کہاں گیا میرا لاہور؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور شہر نہیں ہمارا عشق ہے۔ اس عشق کا اندازہ انہی کو ہو سکتا ہے، جو 1970 ء سے قبل اس شہر میں بسے تھے۔ کیا خوبصورت شہر تھا۔ اتنی آبادی نہیں ہوتی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ نہیں ہوتے تھے، جن سے مل کر لوگ یہ نہیں کہتے تھے، لاہوریے بڑے چالاک ہوندے نیں۔

سمن آباد، شادمان، گلبرگ، والٹن، ماڈل ٹاؤن، زمان پارک اور جی او آر ہی پوش علاقے ہوتے تھے۔ ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں نہیں پھیلی تھیں۔ جو چند ایک نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنی تھیں، وہ واپڈا ٹاؤن، جوہر ٹاؤن اور ٹاؤن شپ تھیں۔ نہر کی سڑک چھوٹی ہوتی تھی، جا بجا انڈر پاس اور اوور ہیڈ نہیں ہوتے تھے، ٹھوکر نیاز بیگ کو لاہور کی ایک اور بتی چوک کو دوسری طرف سے لاہور کی حدود شمار کیا جاتا تھا۔

اس لاہور کو نظر لگ گئی۔ میاں صاحبان اس کے حکمران بن گئے۔ انہوں نے اس لاہور کو بدلنا شروع کر دیا۔ پہلے ایک دو انڈر پاس بنا کر سلسلہ مشرف دور میں منقطع ہو گیا تھا۔ مگر پرویز الہی نے بھی وہی روش اختیار رکھی۔ انڈر پاس، اور میاں صاحب کے رنگ روڈ والے منصوبوں پر کام شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج لاہور شاہدرہ، کالا شاہ کاکو اور رائیونڈ تک پھیل گیا ہے اور ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھر مار ہے۔

2008ء میں میاں صاحبان نے واپسی کے بعد تہیہ کر لیا کہ لاہور دا کچھ نہیں رہن دینا۔ سارا لاہور دو منزلہ کر دیا۔ ہر جگہ پل، انڈر پاس اور اوور ہیڈ بنا بنا کر ستیاناس کر دیا۔ شہر جس کی مال روڈ اور کینال روڈ پر ہوا کے ٹھنڈے جھونکے آتے تھے، اب گرد و غبار، بھیڑ اور افراتفری انتظار کرتی ہے۔

چند ایک سکول مشہور تھے، سینٹرل ماڈل سکول، کیتھڈرل سکول، کانونٹ آف جیسس اینڈ میری، سینٹ انتھونی، ایل جی ایس، سٹی سکول، شفاعت اور لکاس بہت بعد میں بنے اور مشہور ہوئے۔ ہر گلی محلے میں سکول کالج نہیں ہوتا تھا۔ چند ایک مشہور جامعات تھیں، جن میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، علامہ اقبال میڈیکل کالج اور پنجاب یونیورسٹی مشہور تھیں۔ این سی اے کے لوگ معاشرے کے باقی لوگوں کو خلائی مخلوق لگتے تھے۔ طالب علموں کے لئے بس کے کارڈ ہوتے تھے، یہ کارڈ دکھانے پر کرایہ آدھا ہوا کرتا تھا۔

شاپنگ کے لئے مال روڈ، انارکلی، پینوراما، فورٹریس اسٹیڈیم، لبرٹی، گلبرگ اور ایم ایم عالم مشہور تھیں۔ جگہ جگہ برینڈ کی آؤٹ لیٹ نہیں ہوتی تھیں۔ شاپنگ مال میں صرف پیس مشہور تھا۔ دیسی کھانوں میں لکشمی چوک، گوال منڈی اور پرانی انارکلی مشہور تھا۔ چنے بوٹے اور گوگے کے مشہور تھے۔ پوری حلوا، ٹبی گلی میں موجود شیریں محل کا مشہور تھا۔ پائے پھجے کے مشہور تھے۔ چند ایک ریسٹورنٹ مشہور تھے، جن میں لنگ فنگ، می کانگ، اور بندو خان تھے۔ مال روڈ پر چمن، گوگو اور یمی 36 مشہور آئسکریم شاپ ہوا کرتی تھیں۔ دہی بھلے نیلا گنبد اور ریگل چوک کے مشہور تھے۔ اچھے اور امپورٹڈ سگریٹ مال روڈ اور ریگل چوک پر ملتے تھے، پان مولا بخش کا مشہور تھا۔ اس زمانے میں ہر گلی کے نکڑ پر ریسٹورنٹ نہیں ہوتا تھا۔

کتابوں کے لئے فیروز سنز، وین گارڈ بک سٹور، علمی بک ڈپو اور انارکلی، اورئینٹل کالج اور نیلا گنبد کے اطراف میں لگنے والی استعمال شدہ کتابوں کا بازار کتنے خوبصورت لگتے تھے۔

الحمرا میں طارق عزیز شو ہوا کرتا تھا۔ سٹیج ڈرامے بھی اسی جگہ ہوتے تھے، جو کم از کم اتنے فحش نہیں ہوتے تھے امان اللہ، طارق جاوید، مستانہ، ببو برال، شوکی خاں مرحوم، باقی سٹیج ڈرامے پی ٹی والی روڈ کے اطراف ہوا کرتے تھے۔ سنیما گھر بھی اس علاقے میں کثرت سے موجود تھے۔ پیسہ اخبار میں اخبارات کی مارکیٹ تھی۔ ریگل چوک کے اطراف میں مشہور قومی اخبارات کے دفاتر موجود تھے۔

یہ ریگل چوک اور مسجد شہدا تمام سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتے تھے۔ باقی سیاسی اجتماعات ناصر باغ میں ہوا کرتے تھے۔ پاک ٹی ہاؤس ادبی محافل کا مرکز ہوتا تھا۔ دائیں یا بائیں بازو والے مختلف نقطۂ نظر رکھتے تھے، مگر عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔

وائے ایم سی اے کلب اور لاہور روٹری کلب بھی لاہور کی جان تھے۔ جم خانہ کلب، ماڈل ٹاؤن کلب اور گیریژن کلب مشہور ہوتے تھے۔

الیکٹرانکس اور ٹائپ رائٹرز کے لئے ہال روڈ مشہور تھے۔ موبائل فون اور کمپیوٹرز کے لئے حفیظ سینٹر بعد میں بنے۔ میکلوڈ روڈ موٹرسائیکل، منٹگمری روڈ گاڑیوں، بیڈن روڈ لائیٹوں اور برانڈرتھ روڈ موٹرز اور پائپ فٹنگ کے لئے مشہور تھیں۔

ٹریول ایجنٹ اور ایجنسیاں ایوان اقبال کے گرد و نواح میں موجود تھیں۔ فلیٹیز ہوٹل، اواری، پرل کانٹیننٹل اور ہالیڈے ان، بھی قرب و جوار میں موجود تھے۔ مال روڈ پر چیف کالج علیحدہ نظر آتا تھا۔ اس زمانے میں پاکستان میں ایرو ایشیا، بھوجا ائر بھی پی آئی اے کے ساتھ موجود تھیں، جو لاہور سے پرواز کرتی تھیں۔ لاہور کا ائرپورٹ پرانا ہوتا تھا۔ اس طرف جاتے ہوئے اکثر گرین بیلٹ پر گھڑیاں نظر آتی تھیں۔ ہر جگہ سکیورٹی بیریئرز نہیں ہوتے تھے۔ پنجاب اسمبلی، وزیراعلی سیکریٹیریٹ، گورنر ہاؤس اور دیگر اہم عمارتوں کے آگے خار دار تاریں اور بیریئرز نہیں ہوتے تھے۔ ٹی ڈی سی پی کی اپنی بسیں شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے منگل اور جمعرات کو لاہور سے روانہ ہوتی تھیں۔

گاڑیوں میں ایف ایکس، ڈائیوو، ڈاٹسن اور دیگر مشہور تھیں، ہونڈا موٹرسائیکل کی چھوٹی ٹینکی ہوا کرتی تھی، زیادہ تر لوگ یاماہا اور کاوا ساکی کی ٹریل استعمال کرتے تھے، جو ٹو سٹروک ہوتی تھیں۔ رکشوں میں میٹر ہوا کرتا تھا، تانگہ عام سواری ہوا کرتی تھی۔ لوگ زیادہ تر سائیکل کا استعمال کرتے تھے۔ ٹریفک پولیس کی وردی سفید ہوتی تھی، جب کہ دوسری پولیس کالے رنگ کی وردی میں ہوتی تھی، ناکے کم لگا کرتے تھے۔

ٹیلی فون ہر گھر میں نہیں ہوتا تھا، کسی ایک گھر کا ٹیلیفون تمام محلہ والے استعمال کرتے تھے، پی ٹی سی ایل کا مال روڈ والا دفتر ہی ایکسچینج ہوا کرتا تھا۔ لوگ پوسٹ آفس کی سروس کو استعمال کرتے تھے، اور اپنے عزیز و اقارب کو عیدین پر کارڈ اور تحائف بھیجتے تھے۔

ہر علاقے کا ایک چوکیدار ہوتا اور بلدیہ کی جانب سے ایک جمعدار بھی علاقہ کے لئے مختص کیا جاتا تھا۔ ہر علاقے میں بلدیہ کا دفتر موجود ہوتا تھا، جس میں چھوٹی سی لائبریری ہوتی تھی، نیز اس ہی دفتر میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ لاہور بلدیہ کا دفتر جو این سی اے کالج کے پہلو میں ہے، وہاں تمام ماحولیاتی آلودگی سے متعلق، نیز اسپرے اور باقی تمام معاملات پر درخواستیں دی جاتی تھیں۔ اسی جگہ سے پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ جاری ہوتے تھے۔

چند ایک ہی سرکاری اسپتال جن میں میو اسپتال، جنرل اسپتال، لیڈی ایچیسن، لیڈی ولنگٹن، اور بعد میں جناح اور شیخ زید شامل ہوئے، ان میں لوگ علاج کرواتے تھے، ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس کم ہی کرتے تھے۔ ہر انسان صبر و شکر کی زندگی گزارتا تھا، ہوس، لالچ، طمع اور دیگر شیطانی خواہشات انسانوں پر حاوی نہ تھیں۔ مسجد مسالک میں نہیں بٹی ہوئی تھیں۔ علاقے کے بڑے بزرگ لوگ مسجد کا انتظام اور امور دیکھا کرتے تھے، مسجد میں ہی زکات کمیٹی ہوتی تھی، جو غربا اور مساکین کی امداد کرتی تھی۔

دریائے راوی میں کسی حد تک پانی موجود ہوتا تھا۔ راوی گندا نالہ نہیں محسوس ہوتا تھا، دریا ہی لگتا تھا۔ بارہ دری تک کشتی چلا کرتی تھی۔

ان تمام ماضی کی یادوں کو جب یاد کرتا ہوں، تو دل اداس ہو جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے کئی یادیں اب بھی زندہ ہیں مگر رونق ختم ہو گئی ہے۔ ان حکمرانوں کی نااہلی اور عاقبت نااندیشی کا نقصان لاہور اٹھا رہا ہے، ان تمام چودھریوں اور شریفوں سے شکایت ہے کہ آخر کیوں، لاہور کو تباہ کیا۔ اس پر اتنے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود عوام کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ لاہور، لاہور نہیں لگتا۔ ان عظیم رہنماؤں نے کوئی نیا شہر نہیں بسایا، بلکہ لاہور کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس میں مکمل کامیاب ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •