اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھوٹا سا خاندان ہے اردو ادب کا اور
اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں یار
(عمیر نجمی)

آج اردو کے مایہ ناز شاعر اور ادیب پروفیسر مظفر حنفی کے انتقال کا سن کر دل بیٹھ گیا۔ چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں، سلسلے وار۔ 2020 ء اردو زبان و ادب پر خصوصی طور پر بھاری پڑ رہا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے آفتاب و ماہتاب بھاگتے لمحوں کی نذر ہو گئے۔ تاریکی کے اس ماحول میں مظفر حنفی کا بہت غنیمت تھا مگر مشیت ایزدی سے کس کو مفر ہے۔ ہر چند کہ وہ عمر کی اس منزل پہ پہنچ چکے تھے، جہاں سے آگے ہر نفس غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

پروفیسر مظفر حنفی کو اگر ایک عہد ساز شخصیت کہا جائے، تو بے جا نہ ہو گا۔ وہ ہمارے ادبی منظر نامے کے ایسے بزرگ شاعر تھے، جنھوں بیسویں صدی کی تمام ادبی اتھل پتھل کو نہ صرف دیکھا بلکہ کہیں نہ کہیں اس میں اپنی حصے داری بھی درج کرائی۔ ان کی زندگی کا ابتدائی ادب، جہاں ترقی پسند تحریک سے عبارت ہے، وہیں بعد میں جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے جہانوں سے بھی وہ گزرے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی پوری زندگی جہد مسلسل میں گزری اور انھوں نے ادب اور سماج میں اپنا ایک نمایاں مقام بنایا۔

پروفیسر مظفر حنفی کا اصل نام محمد ابو المظفر، اور تخلص مظفر تھا۔ وہ یکم اپریل 1936 ء کو کھنڈوہ (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن ہسوہ، فتح پور (یوپی) ہے۔ 1960 ء میں مدھیہ پردیش محکمۂ جنگلات میں ملازم ہو کر بھوپال منتقل ہو گئے۔ اسی ملازمت کے دوران میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے اور بھوپال یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع ”شاد عارفی شخصیت اور فن“ تھا۔ انھیں شاد عارفی کا شاگرد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔

1976 ء میں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں ریڈر کی حیثیت سے درس و تدریس سے وابستہ ہوئے۔ 1989 ء میں انھیں کلکتہ یونیورسٹی میں ”اقبال چیئر“ پروفیسر کی حیثیت سے فائز کیا گیا۔ ان کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں، مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے پرویز شاہدی نیشنل ایوارڈ، غالب انسٹی ٹیوٹ نے کل ہند فخر الدین علی احمد ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید، سب رنگ اکیڈمی، بھوپال نے آفاق احمد کل ہند اعزاز، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی نے سراج میر خاں سحر صوبائی اعزاز اور دہلی اردو اکادمی نے مجموعی شعری خدمات کے اعزاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش، دہلی، بہار، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش کی اکادمیوں نے تقریباً پینتیس کتابوں پر انعامات سے نوازا۔

پروفیسر حنفی نے اردو ادب کے مختلف موضوعات پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ ان کی اب تک تقریباً سو کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ان میں تحقیق و تنقید اور ترجمے کے تعلق سے بھی کتابیں ہیں۔ افسانوی اور شعری مجموعے بھی ہیں۔ انھوں نے اپنے استاد شاد عارفی کے شعری سروکار پر بھی اہم اور مدلل کام کیا۔ انھوں نے ادب اطفال کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ان کی بنیادی شناخت شاعری ہے۔ شاعری میں انھوں نے تجربات بھی کیے اور اپنے مشاہدات اور علم کی روشنی میں نئے چراغ بھی جلائے۔ ان کے یہاں نئے مضامین اور نا مانوس الفاظ کا بھی بہترین استعمال ہوا ہے۔ بقول ضیا فاروقی:

”مظفر حنفی نے شعوری طور پر وہ راستہ اختیار کیا جس میں تجربات سے زیادہ ترجیحات کو دخل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں روایتی اسالیب کو مسمار کیے بغیر، جو جدید تعمیرات ہوئی ہیں، اس نے جدیدیت کی تفہیم کو ہمارے لیے آسان بنا دیا ہے۔“

روز مرہ کے روایتی الفاظ میں فکر کی وسعت کی یہ مثال بھی دیکھیے :
ترے سوا جو کوئی مرے دل کو چھیڑتا ہے
عجیب ساز ہے آواز ہی نہیں دیتا
تھوڑی سی روشنی ہے اسے جو بھی لوٹ لے
جگنو میاں کے پاس خزانہ تو ہے نہیں
پلکیں بچھی ہیں میری ہر اک موج آب میں
اس پالکی پہ چاند کرن میرے ساتھ آ
بازاروں میں کچھ آوازیں تھوڑی رونق جیبوں میں
دروازے سے پوچھ رہا ہوں کیا ویرانی گھر میں ہے


دودھ میں تو شکر ہی گھلے گی میاں
ریت اس میں ملا دی گئی ہے تو کیا
صحرا میں بگولوں کی طرح ناچ رہا ہوں
فطرت سے میں بادل تھا برسنے کے لیے تھا
مدد مدد کوئی طوفان کوئی موج بلا
ہمیں بچاؤ کہ ہم ناخدا کی زد پر ہیں
طوفاں سے کیا باتیں کی ہیں پیارے ماجھی سچ بتلانا
دریا کو گروی رکھا ہے یا ساحل کو بیچ دیا ہے
شریف خون اگر مختلف ہوا کرتا
تو اسپتال میں بچے بدل دیے جاتے

یہ اور اس طرح کے بہت سے اشعار ہیں جن میں تازگی بھی ہے، تنوع بھی اور برجستگی بھی۔ مظفر حنفی کی نظمیں بھی عصری حسیت اور معنی کی ست رنگی سے عبارت ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی ایک نظم جس کا عنوان ہے ”نیچے کی اور“ یہاں پیش ہے :

وقت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہوں
میرے چاروں اور گدلی لجلجی یادوں کی تہہ ہے
سر پہ بیتی عمر کے ٹوٹے ہوئے لمحوں کا بوجھ
اس سفر کی ابتدا کیسے ہوئی تھی
یہ خبر مجھ کو نہیں
یاد بس اتنا ہے
میرے والد مرحوم کچھ اوپر ہی مجھ سے رہ گئے تھے
انتہا کیا ہے سفر کی
کون جانے
سانس کا ہر تازیانہ
مجھ کو نیچے اور نیچے کی طرف ہی کھینچتا ہے
جانے میں تہہ تک بھی پہنچوں گا
کہ والد کی طرح
اپنے بچوں کو بھی دھنسنے کے لیے کہہ جاؤں گا
وقت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہوں
مظفر حنفی کی نظموں میں ایک جہاں آباد ہے ان کی نظمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر متاثر کرتی ہیں۔ پروفیسر مظفر حنفی کی قلمی نگارشات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •