اردو شاعری کے وسیع تر کینوس پر ادھر دو دہائیوں میں جن شاعرات نے اپنے شعری وجود سے فضا کو مشک بار کیا ہے، ان کی فہرست اگر چہ طویل ہے، پھر بھی کچھ شاعرات ایسی ہیں، جنہوں نے اپنی فکری توانائی سے غزل کے وہ رنگ بکھیرے ہیں، جو ہمارے عہد کی یقیناً شناخت کہے جا سکتے ہیں۔ ان شاعرات کے بنائے ہوئے راستے پر جن شاعرات نے آگے کا سفر طے کیا، ان میں ایک نمایاں نام فوزیہ رباب کا بھی ہے۔ فوزیہ رباب کا تعلق گجرات سے بھی ہے اور یو پی سے بھی، کہ ان کی تعلیم و تربیت احمد آباد میں ہوئی اور زندگی کا اعتبار بجنور، یوپی میں حاصل ہوا۔ ان کے شوہر کا تعلق روہیل کھنڈ کے اسی دیار سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب معاشی ضرورتوں کے تحت یہ ایک عرصے سے گوا میں مقیم ہیں۔
جہاں تک فوزیہ رباب کے شعری سروکار کا تعلق ہے میرے پیش نظر ان کا شعری مجموعہ ”آنکھوں کے اس پار“ ہے، جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے لگتا ہے کہ انہوں اس میدان میں پوری سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا ہے اور سنبھل سنبھل کر یہاں تک کا سفر طے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا تعلق یقیناً ایک علمی و ادبی گھرانے سے رہا ہے۔ ویسے ادھر جو شاعری کے نئے رجحانات ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان کی تازگی اور لفظوں کے نشست و برخاست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاعری اس شاعری سے کسی حد تک الگ ہے، جسے ہم بیسویں صدی کے ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی چھوڑ آئے۔
Read more