عہد حاضر کی معتبر شاعرہ نصرت مہدی

اردو شعریات کی طویل رہ گزر پر خواتین کی نمائندگی یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان شاعرات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف یہ کہ نسائی جذبات و احساسات کو رقم کیا بلکہ اپنے مخصوص لہجے کو بھی اس کے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ برتا۔ اس کا اثر بعد میں آنے والی شاعرات نے بھی قبول کیا اور پوری خود اعتمادی کے

Read more

سہ ماہی اثبات کا تازہ شمارہ: ایک جائزہ

اشعر نجمی ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ ایک غیر معمولی ذہن کے مالک ہیں۔ وہ ان لوگوں میں نہیں ہیں جو گنبد بے در میں بیٹھ کر اپنی ہی صدا کے اسیر رہتے ہیں بلکہ ان کی نگاہ زبان و ادب کے عالمی منظر نامے پر گہری ہے ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس اشعر نجمی جیسا غیر معمولی فکر رکھنے والا مدیر اور اثبات جیسا معیاری جریدہ ہے۔ اثبات

Read more

داستان رنگ: ایک اجمالی جائزہ

بیسویں صدی نے اردو افسانے کے کئی ادوار کو جنم بھی دیا اور پروان بھی چڑھایا۔ یہاں وہ افسانہ نگار بھی آئے جنہوں نے روایتی بیانیے کے زیر اثر زندگی کے تلخ و شیریں مناظر کو کہانی کا پیرہن عطا کیا اور وہ بھی جنہو ں نے افسانے کو ابہام اور چیستاں بنا دیا۔ لیکن اسی صدی کے ربع آخر میں وہ دور بھی آیا جس میں بیانیہ اپنی پوری تب و تاب کے ساتھ کہانی میں جلوہ گر ہوا۔

Read more

مالک اشتر کی جنوں پاشی

فیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے

Read more

آنکھوں کے اس پار: فوزیہ رباب کی شاعری

اردو شاعری کے وسیع تر کینوس پر ادھر دو دہائیوں میں جن شاعرات نے اپنے شعری وجود سے فضا کو مشک بار کیا ہے، ان کی فہرست اگر چہ طویل ہے، پھر بھی کچھ شاعرات ایسی ہیں، جنہوں نے اپنی فکری توانائی سے غزل کے وہ رنگ بکھیرے ہیں، جو ہمارے عہد کی یقیناً شناخت کہے جا سکتے ہیں۔ ان شاعرات کے بنائے ہوئے راستے پر جن شاعرات نے آگے کا سفر طے کیا، ان میں ایک نمایاں نام فوزیہ رباب کا بھی ہے۔ فوزیہ رباب کا تعلق گجرات سے بھی ہے اور یو پی سے بھی، کہ ان کی تعلیم و تربیت احمد آباد میں ہوئی اور زندگی کا اعتبار بجنور، یوپی میں حاصل ہوا۔ ان کے شوہر کا تعلق روہیل کھنڈ کے اسی دیار سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب معاشی ضرورتوں کے تحت یہ ایک عرصے سے گوا میں مقیم ہیں۔

جہاں تک فوزیہ رباب کے شعری سروکار کا تعلق ہے میرے پیش نظر ان کا شعری مجموعہ ”آنکھوں کے اس پار“ ہے، جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے لگتا ہے کہ انہوں اس میدان میں پوری سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا ہے اور سنبھل سنبھل کر یہاں تک کا سفر طے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا تعلق یقیناً ایک علمی و ادبی گھرانے سے رہا ہے۔ ویسے ادھر جو شاعری کے نئے رجحانات ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان کی تازگی اور لفظوں کے نشست و برخاست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاعری اس شاعری سے کسی حد تک الگ ہے، جسے ہم بیسویں صدی کے ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی چھوڑ آئے۔

Read more

اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں

چھوٹا سا خاندان ہے اردو ادب کا اور

اک ایک کر کے سارے بڑے جا رہے ہیں یار

(عمیر نجمی)

آج اردو کے مایہ ناز شاعر اور ادیب پروفیسر مظفر حنفی کے انتقال کا سن کر دل بیٹھ گیا۔ چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں، سلسلے وار۔ 2020 ء اردو زبان و ادب پر خصوصی طور پر بھاری پڑ رہا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کتنے آفتاب و ماہتاب بھاگتے لمحوں کی نذر ہو گئے۔ تاریکی کے اس ماحول میں مظفر حنفی کا بہت غنیمت تھا مگر مشیت ایزدی سے کس کو مفر ہے۔ ہر چند کہ وہ عمر کی اس منزل پہ پہنچ چکے تھے، جہاں سے آگے ہر نفس غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

Read more

شعر و ادب کے سرخیل: ڈاکٹر مختار شمیم

چمنستان سرونج کے جن پھولوں کی مہک سے جہان اردو مہک رہا ہے ان میں ایک معتبر نام ڈاکٹر مختا ر شمیم کا بھی ہے۔ ڈاکٹر مختار شمیم در س و تدریس کے پیشے سے ہمیشہ وابستہ رہے اور ہر چند کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل کے عہدے سے سبکدوش ہوچکے ہیں لیکن آج بھی میدان عمل میں نہ صرف یہ کہ سرگرم ہیں بلکہ نو واردان ادب کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے حمیدیہ کالج

Read more

اردو شاعری اور ہماری جنگ آزادی

اردو زبان و ادب خصوصاً شاعری اپنے ابتدائی دور سے ہی جہاں پیار و محبت کے نغمے سناتی رہی وہیں انتشار و احتجاج کے رنگ بھی اس میں نمایاں رہے۔ دراصل زبان کوئی بھی ہو اس کا ادب ہمارے جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے چنانچہ یہاں بھی اس وقت جب مطلق العنان بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی شعرا نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر احتجاج کی آواز بلند کی اس کی ایک بڑی مثال جعفر زٹلی

Read more

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

جنازے پر میرے لکھ دینا یارو محبت کرنے والا جا رہا ہے دنیا میں ہر دور میں ایسے شاعر پیدا ہوئے ہیں جو اپنی ایک مخصوص چھاپ ادب اور سماج پر چھوڑ گئے۔ یہ سلسلہ میرؔ و غالبؔ سے لے کے جگر ؔ تک اور جگرؔ سے لے کے راحت اندوری تک سب پر صادق آتا ہے۔ راحت اندوری جیسا زندہ دل اور بے باک شاعر کورونا جیسی مہلک بیماری کی لپیٹ میں آکر آج 11، اگست، 0202 ء کو

Read more

خالد محمود اور شعر زمین

خالد محمود ہمارے سرونج کے وہ گل سرسبد ہیں جن کی دلکشی اور مہک پوری اردو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بحیثیت صدر شعبۂ اردو سبک دوش ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مکتبہ جامعہ کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے، دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئر مین رہے اور آج بھی بہت سے ادبی اور سماجی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان کی اب تک تقریباً دو درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔

Read more