کتاب کی موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس امر میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری ترجیحات کا کبھی تعین ہو ہی نہیں پایا۔ مسائل جنم لیتے اور بحران کی شکل اختیار کرتے رہے لیکن ہم نے کبھی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نتیجہ یہ کہ ہم پٹری سے اتری اور جنگل میں بھٹکی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض باتیں ایسی ہیں جو صدیوں سے ایک مسلمہ اصول کی شکل اختیار کر چکی ہیں اور مہذب دنیا کا ہر با شعور ملک انہیں اپنی سب سے بڑی ترجیح بناتا ہے۔ ان میں سے ایک ”تعلیم“ ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تعلیم ان غیر اہم موضوعات میں شامل ہے جو ترجیحات سے یکسر خارج ہیں۔

گزشتہ روز پاکستان کے ایک بڑے پبلشر سے ملاقات کے دوران میں نے پوچھا کہ کون سی نئی کتابیں شائع ہوئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اب کتاب ہمارے معاشرے سے خارج ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایک بڑا ڈیپارٹمنٹل سٹور کھول لیا ہے اور طباعت کا کام صرف سکولوں کی نصابی کتابوں یا بچوں کی درسی ضروریات تک محدود ہو گیا ہے۔ یہ جان کر مجھے نہایت افسوس ہوا۔ اگرچہ درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے کے باعث مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ مطالعے کا ذوق بڑی تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور کتاب اب ہماری زندگی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کے درجنوں اسباب ہیں۔ سب سے بنیادی بات تو یہ ہے کہ اب گھروں میں بچوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کی روایت باقی نہیں رہی۔ بچے اپنے والدین کو بھی دیکھتے ہیں جن کے ہاتھوں میں انہیں کتاب نظر نہیں آتی۔ بیس تیس برس پہلے تک گلی محلوں میں دکان نما لائیبریریاں قائم تھیں۔ کبھی انہیں ”آنہ لائبریری“ کہا جاتا تھا۔ بچے کہانیوں کی کتابیں لیتے اور ایک ہی دن میں کتاب فارغ کر کے نئی لے آتے تھے۔ یہ سلسلہ بھی باقی نہیں رہا۔ سکولوں میں بھی بچوں کو صرف نصابی سرگرمیوں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کو ہم نے زیادہ سے زیادہ نمبر اور گریڈ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل کر رکھا ہے۔ ان کی لیاقت اور قابلیت کا انحصار انگریزی، ریاضی، سائنس، اردو یا ایسے ہی مضامین میں حاصل کردہ نمبروں پر ہوتا ہے اور بس۔ شاید ہی کسی سکول میں اس کو بھی بچے کی استعداد کی بنیاد بنایا جاتا ہو کہ اس نے کون سی کتابیں پڑھیں۔ ستر فی صد سے زائد بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں جہاں لائبریری نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہوتی، کتاب کہاں سے آئے گی۔ یہی حال، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ جہاں اچھی خاصی لائبریریاں تو موجود ہیں۔ طلبہ و طالبات بھی دکھائی دیتے ہیں جن کو اکثر اپنے کسی مقالے کی تیاری کے لئے تحقیقی مواد درکار ہوتا ہے۔ شوق مطالعہ رکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے۔

ایک بڑی وجہ سیل فون بنا۔ گھروں میں اب بچوں کی دلچسپی کتاب سے نہیں، کارٹون یا گیمز سے ہے جو وہ لے کے بیٹھ جاتے ہیں اور مائیں بھی اسی سے سکون محسوس کرتی ہیں کہ بچے بہلے رہیں۔ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی فون یا آئی پیڈ سے اپنی دلچسپی اور تفریح کا سامان مل جاتا ہے لہذا کتاب کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ کسی کو شوق ہو بھی تو وہ آئی۔ پیڈ یا سیل فون سے ہی کوئی ”ای۔ بک“ پڑھ لیتا ہے۔ ایک اور وجہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات، دوا دارو اور آٹے دال جیسی چیزوں کا حصول مشکل ہو جائے تو کتاب کون خرید پائے گا۔ آسودہ حال لوگوں کو بھی کتاب سے کہیں زیادہ اچھے گھر، اچھی گاڑی، اچھی گھڑی، اچھا موبائل اور اچھے لباس کی طلب ہوتی ہے۔ کتاب سے انہیں کچھ واسطہ ہی نہیں رہا۔

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود، مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ دنیا بھر کے دو سو سے زائد ممالک میں سب سے زیادہ کتاب خوانی والا ملک بھارت ہے۔ جی ہاں۔ ہمارے پڑوس کا ملک جس کے سماجی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل کم وبیش ہمارے جیسے ہی ہیں اور جہاں خواندگی کی شرح بھی 75 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ چند دن پہلے مجھے ورلڈ کلچر سکور نامی ادارے کی 2013 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ پڑھنے کا موقع ملا۔ مرتب کردہ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی ہر ہفتہ 10۔ 42 گھنٹے مطالعہ کتب کو دیتے ہیں۔ بھارت کے بعد تھائی لینڈ، چین اور فلپائن کا نمبر آتا ہے۔ مصر اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ تیس ممالک کی اس فہر ست میں مصر کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، اور انڈونیشیا کے اسلامی ممالک شامل ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان کا کوئی نام و نشان نہیں۔ پتہ یہ چلا کہ سب سے زیادہ کتابیں چین میں شائع ہوئیں۔ جن کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ سالانہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ ہے جہاں شائع ہونی والی کتابوں کی تعداد تین لاکھ سالانہ سے زائد ہے۔ ان کے بعد برطانیہ، جاپان، روس، جرمنی کے نام آتے ہیں۔ بھارت میں سالانہ ایک لاکھ کتب شائع ہوتی ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان پچاسویں نمبر پر ہے جہاں صرف 3811 کتب شائع ہوئیں۔ پاکستان سے دو درجے نیچے افغانستان ہے جہاں اس برس 2795 کتابیں چھپیں۔ یاد رہے کہ ان کتب کا نصاب یا درس و تدریس سے کچھ تعلق نہیں۔ یہ کتابیں علم و ادب، تاریخ، فنون، سائنس اور فلسفہ اور عالمی واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔

کتاب کی موت نہایت افسوسناک امر ہے۔ اہل دانش کو اس پر غور وفکر کرنا چاہیے کیونکہ حکومتوں کے پاس اور بڑے مشاغل ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ بعض پبلشر اپنے کام سے مطمئن ہیں۔ وہ کتابیں چھاپ بھی رہے ہیں اور وہ بک بھی رہی ہیں لیکن ان کے موضوعات ایسے نہیں جو ہماری علمی سطح یا فکر ودانش کو جلا بخشیں۔ اس کام کا آغاز گھروں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر بہت اچھا ہو اگر ابتدائی تعلیم سے ہی مطالعہ کتب کا شوق پیدا کرنے کے لئے تعلیمی منصوبہ بندی کی جائے۔ کتب بینی کو کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مزید پختہ کرنے کے لئے تدابیر کی جانی چاہئیں۔ ہمارا دین اور ہماری روایات میں، کتاب کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ساتھ واقع بھارت دنیا میں سر فہرست ہے اور ہمارا شمار تیس ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •