ذہنی بیماریوں سے متعلق آگاہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(یہ مضمون ذہنی بیماریوں سے متعلق آگاہی کے حوالے سے ہے۔ اس کی وجہ سے اگر ایک بھی انسان کا بھلا ہوتا ہے تو میں سمجھوں گا اس مضمون کا مقصد پورا ہو گیا۔)

دس اکتوبر کا دن دماغی صحت کے متعلق آگاہی کا دن ہے۔ اکتوبر کا پورا مہینہ ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی دینے کا مہینہ ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہے جہاں اگر آپ اچھا محسوس نہیں کر رہے ہوتے تب بھی آپ کو تاثر سب اچھا ہے کا دینا پڑھتا ہے۔ آپ کسی سے اپنے اندر کی کیفیات کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو ڈر لگا رہتا ہے کہ لوگ پھر آپ کو جج کریں گے اور آپ کے بارے میں رائے قائم کریں گے۔ یہی ڈر بہت سارے لوگوں کو اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے بات کرنے سے روکھے رکھتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارے جسموں میں مختلف بیماریاں نمودار ہوتی ہے بالکل اسی طرح ذہنی بیماریاں بھی ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے معاشرے نے ابھی تک ذہنی بیماریوں کو قبول نہیں کیا اس لیے لوگ سرے سے انکاری نظر آتے ہیں کہ یہ کوئی غور طلب اور حل طلب مسئلہ ہے۔

بہت کم جسمانی بیماریاں ہے جن کے لئے عالمی سطح پر آگاہی کا دن منعقد ہوتا ہے۔ ذہنی بیماریوں کے متعلق آگاہی دینے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کی اکثریت ذہنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں اکثر لوگ اسے جن، آسیب وغیرہ کا اثر سمجھتے ہیں۔ اس لئے اس کے علاج کے لئے مزاروں پیروں وغیرہ کا رخ کرتے ہیں جو بیٹھے ہی اسی لئے ہوتے ہے کہ سادہ لوح لوگوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھا سکیں۔ اس طرح ذہنی بیماری میں مبتلا مریض نہ صرف علاج سے محروم رہ جاتا ہے بلکہ اور بہت ساری ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ہمیں ذہنی بیماریوں کے حوالے سے لوگوں کے اندر ڈر اور معاشرے میں جو بدنما داغ تصور ہوتا ہیاس کو ختم کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

میں خاص طور پر اپنے پشتون بھائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی عورتوں کے ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیں۔ عمومی طور پھر ہمارے گھروں میں ہماری مائیں، بہنیں سارا سارا دن گھر کے کام میں مصروف رہتی ہیں اور ان کے سیروتفریح پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ ذہنی تناؤ کا شکار رہنا شروع ہو جاتی ہے اور مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ معاملہ گمبھیر تب ہوتا ہے جب وہ ان کیفیات کا ذکر تک کسی سے نہیں کر پاتی۔

کیونکہ انہیں وہی ڈر لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیا کچھ سننے کو ملے گا۔ عورتیں فطرتاً زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ تعریف کے دو بول ان کے پورے دن کی تھکن دور کر دیتی ہیں۔ ہمیں اپنے گھر کی عورتوں کے ذہنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اور ذہنی بیماریوں کے متعلق سٹگما ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دوست کا واقعہ یہاں مینشن کرنا چاہونگا جب ان کے ایک مریض کو انہوں نے ڈپریشن کے لئے اینٹی ڈپریسینٹ دوائی تجویز کی اس مریض کو جوڑوں میں درد کا مسئلہ بھی تھا۔

کچھ ہی دن بعد مریض دوبارہ انہی ڈپریشن کی علامات کے ساتھ آئی۔ جب پوچھا کہ دوائی استعمال کی تھی تو جواب ملا کہ انہیں جب پتہ چلا کہ یہ گولی دماغ کے لیے ہے تو اس نے گولی لینی ترک کردی۔ بتایا میں پاگل تھوڑی ہوں جو دماغ کی دوائی لوں۔ بار بار سمجھانے کے باوجود مریض اینٹی ڈپریسینٹ لینے پر راضی نہ ہوا آخرکار کسی نئے نام سے اینٹی ڈپریسینٹ لکھ کے دے دی اور بتایا کے یہ دوائی آپ کے جوڑوں کے لیے ہے۔ میڈیکل ایتھکس میں ایسا کرنا بالکل مناسب نہیں ہوتاکہ مریض کی اپ غلط رہنمائی کرے لیکن ذہنی بیماری کا سٹگما اتنا زیادہ ہے ہمارے معاشرے میں کہ مریض اس بات کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا کہ اسے کوئی دماغی بیماری لاحق ہو سکتی ہیں۔ ہر ذہنی بیماری میں مبتلا مریض کو ہمارے معاشرے میں پاگل تصور کیا جاتا ہے جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس ظلم کو نظر انداز کر دیتے ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم اس حوالے سے بطور معاشرہ کہا کھڑے ہیں۔

ایک اور انتہائی اہم مسئلہ جو کہ غور طلب ہے ذہنی امراض کے علاج کے حوالے سے وہ یہ ہے کہ بہت سارے مریض جو کسی ذہنی مرض کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس تشریف لے بھی جاتے ہیں تو ان کا یا تو بروقت صحیح تشخیص نہیں ہوتا یا غلط تشخیص ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میں ایک مریض جنہیں میں کافی عرصہ سے جانتا ہوں کا مثال یہاں دوں گا تاکہ بات ذرا واضح ہو جائے۔ یہ خاص طور پر میرے ڈاکٹر دوستوں کے لیے ہیں کیونکہ باقی لوگ ہو سکتا ہے اس کو سمجھ نہ سکیں۔

مریض سالوں سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ جب ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو اس وقت انہوں نے میجر ڈپریسیو ڈسارڈر کی تشخیص بنا کر انہیں Benzodiazepines اور SSRI دینی شروع کی۔ اب ہر بار مریض کو جب بھی زیادہ مسئلہ ہوجاتا تو اسے دوبارہ انہیں ڈاکٹر صاحب کے پاس لے جاتے جو یا تو دوائی کا صرف نام بدل دیتے یا مقدار میں اضافہ کرتے۔ غرض سالوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں جب ایک اور سائیکاٹریسٹ کو دکھایا تو انھوں نے بایپولر ڈیسارڈر تشخیص کیا اور مریض کو اسی کے مطابق علاج دینا شروع کی۔

جس کے بعد مریض پہلے سے بہت زیادہ بہتر رہنے لگا۔ اب پہلے جو دوائی مریض لے رہا تھا وہ فائدہ سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہی تھی۔ چونکہ مریض کو بایپولر ڈسارڈر تھا جس میں Mania اور Depression دونوں ہوتے ہیں اس لئے جب وہ SSRI لیتا تو Manic episode شروع ہوجاتا جو اس کے لئے اور زیادہ تکلیف کا باعث بنتا ہے اسی لئے بایپولر ڈسارڈر میں SSRI بالکل بھی نہیں دیتے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پہلے جس ڈاکٹر کو دکھایا تھا اس کی قابلیت میں کوئی کمی ہوگی۔

ممکن ہے کہ غلط تشخیص مریض کو پورا وقت نہ دینے کی وجہ سے ہو۔ اسی لئے بہت سارے لوگ سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ سائیکاٹرسٹ کے پاس گئے اور ان کو اگر کوئی ذہنی بیماری نہ بھی ہو تو سائیکاٹرسٹ انہیں دماغ کی دوائی شروع کرادے گے اور اس وجہ سے وہ لوگ جن کو واقعی علاج کی ضرورت ہوتی ہیں ایک عمومی رجحان کی وجہ سے وہ بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔ جس کی وجہ سے مریض کا کبھی بروقت تشخیص اور علاج نہیں ہو پاتا۔

ایک اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ آج کل لوگوں میں ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے بڑھنے کی ایک خاص وجہ سوشل میڈیا کا بیجا استعمال بھی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو 90 کی دہائی میں یا اس کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام وغیرہ جو ایک طرف اپنی افادیت رکھتی ہے دوسری طرف یہ بہت سارے نفسیاتی مسائل کی جڑ بھی ہے۔ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسان اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کرتا رہتا ہے۔

جس کی وجہ سے اپنی زندگی پر وہ ناخوش دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی حقیقی زندگی کا کسی اور کی غیر حقیقی زندگی سے موازنہ کر رہا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ خاص طور پر 10 سے 20 سال عمر والے جن کے ذہن ابھی اتنے پختہ نہیں ہو چکے ہوتے۔ چھوٹی سی ناکامی سے وہ دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک ناکام شخص تصور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ emotionally وہ پر ایک کمزور شخصیت کے مالک بنتے ہیں۔

اور خوش اور مطمئن رہنے کے لیے ہر وقت انہیں social acceptance درکار ہوتی ہے۔ والدین کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے سکول جاتے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں۔ اور بچوں سے بات کریں اگر لگے کہ وہ کسی ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ بڑے عمر کے لوگوں میں بھی سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نفسیاتی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے اپنے ذہنی سکون کا خاص خیال رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عادل خان کاکڑ کی دیگر تحریریں