چینی بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ چین جانے کے بعد آپ کو سب سے زیادہ خوبصورت کیا لگا؟ تو میرا جواب ہو گا ”چینی بچے“ ۔ ننھے منے، گول مٹول، پھولے پھولے سرخ سرخ گالوں والے، ڈھیر سارے کپڑوں میں لپٹے ہوئے اور سر پر خوبصورت سی ٹوپی پہنے ہوئے چینی بچے۔ بچے سب ہی کو اچھے لگتے ہیں اور سب ہی ان سے پیار کرتے ہیں لیکن چین میں صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر جس طرح بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے، شاید ہی کہیں اور رکھا جاتا ہو۔

چینی قوم بچوں سے بے حد پیار کرتی ہے۔ وہاں بچے پانچ چھ سال کی عمر سے اسکول جانا شروع کر دیتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ کنڈر گارٹن جاتے ہیں۔ ننھے ننھے بچوں کو نظمیں، گیت، رقص اور مختلف کھیل سکھائے جاتے ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں اسکاؤٹس، گرلز گائیڈ اور بلیو برڈز ہوتے تھے۔ اسی طرح چین میں ینگ پائنیر ہوتے تھے۔ کوئی بھی اسکول کا بچہ آپ کو گلے میں سرخ اسکارف باندھے دکھائی دے تو آپ سمجھ جائیں کہ وہ ینگ پائینیر ہے۔ یہ لوگ گاہے بگاہے مختلف اصلاحی مہمیں چلاتے رہتے تھے اور ان کے بڑے ان سے پورا تعاون بھی کرتے تھے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔

2014 ء میں چھانگ تائی ہونگ نے چینی بچوں کے بارے میں اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا تھا۔ ”1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے فوراً بعد کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے چینی عوام کا دل جیتنے کے لئے بہت سی تعلیمی اصلاحات کیں۔ سوویت (روسی) مشیروں کے زیر اثر اور بہت سے طریقے اپناتے ہوئے جیسے کھیل، گلوکاری، داستان گوئی اور سیاحتی دوروں کی مدد سے چینی بچوں کو محنت کی عظمت، فوجیوں کی قربانیوں، تھین من چوک کی شان و شوکت، ماؤ زے تنگ کی دانش، اور دشمنوں کے ظلم و ستم کے بارے میں بتایا گیا۔

عام تاثر کے برعکس مصنف کا کہنا ہے کہ چینی تعلیمی حکام اور کنڈر گارٹن کے اساتذہ نے کبھی سوویت ماڈل کی اندھی تقلید نہیں کی۔ انہوں نے اپنی داخلی ضروریات کے مطابق ماسکو کی تکنیکیں اپنائیں جن میں کمیونسٹ پارٹی کے جواز اور اقتدار کو مستحکم کرنا اور بچوں کے قومی جذبات کو ابھارنا شامل تھا۔ اس کے نتیجے میں چینی بچے پارٹی کے وفادار بنتے تھے نہ کہ کسی غیر ملکی سوشلسٹ ماڈل کے مداح۔ گو کہ پارٹی کو اپنی پالیسیوں پر عمل در امد کرانے کے لئے قابل اعتماد اساتذہ بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا لیکن وہ کنڈرگارٹن کی تعلیم پر مکمل سیاسی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ایک پارٹی نظام کے تحت چینی بچوں کو وہی پڑھایا گیا جو کہ کمیونسٹ رہنما انہیں سکھانا چاہتے تھے۔ ”

1986 ء میں ہمیں بیجنگ میں چینی بچوں کا ’آرٹ تھیٹر‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تب اسے قائم ہوئے تیس سال ہو چکے تھے۔ اور اسے چین بھر کے بچوں کے تھیٹروں میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ اس وقت تک یہ تھیٹر بچوں کے لئے اسی ڈرامے تیار کر چکا تھا جن میں سے بیس ڈراموں کو قومی اور بین ا لاقوامی ایوارڈز مل چکے تھے۔ اس تھیٹر کا عملہ بچوں کے لئے بنائے جانے والے ٹی وی پروگراموں اور فلموں میں بھی حصہ لیتا تھا۔ اس تھیٹر کا ہر ڈرامہ ہاؤس فل جاتا تھا۔ یہ تھیٹر بچوں کا دوست بھی تھا اور استاد بھی۔ بچے جو باتیں اپنے والدین سے چھپاتے ہیں، وہ اس تھیٹر کے فنکاروں کو بتا دیتے تھے۔ یہ فنکار تفریح کے ذریعے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں تا کہ یہ بچے شریف، بہادر اور محب وطن شہری بنیں۔

ڈراموں کے ذریعے بچوں کو ملک سے محبت کرنا، نیکی اور بدی میں تمیز کرنا، اور با صلاحیت بننا سکھایا جاتا ہے۔ ایک مشہور ڈرامے ’اآئرس پھول‘ ایک پھول پری اور اس کے شوہر کی کہانی پیش کی گئی ہے جو مل کے ایک ظالم اور مغرور بلی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی سائنسی سرگرمیوں، استاد اور شاگرد کے تعلقات، ذہین بچوں کی کامیابی اور عظیم کارنامے انجام دینے کے خواہشمند بچوں کے بارے میں ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔

مشہور داستانوں اور پریوں کی کہانیوں پر مبنی ڈرامے، جنگ کے زمانے اور آزادی کے حصول کے بعد بچوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے، ان پر مبنی ڈرامے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ تھیٹر کا عملہ بچوں کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس کے لئے فنکار کنڈر گارٹنوں، اسکولوں اور بچوں کے مختلف اجتماعات میں جاتے ہیں تا کہ بچوں کی سوچ، گفتگو اور روئیے کا مشاہدہ کر کے اپنے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں۔ اس کے علاوہ موسیقی، رقص، گلو کاری، روشنیوں کا استعمال اور سیٹنگ کے ذریعے ڈراموں کو اور دلکش بنایا جاتا ہے۔

ہمیں بیجنگ میں بچوں کے فٹ بال اسکول کو دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ فٹ بال دنیا کے مقبول ترین کھیل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بد قسمتی سے ابھی تک پاکستان میں اس کھیل کے فروغ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ پہلے چین میں سترہ سال کی عمر میں بچوں کو فٹبال کھیلنے کی تربیت دی جاتی تھی لیکن اس اسکول میں چھ سات سال کی عمر کے بچوں کو فٹ بال کھیلنا سکھایا جاتا ہے۔ اس اسکول کے قیام کا خیال مسٹر لیو کو آیا جو ایک پرائمری اسکول میں ایتھلیٹکس انسٹرکٹر تھے۔

اس اسکول کے قیام کی خاطر انہوں نے مہینوں اپنی سائیکل پر بیجنگ کا دورہ کیا۔ 25 مارچ 1985 کو منہ اندھیرے ہی والدین اپنے بچوں کو داخلہ دلانے کے لئے اسکول کے گیٹ کے باہر موجود تھے۔ جب ہم وہ اسکول دیکھنے گئے تو وہاں اسی طلبہ زیر تعلیم تھے جو کہ اسکول میں ہی رہتے تھے۔ ان میں سے نصف کی پڑھائی کا انتظام اسی اسکول میں تھا جب کہ نصف اسکول کی دوسری شاخوں میں پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔ اس اسکول کا مقصد بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں فٹ بال کا بہترین کھلاڑی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو یہاں میوزک، فائن آرٹس اور ڈرامہ بھی سکھایا جاتا ہے۔ چینیوں کو امید تھی کہ اس اسکول کے بچے مستقبل میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ثابت ہوں گے۔

ہمارے قیام کے دوران بیجنگ کے مصروف ترین کاروباری علاقے میں ایک دکان ہوا کرتی تھی جس کا نام چنکولین فان تیان فودبو ٹوائے شاپ تھا۔ یہ بیجنگ کی واحد دکان تھی جو صرف کھلونوں کے لئے مخصوص تھی۔ اس میں تقریباً چار سو ٹوائے کاؤنٹرز تھے اور وہاں روزانہ سات ہزار گاہک آتے تھے۔ اس زمانے میں ایک چینی گھرانے میں ایک ہی بچہ ہوتا تھا۔ یہ ایک بچہ ظاہر ہے تنہا بچہ ہوتا تھا۔ والدین کام پر جاتے تھے، بہن بھائی کوئی ہوتا نہیں تھا۔ اس لئے کھلونے ہی ان کے دوست ہوتے تھے۔ 2013 ء میں دو بچوں کی اجازت دے دی گئی۔ اقتصادی خوشحالی کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ ہوا اور کھلونوں کی مانگ اور بڑھ گئی۔

آج کل چین کی کھلونا مارکیٹ میں انواع و اقسام کے کھلونے ملتے ہیں۔ ان میں روایتی پلش ٹوائز، تعمیراتی کھلونے، بورڈ گیمز، گڑیاں اور پزلز سے لے کر اعلیٰ درجے کے الیکٹرانک کھلونے، تعلیمی کھلونے اور دیگر کھلونے ملتے ہیں۔ ملکی کارخانوں میں تیار ہونے والے کھلونوں کے علاوہ بین ا لاقوامی برانڈز کے کھلونے بھی ملتے ہیں۔ اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجٹل میڈیا کی وجہ سے آن لائن سیلز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کھلونوں سے کھیلنے کے علاوہ چینی بچے تصویر کشی اور پتنگ اڑانے کے بے حد شائق ہوتے ہیں۔ بچوں کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائشیں بھی ہوتی ہیں اور اکثر بچوں کی تصاویر کی نمائش بیرون ملک بھی ہوتی رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •