علیگڑھ، مشرق کا آکسفورڈ اور سر سید کا خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریباً بارہ سو ایکڑ کی وسیع و عریض سبزہ زاروں میں پھیلی ہوئی علی گڑھ کی شہرہ آفاق دانش گاہ کو، محض ایک تعلیمی ادارہ سمجھنا، ایک تاریخی غلطی ہو گی۔ علی گڑھ در اصل ایک فکر ہے، ایک فلسفہ ہے۔ یہ سر سید کے انقلابی مشن کی تجربہ گاہ ہے۔ اس کی دل کش اور دل فریب عمارتوں میں ایک لٹی پٹی، بے سمت اور بے یار و مدد گار قوم کی عہد رفتہ کی تاریخ پوشیدہ ہے، جو اس کے محسن کے بلند حوصلوں اور نیک عزائم کی داستان بیان کرتی ہے، اور جو ہر لمحے ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب کبھی مرتے نہیں۔ نیت میں اخلاص ہو تو آسمانی مدد ضرور آتی ہے۔

علی گڑھ ہمیں یہ بھی بتا تا ہے کہ آندھیوں میں بھی چراغ جلائے جا سکتے ہیں۔ محنت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ علی گڑھ میں حکمت بھی ہے اور منطق بھی۔ علی گڑھ یہ فن بھی سکھاتا ہے کہ خاردار جنگلوں سے دامن بچا کر کس طرح منزل مقصود تک پہنچا جا سکتا ہے اور حکمت اور تدبر کے سہارے تیز منجدھار اور خوفناک لہروں میں کس طرح قدم جمائے جا سکتے ہیں۔

سر سید اور ان کے رفقا نے جن حالات میں علی گڑھ کی بنیاد رکھی اور اپنے خون جگر سے جس طرح اس کی آبیاری کی، وہ آج ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ سر سید کی تعلیمی تحریک مسلمانوں کو محض انگریزی حکومت کا تنخواہ دار ملازم بنانے کے لیے نہ تھی۔ بلکہ سر سید کی دور رس آنکھیں مستقبل کے ہندوستان میں مسلمانوں کے رول کا تعین کر رہی تھیں۔ سر سید علی گڑھ کو ہندستانی مسلمانوں کا فکری اور نظریاتی مرکز بنانا چاہتے تھے، جو ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کی تحریک کی قیادت انجام دے سکے۔

محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی سرگرمیاں ہوں، سائنٹفک سوسائٹی کا قیام ہو یا پھر تہذیب الاخلاق جیسے ادبی اور اصلاحی جواہر پارے کا اجرا، سر سید کی یہ تمام کاوشیں در اصل ایک طویل مدتی اور کثیر جہتی انقلابی منصوبے کا حصہ تھیں۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کی سر سید کے ان عظیم مقاصد اور فلسفے کی سر سید اور ان کے احباب کے موت کے بعد ہیئت ہی بدل گئی۔ اور بعد کے دنوں میں کسی نے سر سید کے مشن کی از سر نو تفہیم کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اب علی گڑھ تحریک کے اثرات علی گڑھ تک سمٹ کر رہ گئے۔ سر سید کی تمام عمر کی جد و جہد اور جگر سوزی کا حاصل محض ڈگریوں کا حصول سمجھا جانے لگا۔ فکر و نظر کی آزادی کا فقدان ہوا۔ مادیت اور شئیت پسندی نے عروج پایا۔ علی گڑھ کو قوم کا نظریاتی مرکز بنانے کا سر سید کا خواب ذہنوں سے رخصت ہو گیا۔ درس و تدریس نے پیشے کی شکل اختیار کر لی۔ اساتذہ شعبہ جاتی سیاست، کلب اور چائے خانوں کی خوش گپیوں سے محظوظ ہونے لگے۔ طلبا کی ذہن سازی اور کردار سازی سے انھیں کوئی سروکار نہ رہا۔

Mrs. Eleanor Roosevelt with Dr. Zakir Hussain (Vice-Chancellor, Aligarh University) on March 14, 1952.

علی گڑھ تہذیب کے نام پر القاب و آداب، ظاہری نمائش اور مصنوعی چمک دمک کو فروغ حاصل ہوا۔ چرب زبانی، لفاظی اور مبالغہ آرائی کو حقیقت پسندی پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ سنجیدہ محفلیں، علمی مباحثے اور فکرو تدبر کی مجلسیں اب ماضی کا قصہ ہو گئیں۔ طلبا کے اندر آرام طلبی اور سست روی کا کلچر فروغ پانے لگا۔ صحت مند مسابقت اور اس جنون کا شدید فقدان پا یا جانے لگا، جو کسی ادارے کو ممتاز اور معیاری بناتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ تحریک خود اس سرزمین پر جڑ نہ پکڑ سکی، جسے سر سید نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔ جس شدت سے اس کا غلغلہ بلند ہوا سر سید کے جاں نشیں محسن الملک کی وفات کے بعد اسی تیزی سے انحطاط کا شکار ہو گیا۔

تب سے اب تک وقت کے پل تلے بہت سا پنی بہہ چکا ہے۔ علی گڑھ کا مدرستہ العلوم محمڈن اینگلو اوریئنٹل کالج کے سفر سے گزرتا ہوا ایک عظیم الشان کیمپس میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لیکن علی گڑھ کو آکسفورڈ اور کیمبرج بنانے کا سر سید کا خواب اب ہمارے خواب کا حصہ بھی نہیں۔ البتہ آکسفورڈ اور کیمبرج کی شکل کی چند عمارتیں کھڑی ہیں جو اپنے محسن سے آنکھیں چراتی، اپنی بے بسی اور بے وفائی پر شرمندہ ہیں۔ وہ بوڑھا بھی وہیں مسجد کے صحن میں پڑا بے بسی سے اپنے لگائے درخت پر خزاں کی مار کو جھیل رہا ہے۔

سر سید نے مغرب کی جن شہرہ آفاق دانش گاہوں کی طرز پر علی گڑھ کی اساس رکھی تھی، وہ آج بھی عالمی شہرت یافتہ ادارے ہیں۔ ارباب علی گڑھ محض اس بات پر مطمئن نظر آتے ہیں کہ علی گڑھ کا شمار دنیا کی ان بہترین ایک ہزار یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے، جس میں آکسفورڈ اور کیمبرج کا نمبر بالترتیب پہلا اور دوسرا ہے۔ آج ایک طرف جہاں مشرقی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک نے گزشتہ چند دہایؤں میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم پر مغرب کی اجارہ داری کو چیلنج کیا ہے اور علم کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، وہیں ہماری رفتار مجموعی طور پر انتہائی سست اور قابل تشویش رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں ہم آج ایشیائی ممالک کی معیاری یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں بھی 238 ویں نمبر پر ہیں۔ علی گڑھ کو یونیورسٹی کا درجہ حاصل کیے ہوئے بھی ایک صدی مکمل ہو چکی۔ اس طویل سفر میں ہم نے اس بات کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس سے یہ تاثر ملے کہ ہمارے اندر علی گڑھ کو عالمی معیار کا جدید تعلیمی ادارہ بنانے کی کوئی تڑپ اور منصوبہ بندی پائی جاتی ہے۔ وسائل کی کمی اور یو جی سی کے بجٹ کا شکوہ کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ من حیث القوم، ہم اس قومی امانت کی دیانت داری سے نگہبانی میں نا کام ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے محسن کے زندہ نظریے کو ان کے بے جان جسم کے ساتھ علی گڑھ میں ہی دفن کر دیا ہے۔

آج علی گڑھ کا ملک و بیرون و ملک جو شہرہ ہے اس کی وجہ اس کی علمی محاذ پر کسی قابل قدر کارنامے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے تاریخی کردار اور اس کے شاندار ماضی کی وجہ سے ہے۔ سینکڑوں ایکڑ کا رقبہ، عالی شان عمارتیں، بہترین لائبریری، آرام دہ اقامت گاہ اور دنیا کی وہ تمام سہولتیں جو درس و تدریس کے لیے ایک پرسکون ماحول اور خوش گوار فضا قائم کرتی ہیں، علی گڑھ میں وہ سب کچھ دستیاب ہیں۔ لیکن اس کے با وجود تعلیمی میدان میں اس کی حیثیت ملک کے کسی عام تعلیمی ادارے سے بہت مختلف نہیں۔

جو ہر سال کچھ انجینیئر، ڈاکٹر، وکیل، بڑی تعداد میں عام گریجوایٹ، چنندہ قابل اساتذہ اور شاذ و نادر ماہرین علم و فن پیدا کرتا ہے۔ کوئی سائنسداں، کوئی محقق، کوئی مفکر، کوئی مدبر، کوئی اہل نظر علی گڑھ میں خال خال ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کا کوئی ایسا نامور سائنسداں نہیں، جس کی تعلیم علی گڑھ میں ہوئی ہو۔ خلائی ٹیکنالوجی ہو، یا میزائل ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی ہو یا مائیکرو بائیولوجی، ہماری نمائندگی صفر سے زیادہ نہیں۔

ملک کی عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں چلے جائیں تو بمشکل کوئی نامی وکیل یا جج علی گڑھ کا تعلیم یافتہ مل پائے گا۔ ہاں البتہ ضلعی عدالتوں میں کچھ علامتی نمائندگی ضرور مل جائے گی۔ سول سروسز کے شعبے میں تو علی گڑھ کی کارکردگی حد درجہ مایوس کن رہی ہے۔ ایک طرف جہاں جامعہ اور ہمدرد کے نسبتاً نوزائیدہ کوچنگ سینٹرز نے گزشتہ دو دہائیوں میں تشفی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہیں علی گڑھ کا کوچنگ سینٹر تنزلی کی جانب گامزن ہے۔

شاید ہی کسی سال علی گڑھ کے کسی طالب علم کے سول سروسز امتحان میں کامیابی کی خبر آتی ہے۔ اکیڈمکس میں اپنا کریئر تلاشنے والے زیادہ تر فارغین علی گڑھ کو بھی علی گڑھ کی فضا ہی راس آتی ہے، یا زیادہ سے زیادہ جامعہ اور ہمدرد تک پہنچ کر ان کی لیاقت جواب دے جاتی ہے کہ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، جے این یو اور دیگر معیاری اداروں کے لیے ان کے پاس مطلوبہ اہلیت نہیں ہوتی۔ کم وبیش یہی صورت احوال پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بھی ہے۔

غرض یہ کہ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں چلے جائیں علی گڑھ کی کارکردگی کسی لحاظ سے تشفی بخش نہیں کہی جا سکتی۔ قوم کا اتنا بیش قیمت سرمایہ اور یہ پیداوار؟ ڈیڑھ سو سال کی قومی سعی اور اتنا حقیر سا نتیجہ؟ سالوں کی کوہ کنی اور یہ جوئے کم آب؟ اب جو لوگ محض ڈگریوں کے حصول کو ہی زندگی کی معراج سمجھے بیٹھے ہیں، جن کی دلیل یہ ہے کہ علی گڑھ کم از کم معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کرتے انھیں برسر روزگار بنا رہا ہے، تو وہ در اصل سر سید کے نظریے اور علی گڑھ کے فلسفے سے دانستہ یا نا دانستہ طور پر انحراف کرتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن بھی ہے کہ سر سید کے خواب کو پھر سے زندہ کیا جائے؟ کیا علی گڑھ کو احیائے علم کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ارباب علی گڑھ میں یہ حوصلہ اور ولولہ ہے کہ وہ علی گڑھ کی دانش گاہ کو مشرق کا آکسفورڈ اور کیمبرج بنانے کے سر سید کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا چیلنج قبول کر سکتے ہیں؟ تو میری نظر میں یہ نا ممکنات میں سے تو بالکل نہیں ہے گو کہ ایک چیلنج ضرور ہے۔

اگر علی گڑھ کے تمام متعلقین (Stakeholders) میں اس چیلنج کو قبول کرنے کا یارا پیدا ہو جائے، تو صورت احوال میں بڑی تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔ اس کا تجربہ علی گڑھ میں مختلف شیخ الجامعہ کے ادوار میں کیا بھی جا چکا ہے، جس کا خاطر خواہ اور مثبت اثر معیار تعلیم پر پڑا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہو سکی۔ طلبا، اساتذہ اور انتظامی عملے کو اگر اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے اور وہ ایمان داری اور نیک نیتی سے ایک احساس ملکیت (Sense of Ownership) کے ساتھ اس چمن کی آبیاری کرنے کا تہیہ کر لیں، تو صورت احوال یکسر بدل سکتی ہے۔

اساتذہ خود کو محض تنخواہ دار ملازم سمجھنے اور کلاس روم کے لیکچر تک اپنے رول کو محدود کرنے کے بجائے طلبا کی تربیت اور ان کی ذہنی نشو و نما پر توجہ دیں اور ان کے مستقبل کے معمار کا کردار ادا کریں۔ اساتذہ کو چاہیے کے وہ مطالعے کے ذریعے مستقل اپنی صلاحیتوں اور لیاقت میں اضافہ کرتے رہیں، تا کہ زیادہ سے زیادہ علم طلبا میں منتقل کیا جا سکے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی کا راز اس کے انتظامی عملے کی انتظام و انصرام کی صلاحیت، پراجیکٹ مینجمنٹ، کم لاگت اور زیادہ پیداوار کے تجارتی فلسفے اور صاف شفاف انتظامیہ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے انتظامی عملے کے کارندے موجودہ دور کے مینجمنٹ اسکلز سے نا آشنا نہ ہوں۔

علی گڑھ کو سر سید کے پیمبرانہ مشن پر واپس ڈالنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری یہاں کے طالب علموں پر عائد ہوتی ہے۔ آج زمانے کا انداز بدل چکا ہے۔ محض جھوٹی شان و شوکت اور خود نمائی سے کوئی تہذیب پروان نہیں چڑھ سکتی۔ صرف اس دعوے سے کہ آپ کے پاس ایشیا کی عظیم ترین یونیورسٹی لائبریری ہے جس میں لاکھوں کتابیں، نایاب صحیفے اور نادر مخطوطے موجود ہیں، آپ کے پاس گھڑ سواری کے لیے پر کشش عربی گھوڑے اور تیراکی کے لیے بین الاقوامی معیار کا سوئمنگ پول موجود ہے اور یہ کہ سر سید ڈے ڈنر دنیا کا سب سے بڑا اجتماعی ڈنر ہے، اس سے قوم کا کچھ بھی بھلا نہیں ہونے والا۔

ملک کے دیگر تعلیمی ادارے ان تمام خصوصیات کے بغیر سائنسداں، فلسفی، مفکر اور مدبر پیدا کر رہے ہیں اور ہم ہیں کہ ماضی کی خوش نما یادوں میں کھوئے پدرم سلطان بود کی صدا لگائے جا رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قوم کی اجتماعی بہتری کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کی اشرافیہ کے چنندہ افراد اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں پر فائز ہو جائیں۔ تو کیا ہو گیا اگر علی گڑھ نے چند سربراہ مملکت، نائب صدور اور نام چیں ہستیاں پیدا کر لیں؟

اس سے قوم کی اجتماعی حالت میں بھلا کون سی تبدیلی آ گئی؟ اب اٹھیے اور یہ ثابت کر دکھائیے کہ آپ سر سید کے سچے جاں نشین ہیں۔ آرام طلبی اور تن آسانی سے اپنا دامن چھڑائیے اور ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ایک نئی صبح کی شروعات کیجیے۔ زبان و بیان پر قدرت حاصل کیجیے کہ اس کے بغیر زندگی کے کسی بھی میدان میں آپ امتیاز حاصل نہیں کر سکتے، خواہ آپ اپنے مخصوص شعبے میں کتنی ہی مہارت کیوں نہ رکھتے ہوں۔ انگریزی، اردو اور ہندی زبانوں پر یکساں دسترس، آپ کو ترقی کی نئی دنیا سے روشناس کرا سکتا ہے، امکانات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

سب سے اہم یہ کہ مطالعے کی عادت ڈالیں اور محض اپنی درسی کتابوں تک اپنے مطالعے کو محدود نہ کریں۔ اگر آپ انجینئرنگ، میڈیکل یا سائنس کے کسی دیگر شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تاریخ، فلسفہ اور علم سماجیات میں آپ کی معلومات صفر ہو۔ اگر آپ قانون، صحافت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طالب علم ہیں تو ایسا نا ہو کہ میر، غالب، سودا اور اقبال آپ کی سماعتوں پر گراں گزریں۔ اگر آپ اردو یا ہندی زبان و ادب کے شعبے سے منسلک ہیں، تو ایسا نا ہو کہ شیکسپیئر، کیٹس، بائرن اور فراسٹ کی بیش بہا ادبی خدمات سے، آپ محروم رہ جائیں۔ اگر آپ علوم اسلامی اور طب کے شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ دنیا میں پے در پے ہو رہے تغیرات پر آپ کی یکسر نظر نہ ہو۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کرونی کیپیٹلزم اور گلوبل وارمنگ کی اصطلاح آپ کو اجنبی اصطلاح لگے۔

در اصل علم کے یہ مختلف شعبے ایک دوسرے سے اس قدر باہم مربوط ہیں کہ ان کے ارتباط کو یکسر نظر انداز کر کسی بھی شعبے میں امتیاز حاصل کرنے کا تصور محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرون وسطیٰ کے اسلامی عہد میں جسے ہم مسلم تاریخ کا عہد زریں بھی کہتے ہیں، درس و تدریس کا دائرہ اتنا وسیع اور مطالعے کا ذوق اتنا بلند تھا کہ فقہ اور منطق کا ماہر ستاروں کی چال، علم فلکیات کی باریکیوں اور علم نجوم کی پیچیدگیوں کی بھی فہم رکھتا تھا۔

تاریخ پر بھی اس کی گہری نظر تھی اور فلسفہ، حکمت اور ما بعد الطبیات بھی اس کی دسترس سے باہر نہ تھے۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ الجبرا اور صفر کے ہندسے کا موجد الخوارزمی بہ یک وقت علم جغرافیہ اور علم ہیئت میں بھی مہارت رکھتا تھا۔ معروف سائنسداں البیرونی جملہ سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، حکمت، علم طب اور مذہبی علوم کا بھی ماہر تھا۔ مشہور کیمیا داں جابر ابن حیان جسے فادر آف کیمسٹری بھی کہا جاتا ہے طب، فلسفہ، علم طبیعات اور دیگر علوم پر 100 سے زیادہ کتابوں اور ہزاروں مضامین کا مصنف تھا۔

اس عہد زریں میں علم و حکمت کی ایسی خوش گوار ہوائیں چلیں کہ پوری اسلامی دنیا علم و دانش کا گہوارہ بن گئیں اور برق رفتار معاشی، سماجی اور معاشرتی ترقی نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ لیکن پھر تاریخ کے دھارے نے اپنا رخ مغرب کی جانب کر لیا۔ یورپ تاریکی کے عہد سے نکل کر صنعتی ترقی کی دور میں شامل ہو گیا اور صدیوں تک دنیائے علم و فن کے افق پر آب و تاب سے چمکنے والی اسلامی تہذیب زوال پذیر ہو گئی۔ ہماری دانش گاہوں نے دینی اور دنیاوی علوم کو دو خانوں میں تقسیم کر دیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے دینی ادارے عصری تعلیم سے بے بہرہ ہوئے اور ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں علم و حکمت کا فقدان ہوا۔ آج ہمارے عصری علوم کے ادارے سائنسداں، فلسفی، مفکر، مجدد پیدا کرنے کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کی ڈیمانڈ پر سستے انجینیئر، پروگرامر اور کلرک پیدا کر رہے ہیں۔ ہماری مذہبی دانش گاہیں مترجموں، مؤذنوں، مسجد کے پیش اماموں اور میلادی خطیبوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •