سفر نامہ کوئٹہ: مری آباد، علمدار روڈ، کوہ مردار اور ہزارہ لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چچا کے گھر پہنچتے ہی گاڑی سے سامان نکالا اور کمرے میں رکھا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد سو گئے اور ہم نے کوئٹہ کو اگلی صبح بارہ بجے صبح بخیر کہا۔ چچی کی طرف سے بنایا گیا پر تکلف ناشتہ انتظار کر رہا تھا۔ اپنی والدہ کے بعد چچی دوسری خاتون تھیں جن کا ناشتہ مجھے بے حد لذیذ لگا۔ ناشتہ کے بعد اب سب سے بڑا، کام یہ تھا کہ کیا کیا جائے۔ چچا دفتر جا چکے تھے اور میرا چھوٹا بھائی میرے موبائل پہ پب جی کھیلنے کے لیے قابض ہو چکا تھا۔ ننھی عنایہ کے ساتھ میری دوستی مزید مضبوط ہو رہی تھی جب کے سنہیا میرے اندر کارٹون کرداروں سے بات کرنے کے لیے بے چین تھی۔

سنہیا کارٹون بہت زیادہ دیکھتی ہے۔ ایک دن میں نے اسے بتایا کہ میرے اندر سارے جن، بھوت اور کارٹون کریکٹر آتے ہیں جو میری آواز اور شکل میں بات کرتے ہیں۔ چھ سال کی سنیہا اس بات کو اس قدر سنجیدہ لے گئی کہ اگلے ایک مہینہ تک میں اس کے پسندیدہ کریکٹرز سے بات کروانے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ کبھی وہ میرے اندر آئے ڈورمون سے بات کرتی تو کبھی نوبیتا سے، کینڈی ڈول اور اس کی اس بات پر لڑائی ہوتی کہ پورے ملک کی رانی کون ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے جنگ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتیں تھیں۔ سنہیا نے اپنے کمانڈر (جو میرے اندر ہی ایک کریکٹر تھا) کو کئی بار حکم دیا کہ وہ فوج کو حکم دے اور کینڈی ڈول کا محل تباہ کر دیں اور ایسا کیا بھی گیا۔ کبھی سنہیا اپنے محل کی دیواریں مضبوط کروا رہی ہوتی تو کبھی نوبیتا اور شزوکا کو لڑوا رہی ہوتی، کبھی کبھی وہ اپنی اتحادی رانیوں کو دعوت پر بلا کر ننھی سی ریاست چلانے کے معاملات کھانے کی میز پہ طے کرتی تھی۔ یہ سب ورچوئل کریکٹرز تھے جو سنہیا سے میرے ذریعے بات کرتے تھے۔ ایک دو بار میں نے سنہیا کی قائد اعظم سے بھی بات کروائی جس میں تعلیم پر توجہ دینے کے ساتھ اچھی نصیحتیں بھی کیں جس کے بعد سنیہا نے کافی عرصہ سے بند پڑیں اپنی پلے گروپ کی کتابیں کھولیں۔ یہ سب سنہیا اور میرا کھیل تھا جسے وہ سب سے زیادہ اہمیت دینے لگی تھی یہاں تک کہ وہ ٹی وی پر کارٹون دیکھنے کی بجائے مجھ سے باتیں کرتی تھی۔ اس سب نے مجھ پر ظاہر کیا کہ سنہیا ذہین بچی ہونے کے ساتھ بہت جذباتی اور جنگجو مزاج رکھتی ہے۔ اسے دوسروں پر غالب رہنا پسند ہے۔

اگلے دو دن گھر میں چچی کے پر تکلف اور لذیذ کھانوں اور نیند کے مزے لیے۔ 14 اگست آیا تو چچا بھی فری تھے اور ایک لمبا ویک اینڈ بھی تھا ہم نے باہر جانے کا پلان بنایا کینٹ سے نکلنے کے بعد چچا نے علمدار روڈ پر رہائش پذیر اپنے دفتر کے ملازم احمد علی کو فون کیا جو ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے اور انتہائی ملنسار ہونے کے ساتھ چیزوں کو کافی کیلکولیٹڈ طریقے سے کرنے میں بھی ماہر تھا۔ میں اکثر ہزارہ کمیونٹی کی خبروں کو خاص توجہ دیتا رہا ہوں وہ چاہے معیتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کرنا ہو یا جلیلہ حیدر کی بھوک ہڑتال یا ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کر کہ مارنا۔ میرا ہمیشہ ان لوگوں کے لیے نرم گوشہ رہا ہے اس کی وجہ ان کا اقلیت ہونے کے ساتھ ان کا مظلوم ہونا بھی ہے۔ احمد علی کچھ ہی دیر میں تھرماس اور چائے کے کپ ہاتھ میں پکڑے آ گیا سلام دعا کے بعد اس نے پلان پوچھا اور پلان یہ بنا کہ کوہ مردار کے پہاڑ پر ہائیکنگ کرتے ہیں۔

چچا کے گھر سے کوہ مردار بالکل قریب نظر آتا ہے جیسے کینٹ کی دیوار کے پار چند منٹ کا فاصلہ ہو۔ کوہ مردار رات کو دلفریب منظر پیش کرتا ہے اس کی وجہ اس پہاڑ پر ہزارہ کمیونٹی کے گھر ہونا ہے جو رات کو روشن ہوتے ہیں اور پہاڑ پر ایسے لگتا ہے جیسے پورا ایک شہر آباد ہو۔ ہزارہ لوگ کوئٹہ میں زیادہ تر مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن میں رہتے ہیں۔ اور علمدار روڈ جو مری آباد اور کوہ مردار کی طرف جاتا ہے اپنے اندر ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ اس کی وجہ اس روڈ کے سامنے پہاڑ پر گھروں کا ہونا اور دائیں بائیں دکانوں میں ہزارہ لوگوں کی کثیر تعداد میں نظر آنا ہے۔ علمدار روڈ پر ہم نے ایک بیکری سے مختلف اقسام کے بسکٹ اور خطائی لیں۔ مری آباد میں ہر ہزارہ خوش نظر آ رہا تھا پاکستانی پرچم موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر نظر آرہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھی ایک ہزارہ لڑکی نے ہماری گاڑی پر سپرے بھی کیا جس کا ہم نے برا نہیں منایا۔

ہزارہ لوگوں کا شجرہ نسب منگولوں اور ترکوں سے جا ملتا ہے۔ تاریخ میں باقاعدہ کوئی ایسا ریکارڈ موجود نہیں مگر اس کے باوجود شکل وشبہات، جسمانی خد و خال اور ہڈیوں کے سٹرکچر سے یہ منگولوں کی نسل سے ہیں منگولوں نے فتوحات کے بعد ایران اور افغانستان کے مقامی لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات بنائے اور انہیں خطوں میں رہائش پذیر ہوئے جس سے ہزارہ کمیونٹی کا شجرہ نسب جا ملتا ہے۔ یہ کمیونٹی مسلکی لحاظ سے شعیہ ہے اور ہزارگی بولتے ہیں جو فارسی کے قریب ترین زبان ہے۔ مسلکی دہشتگردی سے محفوظ رہنے کے لیے امیر طبقہ تو ملک سے باہر چلا گیا ہے جبکہ غرہب طبقہ پہاڑوں پر آباد ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں تحفظ فراہم کرنے میں اپنا ممکن کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں اکثریت پڑھی لکھی ہے اور ان کے خاندانوں کے کافی لوگ بیرون ملک رہائش پذیر بھی ہیں۔

جب فون پر چچی کو پتہ چلا کہ ہم مری آباد جا رہے ہیں تو انہوں نے چچا کو بارہا روکا اور ان کی تشویش مجھے بار بار سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ آخر ایسا کیا ہے جو چچی اتنا پریشان ہو رہی ہیں۔ خیر احمد علی جو ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا اس نے ہمیں یقین دلایا کہ حالات ٹھیک ہیں اور کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ اس نے ایک مشہور ہوٹل سے چائے کا تھرماس بھرا اور ہم کوہ مردار پر ہائیکنگ کے لیے چل پڑے۔ خشک اور روکھا نظر آنے والا پہاڑ جس پر سبزہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی ہماری منزل تھا۔ گاڑی سیرگاہ کی پارکینگ میں کھڑی کر کہ ہم پیدل چل پڑے۔ پہاڑی سفر شروع کرنے سے پہلے ہمیں ایک سرسبز و شاداب درختوں میں گھرا ایک تفریحی مقام نظر آیا جس کو انسانی محنت سے آباد کیا گیا تھا۔ جہاں ہم نے تیر اندازی کی اور آگے پہاڑ کی طرف چل پڑے۔ مصنوعی طریقے سے بنائی گئی سیرگاہ میں سرسبز و شاداب درخت نہایت عمدہ احساس دلا رہے تھے۔ زیادہ تر درختوں کو ڈرپ ایریگیشن کے تحت پانی دیا جاتا ہے۔ سیرگاہ میں مختلف ٹریکس بنائے گئے تھے ہم ریڈ ٹریک پر چل پڑے اور ہائیکنگ شروع کی۔

کوہ مردار پہاڑ کوئٹہ کا چوتھا جبکہ بلوچستان کے چھٹے بلند ترین پہاڑ میں شمار ہوتا ہے۔ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں اس پہاڑ کی سطح سمندر سے بلندی 10446 فٹ ہے۔ سرسبز و شاداب انسانی کاوش سے اگائے گئے مصنوعی مرغزار سے گزرتے ہوئے ہم نے ہائیکنگ شروع کی۔ اور مسلسل چڑھائی چڑھتے رہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی مسلسل چڑھائی کے بعد ایک جگہ سستانے کے لیے بیٹھے۔ احمد علی جو مقامی باشندہ تھا بظاہر اس کی حالت ہم سے بھی غیر نظر آ رہی تھی۔ اس نے بیٹھے بیٹھے تجویز دی کہ چائے پینے کے لیے یہ جگہ مناسب ہے کیونکہ کوئٹہ شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ چوٹی تک پہنچنے کے لیے مزید پندرہ منٹ کی چڑھائی تھی اور سب کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ میں نے چاچو جان کو شوخی مارتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہم چوٹی تک جا سکتے ہیں تھوڑا سا ہی تو سفر رہ گیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میری دو سو چھ ہڈیوں نے میری زبان کے آگے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا اور مزید ایسی زبان درازی پر انہوں نے میرے جسم کے اندر سول نافرمانی کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا۔

چائے کے لیے ہم نے پہاڑ پر ہموار جگہ ڈھونڈ کر پڑاو ڈالا اور چند بڑے پتھروں کو ترتیب دے کر ان پہ علمدار روڈ پہ ایک بیکری سے لیے گئے انواع اقسام کے بسکٹ اور نان خطائی کے ساتھ چائے کے کپ رکھے۔ ہم نے شام کی چائے کا ماحول بنانے کی پوری کوشش کی اور یہ ماحول کسی بھی پرتکلف ماحول سے زیادہ حسین تھا۔ مغرب میں پہاڑوں کے بیچ غروب ہوتا سورج ایک دلکش منظر پیش کر رہا تھا اور وہ اس دلکشی کے اثرات پہاڑوں میں گھرے شہر پر بھی ڈالتے ہوئے الوداع کر رہا تھا۔ یہ دلفریب منظر میں نے اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھا تھا۔ سورج کے غروب ہوتے ہی میں نے سب سے کہا اب ہمیں واپسی کی راہ لینی چاہیے کیونکہ ڈھلوان کے ساتھ اندھیرے میں اترنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ سانپ بچھو کا خطرہ اپنی جگہ موجود تھا۔ لیکن چچا نے کہا اندھیرا ہونے دیں پھر چلتے ہیں۔ مجھے فوری ان کی اس بات پر تعجب ہوا کہ اندھیرے میں تو زیادہ خطرناک ہے پہاڑ سے اترنا مگر یہ بات مجھے کچھ ہی دیر میں سمجھ آ گئی۔

اندھیرا ہوتے ہی میں چچا کی جمالیاتی حس اور ذوق کا قائل ہو گیا۔ جیسے جیسے اندھیرا ہو رہا تھا کوئٹہ شہر میں روشنی بڑھتی جا رہی تھی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کالے سیاہ پہاڑوں کے بیچ جگنووں نے پر پھیلا کر پڑاو ڈال دیا ہو۔ پہاڑ پر بیٹھے اس دلفریب نظارے نے ایسے سحر میں مبتلا کیا کہ میں چند لمحوں کے لیے دنیا سے بیگانہ سا ہو گیا۔ احمد علی اور چچا کے اس دوران تبصرے بھی یاد نہیں مگر کوئٹہ شہر کا کوہ مردار سے رات کا نظارہ کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ اس خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے ہم نے پہاڑ سے اترنا شروع کیا احمد علی کے موبائل کی لائٹ نے ہمارا راستہ آسان بنایا اور ہم احمد علی کے پیچھے چلتے ہوئے کوہ مردار کی خوبصورت یادوں کے ساتھ اترے۔ احمد علی نے ہمیں بتایا کہ ہم تقریباً ساڑھے تین سو کیلوریز جلا چکے تھے۔ احمد علی کا وقت دینے پر شکریہ ادا کیا اور کوئٹہ کی مشہور داش کی روٹی ہوٹل سے لے کر گھر کی طرف چل پڑے۔ کینٹ میں مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو ایک بار پھر سے تعارف کروانا پڑا کہ ہم شریف النفس اور پر امن پاکستانی شہری ہیں۔ اس کے باوجود چچا کی خوش اخلاقی ہی ہمیشہ ہمارے کام آئی۔

کینٹ داخل ہونے کے بعد پہلا خیال یہی آیا کہ چچی سیخ پا ہوں گی کیونکہ انہوں نے کئی بار کال کی تھی اور چچا کو جانے سے روکا تھا۔ لیکن اس کے برعکس چچی نے ہمارے اہتمام میں کھانا بنایا ہوا تھا۔ ہم نے لذیذ کھانے سے خود کو سیر کیا۔ اور چچی کو کوہ مردار کی داستان سنانے لگے۔ کچھ دیر بعد سونے کے لیے میں اپنے کمرے میں گیا اور وہاں چچا کمپنی دینے آ گئے ان کے ساتھ ہمیشہ کی طرح دیر تک سیاسی و مذہبی بحث و مباحثے چلتے رہے۔ بہت سارے معاملات پر نظریاتی اختلاف کے باوجود چچا اور میں ہمیشہ نتیجہ خیز پوائنٹ پر پہنچتے ہیں اس کی وجہ دونوں کا اختلاف رائے کے باوجود صیح غلط کی تمیز کرنا ہے۔

کوہ مردار بظاہر ایک روکھا پہاڑ لگتا ہے جس پر نئے اور ان ٹرینڈ انسان کو ہائیکنگ بے معنی سی لگتی ہے۔ مگر کوہ مردار پر بیٹھ کر ہم اس روکھے پہاڑ کے اندر چھپی وہ خوبصورتی دیکھ سکتے ہیں جو زمین پر کھڑے نہیں دیکھی جا سکتی۔ چاندنی رات میں جب چاند اپنے پورے جوبن پہ اس پہاڑ کے اوپر نظر آتا ہے تو وہ دلکش نظارہ خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ یہ نظارہ چچا کے گھر سے بھی واضح نظر آتا تھا غور سے دیکھنے پر یہ نظارہ انسان کو فطرت کے بے حد قریب کرتا ہے ایسا، معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت ہم سے بات کر رہی ہو۔ علمدار روڈ پہ چیکینگ کے ناگوار احساس کے باوجود اس روڈ پر موجود لہراتے سبز ہلالی پرچم ہزارہ لوگوں کی محب وطنی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ اتفاق سے ہم چودہ اگست کو ہی کوہ مردار گئے۔ کرونا ایس او پیز کے باوجود ہزارہ لوگوں کا آزادی کے دن ولولہ اور جوش دیدنی تھا۔

……………………………………………………………..
پچھلی تحریر کا لنک
https://www.humsub.com.pk/347887/shami-khan-8/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •