12 اکتوبر: ’دیکھتے ہی دیکھتے دوست دشمن بن گئے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادارتی نوٹ: یہ اسٹوری وائس آف امریکہ اردو کی ویب سائٹ پر 12 اکتوبر 2019 ء کو شائع ہوئی تھی۔

اسلام آباد۔ پاکستان میں 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت اس وقت ہوئی جب اہم ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے شام چھ بجے کے انگریزی خبرنامے کے دوران ان کی تقرری کی خبر نشر ہونے کے کچھ لمحوں بعد ہی پی ٹی وی سمیت اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا تھا۔

جنرل (ریٹائرڈ) خواجہ ضیا الدین بٹ نے وائس آف امریکہ کو فوجی بغاوت سے پہلے اور 12 اکتوبر 1999 کی روداد تفصیل سے سنائی۔

ضیا الدین بٹ نے بتایا کہ ملک میں 12 اکتوبر سے قبل یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔

ان کے بقول ایٹمی دھماکوں اور کارگل جنگ کے بعد ملکی معیشت دباؤ کا شکار تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ساری توجہ معیشت کی بہتری کی جانب مبذول تھی۔

”آٹھ اکتوبر کو وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کر کے میں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ آرمی چیف پرویز مشرف سری لنکا سے واپس آ جائیں تو پھر اس پر بات کریں گے۔“

جنرل (ریٹائرڈ) خواجہ ضیا الدین۔ فائل فوٹو

جنرل (ریٹائرڈ) ضیا الدین کا کہنا تھا کہ 12 اکتوبر کو جو کچھ ہوا نواز شریف کو اس کی امید نہیں تھی۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا نواز شریف نے آج تک نہیں بتایا۔ نواز شریف کو اس سے متعلق کتاب لکھنی چاہیے تاکہ حقائق منظر عام پر آ سکیں۔

ان کے بقول نواز شریف نے جنرل مشرف کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بھی بنایا تھا۔ لیکن اچانک انہوں نے پرویز مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف کے پاس آرمی چیف کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا اضافی عہدہ بھی تھا۔

ضیا الدین بٹ کے بقول پرویز مشرف نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کے بہت قریب تھے اور میاں شریف انہیں اپنا چوتھا بیٹا کہا کرتے تھے۔

پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف

12 اکتوبر کو کیا ہوا؟

اس دن کو یاد کرتے ہوئے خواجہ ضیا الدین نے بتایا کہ ان کو اپنے چیف آف آرمی اسٹاف بنائے جانے کا علم نہیں تھا۔

”سیکورٹی امور پر بات چیت کے لیے وزیر اعظم سے ملنے گیا۔ اچانک انہیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے انہیں فور اسٹار جنرل کی ترقی دے کر آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔“

”فور اسٹار جنرل کی پروموشن کے لیے باقاعدہ تقریب ہوتی ہے اور وردی میں ایک اضافی رینک لگایا جاتا ہے۔ میرے پاس تو رینک بھی نہیں تھا۔ وزیر اعظم کے ملٹری سیکریٹری نے اپنی وردی سے ایک کٹ نکال کر دی۔ کراؤن لگانے کے لیے پن بھی نہیں تھی ماچس کی تیلی کے ذریعے کراؤن کو سہارا دیا گیا۔“

ضیا الدین بٹ کہتے ہیں یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ آج بھی یہ راز ہے اور اس کا جواب صرف میاں نواز شریف کے پاس ہے۔

خواجہ ضیا الدین کہتے ہیں کہ بعد کے حالات سے ثابت ہوا کہ دوسری طرف بھی تیاری مکمل تھی۔ ”جیسے ہی میرا اعلان ہوا ادھر پی ٹی وی سمیت دیگر سرکاری اداروں کا کنٹرول فوج نے سنبھال لیا۔ باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی گھیرے میں لے لیا گیا۔ اس سارے عمل کے دوران میں نے دانش مندی سے کام لیا ورنہ افراتفری اور خون خرابے کا خدشہ تھا۔“

خواجہ ضیا الدین کہتے ہیں کہ 12 اکتوبر کو جو کچھ ہوا نواز شریف کو اس کی امید نہیں تھی۔

’لمحوں میں دوست دشمن بن گئے‘

جنرل ضیاءالدین کو اس بات کا بہت افسوس ہے کہ اس واقعے نے برسوں پر محیط قریبی دوستیوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میری پرویز مشرف سے 40 سال کی دوستی تھی ان کے ساتھ خاندانی مراسم تھے۔ پرویز مشرف کے بچے میرے ہاتھوں میں پلے بڑھے۔ جنرل محمود، جنرل شاہد عزیز، سب بہت ہی قریبی دوست تھے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دوست دشمن بن گئے۔

ان کے بقول بعض مشترکہ دوستوں نے کوشش کی کہ سب دوست دوبارہ اکٹھے ہو سکیں لیکن جب اتنا کچھ ہو چکا ہو تو پہلے والی بات نہیں رہتی۔

خواجہ ضیا الدین کہتے ہیں کہ ہمیں 12 اکتوبر 1999 اس لحاظ سے یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے۔ یہاں فوج کا ایک خاص مقام ہے ان کے ساتھ مل کر چلیں گے تو جمہوریت بھی جیسے تیسے چلتی رہے گی ورنہ مسائل جنم لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں فوجی مداخلت کوئی حیران کن بات نہیں ہوتی۔

بھارت کی بات کرتے ہوئے جنرل (ر) ضیا الدین کا کہنا تھا کہ وہاں کے حالات الگ ہیں۔ ان کے بقول بھارت کے معروضی حالات پاکستان سے مختلف رہے ہیں وہاں سویلین معاملات میں فوج کا عمل دخل نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 196 posts and counting.See all posts by voa