سچ بولنا فحش گفتگو میں شمار ہوتا ہے


بازاروں میں، دکانوں پہ چاہے غیر محسوس طریقے سے ہاتھ لگانے والا عمل ہو یا ٹیوشن سینٹر میں سب بچوں کی چھٹی کے بعد آپ کو روک لیے جانا ہی کیوں نہ ہو۔ ہراسمنٹ ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ میں ہی اتنی کوئی حور پری رہ گئی تھی۔ کہ یہ سب میرے اکیلی کے ساتھ ہوا۔ یہ معاشرے کا وہ گندا چہرہ ہے جسے ہماری تہذیب و ثقافت کی جھوٹی نمائش کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ اگر میں نے اپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ ہوتے یہ سنا اور دیکھا نہ ہوتا تو مجھے یقین ہوتا کہ مجھ میں ہی کوئی خرابی ہو گی۔ مگر اب مجھے اس بات کا یقین ہے کہ مجھ میں سب سے بڑی برائی میرا عورت ہونا ہے۔ سینے پہ دو ابھار اور ایک عضو مخصوصہ جس کے حصول کی جنگ میں یہ معاشرہ ہر حد پار کرنے کو تیار ہے۔ چاہے میں زندہ رہوں یا مر جاؤں۔ کیونکہ قبر میں بھی محفوظ تو میں ہوں نہیں۔

مجھے بتایا جاتا ہے کہ سسر اپنی بہو کو ہراس کر رہا ہے۔ ہم عزت کے مارے چپ ہیں کیا کریں۔ حاجی نمازی بندے کی بات ہے کوئی مانے گا نہیں۔ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ دیور بھابھی کو ہراس کر رہا ہے۔ شوہر کو پتہ ہے مگر اس نے کہا ہے منہ بند رکھو ورنہ طلاق دے دوں گا۔ بچے بھی چھین لوں گا۔ کیا کروں۔ مجھے پتہ چلتا ہے کہ خالہ اور باپ کو سیکس کرتے بیٹی نے دیکھ لیا ہے۔ بیٹی پریشان ہے۔ باپ کا کیا امیج رہ گیا۔ بیٹی کی ذہنی کیفیت کیا ہے۔ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

خاوند دوسری عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ بیوی کو گھر میں لا کے بھول گیا ہے۔ اس کے بھی کچھ حقوق و فرائض ہیں ہیں۔ وہ بیویاں جب اپنے لیے کوئی ہوا کا جھونکا ڈھونڈتی ہیں تو ان کو بدچلن کہہ کے مار پیٹ کی جاتی ہے۔ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پہ یہ کہانیاں مجھے سننے کو ملتی ہیں۔ میں سنتی ہوں۔ مقدور بھر مشورہ دیتی ہوں۔ پھر ان لوگوں کی ایک درخواست ہوتی ہے۔ میم آپ ان پہ بھی لکھیں۔ ہم نہیں لکھ سکتے۔ ہم میں جرات نہیں۔ آپ بہت بہادر ہیں۔ آپ ان باتوں پہ بھی لکھیں۔

جب میں لکھتی یوں تو مجھے کہا جاتا ہے کہ یہ تم کیا لکھ رہی ہو۔ ایسا کہاں ہوتا ہے۔ یہ تو کمیاب کیسز ہیں۔ سارے معاشرے کی نمائندگی تھوڑی کرتے ہیں۔ تم پتہ نہیں کن لوگوں کو ملتی ہو۔ میں جانتی و سمجھتی ہوں کہ میرے متعلق لوگوں کی رائے اچھی نہیں۔ میرے حلقہ احباب میں شامل لوگ میری پیٹھ پیچھے ٹھٹھے اڑاتے ہیں۔ ان کے نزدیک علم وہ ہے۔ جو کتاب میں لکھا ہے۔ جو بڑے ناموں نے لکھا ہے۔ میں کیا کروں کہ جو تجربات مجھے زندگی نے دیے ہیں۔ ان کو بیان نہ کروں۔ کیا بڑے ناموں والے ادیب انہی معاشروں اسی دنیا کے نہ تھے؟ کیا انہوں نے سماج اور سماج میں بسنے والوں کے مشاہدے بیان نہیں کیے؟

میں تو ابھی تک بھی صرف دس فیصد سچ ہی بیان کر پاتی ہوں۔ سچ لکھنا ان واقعات کو ری کال کرنا آسان نہیں۔ جنہوں نے آپ کی شخصیت کی تعمیر و تخریب میں حصہ ڈالا ہو۔ اپنے بارے میں وہ لکھ دینا جسے چھپانے پہ سماج کی ساری طاقت لگ جاتی ہے آسان نہیں ہوتا۔ بہرحال میرے لیے تو اب یہ کچھ معنی نہیں رکھتا کہ میں جو لکھتی ہوں۔ یہ میرے خاندان میں پڑھیں گے تو کیا ہو گا۔ اس سے برا نہیں ہو سکتا جتنا برا ہو چکا ہے۔ رہ گیا معاشرہ تو اس کے کانوں کو اب ایسی چیخیں سننی پڑیں گی۔ جو عورتوں نے ان کی نام نہاد عزت کی خاطر دبا رکھی ہیں۔ ان سسکیوں کو باہر آنے دیں۔ جنہوں نے سانس کی فراہمی معطل کر رکھی ہے۔ ان چیخوں کو سننے کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ یہ اب تسلسل سے آئیں گی۔ میری جانب سے بھی اور میرے جیسی مزید عورتوں کی جانب سے بھی۔ ہم اب مزید نام نہاد عزتوں کی رکھوالی پہ نہیں بیٹھیں گی۔ عزت چاہیے تو عزت کیجئیے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2