمام اہم مقامی گلوکاروں کے ساتھ ساتھ مغربی موسیقی کو بھی تفصیلاً سن رکھا تھا اور اس کے بارے میں بغور پڑھ رکھا تھا۔ وہ خود ہارمونیم اور بانسری بجا بھی لیتے تھے۔ ان کے ذاتی میوزک کلیکشن میں سندھ کی موسیقی کے ساتھ ساتھ برصغیر، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی موسیقی کا عظیم خزانہ، ایم پیز، اسپولس، آڈیو کیسیٹس، سی ڈیز اور کمپیوٹر پر محفوظ تھا۔ وہ انمول موسیقی کا خزانہ سنبھالنے والے اس ملک کے چند گنے چنے شائقین میں سے تھے۔

شیخ عزیز صاحب، تقریباً 80 برس کی عمر پا کر، دو برس قبل، 7 اکتوبر 2018ء کو، کراچی سے حیدر آباد کی طرف سفر کرتے ہوئے، حرکت قلب بند ہونے سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے، اور اب کراچی ہی میں، پہلوان گوٹھ کے شہر خموشاں میں ابدی آرمیدگی ہیں۔ انہوں نے جو انداز صحافت متعارف کرایا، اس طرز کے مقلدین کی ایک کثیر تعداد (جن میں بہتات خود ان کے شاگردوں اور پیروکاروں کی ہے) اس جدید صحافت کے ڈھب سے ابلاغ کی دنیا میں شمعیں روشن کر رہی ہے۔ اور یہ انداز، نسل در نسل آنے والے ادوار تک زندہ رہے گا اور ”شیخ عزیز کے مکتب فکر“ کی پہچان کے طور پر جاری رہ کر، انہیں ایک طویل عرصے تک زندہ رکھے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •