عدم برداشت: سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی گراوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بھی کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو اس میں عدم برداشت اور اس کے رویے تہذیب و شائشتگی ’اخلاق و کردار اور صبر و عمل سے عاری ہو جاتے ہیں لہجوں اور چہروں سے کرختگی کے تاثرات نمایاں ہوتے ہیں تعمیری سوچ کے بجائے تخریبی سرگرمیاں ان کا محور بن جاتی ہیں۔ وطن عزیز میں عدم برادشت کا یہ عالم ہے کہ کسی کی ذرا سی بات پر باہمی احترام‘ رواداری ’صلح جوئی اور امن و آشتی کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کے باعث تعصب‘ نفرتوں ’قتل و غارت گری اور بربریت کے ایسے سانحات جنم لے رہے ہیں جو ایک مہذب معاشرے کی نفی کرتے ہوئے زہر قاتل بنتے جا رہے ہیں۔

معاشرہ اس وقت زمانہ عدم برداشت اور سیاسی و معاشرتی اخلاقی اقدار سے عاری ہوتا جا رہا ہے لوگوں کے رویوں میں صبر و و تحمل اور قوت برداشت نہیں ہے رویوں میں شدت پسندی اور عدم برداشت اس حد تک غالب آچکے ہیں کہ ہمارے رویوں اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کے باعث احترام آدمیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ایک وقت تھا ج ب مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے درمیان مناظرے اور مباحثے ہوا کرتے تھے لوگ ایک دوسرے کی بات کو تحمل مزاجی کے ساتھ سنتے‘ حسن ادب کے ساتھ اختلاف رائے بھی کرتے لیکن احترام آدمیت کا وقار کبھی بھی اپنے رویوں اور اخلاقی قدار کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کھونے نہیں دیا۔

اب جو موجودہ صورتحال ماضی کی نسبت بالکل بر عکس ہے آج لوگ اظہار رائے کا سلیقہ بھول چکے ہیں آج کے مباحثوں میں شدت پسندی ’جارحانہ پن‘ غصہ ’عدم برداشت اور گالی گلوچ کا کلچر نمایاں ہے اب لوگ نظریا ات کا جواب ذاتیات پر تنقید سے دیتے ہیں۔ عدم برداشت کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہمہ جہت ہیں بہت سے نفسیاتی‘ اخلاقی ’معاشی اور سماجی مسائل عدم برداشت کو جنم دے رہے ہیں ایک معاشرے میں مختلف مزاج کے حامل افراد بستے ہیں کچھ لوگ جذباتی اور کچھ قدرے معتدل مزاج رکھتے ہیں اکثر یہ ہوتا ہے کہ جذباتی لوگ ذرا سی بات پر سیخ پا ہو جاتے ہیں اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں جس کے باعث ردعمل کے طور پر فریق مخالف کے رویوں سے اٹھنے والی چنگاری اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈالتے ہوئے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماہرین کی رائے میں یہ منفی رویہ دراصل ہمارے اندر پوشیدہ مایوسی سے جنم لیتا ہے ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ ہمارے نوے فیصد مسائل کی وجہ عدم برداشت ہے کیونکہ اس سے بہت سی ذہنی‘ نفسیاتی ’اخلاقی اور سماجی قباحتیں جنم لیتی ہیں۔ ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کی شرح میں بتدریج اضافے کے رجحان کی وجہ معاشرتی استحصال‘ انصاف کی عدم دستیابی اور لاقانونیت کی وجہ سے ہے۔ ملک میں عدم برداشت کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کا آغاز اپنی ذات سے کریں ایک مثبت رویہ بہت سے مثبت رویوں کو جنم دیتا ہے اپنی رائے کو حتمی سمجھنا ’بے جا تنقید‘ بے مقصد اور لاحاصل بحث اور طعن و تشنیع کو ترک کر کے ہم معاشرے سے عدم برداشت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق کو اشرف المخلوقات کا مرتبہ حاصل ہے وہ محض اس لئے کہ ابن آدم چرند ’پرند اور درند سے زیادہ عقلمند ہے اس میں باہمی ہمدردی‘ دکھ درد اور وعدوں کی پاسداری کا احساس زیادہ پایا جاتا ہے لیکن آج کے جدید ترین ترقی یافتہ دور میں اس اشرف مخلوق کی عدم برداشت اور اخلاقی پستی کے باعث یہ تما م اشرف صلاحیتیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں جھوٹ ’دھوکہ‘ مکاری ’فتنا پن‘ حرام کی کمائی ’اور عیاشی اس کی فطرت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

ملکی معاشرہ کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا لیکن آج یہی معاشرہ بد ترین تہذیبی و اخلاقی قدروں کی پامالی سے گزر رہا ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار کی پستی اور ہمارے رویوں کی شدت پسندی نے اسے جنگل راج میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس معاشرے میں جو ہولناک‘ دہشتی و حیوانی جنسی ہوس کے خوفناک واقعات اس پاک سر زمین کے جھومر کو داغدار کر رہے ہیں اس سے انسانیت درگو ہوتی جا رہی ہے۔

ملکی دھرتی پر ایسے ایسے بدترین حیوانی واقعات جنم لے رہے ہیں جن کو تحریر کرتے ہوئے ہاتھوں کی انگلیاں کانپ اٹھتی ہیں الجھن سے ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے جس معاشرے میں حیوانیت کے ہاتھوں سر بازار بنت حوا کی لٹتی عصمتوں پر کربناک آہیں اور انصاف کی دہائیاں قانون کو بیدار نہ کر سکیں وہاں کے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی شے اخلاق ہے اچھے اور عمدہ اوصاف وہ کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود ’استحکام اور بقاء کا انحصار ہے معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی‘ صحت مند اور باصلاحیت قوم وجود میں آتی ہے۔

جس معاشرے میں اخلاقی قدریں زوال پذیر اور عدم برداشت کے رجحان میں اضافہ ہو اس معاشرے کو یہ وبا گھن کی طرح کھا جاتی ہے اور اس معاشرے میں کبھی اجتماعی رواداری ’مساوات‘ اخوت و باہمی بھائی چارے کو فروغ میسر نہیں آتا۔ وطن عزیز کا معاشرہ اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت کے باعث تنزلی کی جانب گامزن ہے اخلاقی پستی اور عدم برداشت معاشرے میں خطرناک رجحان کی نشاندہی کر رہی ہے اور یہ فکر مند اسباب معاشرے کے وجود ’استحکام اور بقاء کے لئے زہر قاتل ہیں۔

ملک کی سیاست اور سیاستدانوں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے لیں تو ان کے اخلاق اور عدم برداشت کا پیمانہ یہ ہے کہ جو پارلیمان ملک و ملت کے مفادات‘ ملکی سلامتی اور اس کی ترقی کے ضامن سمجھے جاتے ہیں وہاں ہمارے ملکی سیاستدان اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں عوام کے منتخب نمائندوں کے اخلاقیات سے عاری اسکینڈلز اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور ٹی وی نیوز چینلز پر نشر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے قبیح چہروں کے ساتھ معاشرے میں اپنا سیاسی چورن بیچتے نظر آتے ہیں۔

جس معاشرے کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہو وہ معاشرے کیسے ترقی اوراستحکام کا ضامن بن سکتا ہے ملکی معاشرے کی قیادت کبھی بھی اخلاقی قدروں کی پامالی اور رویوں میں عدم برداشت کے ساتھ ملکی ترقی و خوشحالی کی معاشرے میں بسنے واے افراد کو ضمانت فراہم نہیں کر سکتی اخلاقی زوال اور عدم برداشت کے خاتمہ کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے جب تک ہم اپنی اخلاقیات کو درست نہیں کر لیتے اور اپنے رویوں مثبت تبدیلی نہیں لاتے تب تک ہم کبھی بھی دنیا کے مہذب معاشروں کی صف میں جگہ بنانے کے اہل نہیں ہو سکتے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر مثال بنتے ہوئے اس کی شروعات کرنے کی سعی کرنی چاہیے جس میں میڈیا اور ملکی سیاستدان اپنے عمل سے معاشرے میں اس خطرناک رجحان کے خاتمہ کے لئے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے عدم برداشت کے رویوں کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •