شہرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور ناول نگار ابن الیاس آج لاہور میں اپنا نیا ناول ”دستک“ کے نام سے منظر عام پر لا رہے ہیں۔ جس کا سب چاہنے والوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ ”دستک“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک رومانی ناول ہے، جس کے شائع ہونے کے پہلے دن ہی پانچ سو سے زائد کاپیاں بک چکی ہیں۔ ابن الیاس اس سے پہلے بھی تین ناول شائع کر چکے جن کا شمار اپنے دور کے سب سے زیادہ بکنے والے ناولوں میں ہوتا ہے۔ ابن الیاس کی ناموری کی وجہ ان کا دوسرا ناول ”بے زبان“ ہے، جس کا تقریباً اٹھائیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ابن الیاس اس کے علاوہ اپنی بد دماغی اور صحافیوں سے الجھنے کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں۔

صبح نو بجے کی خبروں میں اپنی تعریف مندرجہ بالا الفاظ میں سن کر، ابن الیاس خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ فخریہ انداز میں اپنے نوکر کو آواز دی، اوئے شریف کے بچے کہاں مر گئے ہو؟ بڈھا نوکر کھانستا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور سہمے ہوئے سے پوچھنے لگا، جی صاحب کیا کام تھا؟ شریف کے بچے جا اماں کو بول میرے لیے ناشتا تیار کرے، مجھے کسی کام کے سلسلے میں دفتر کی طرف جانا ہے۔ شریف چلا جاتا ہے اور دس منٹ کے بعد ابن الیاس کو ناشتے کے لیے مدعو کرتا ہے۔

طعام خانے میں ابن الیاس کی ماں ہاتھ میں ناشتے کی تھالی لیے داخل ہوئی اور میز پر ناشتا سجانے لگی۔ دودھ کے گلاس کو منہ سے لگاتے ہی وہ چلا اٹھتا، چینی کہاں ہے اس میں؟ چینی ڈالی تو تھی بیٹا! ماں نے سہمے ہوئے سے کہا۔ ڈاکٹر نے تمہیں پرہیز کرنے کو کہا ہو گا ماں، مجھے نہیں۔ یہ کہتے ہوئے دودھ کے گلاس کو دیوار کی طرف پھینک کر وہ گھر سے نکل جاتا ہے اور اپنے ڈرائیور کو بھی گالیاں دیتے ہوئے گاڑی میں سوار ہو کر دفتر کی طرف چلا جاتا ہے۔

ابن الیاس کے گھر سے نکلتے ہی گھر میں ایک دم سناٹا چھا جاتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے سنبھالتے ہوئے شریف نے ماں جی سے پوچھا، ماں جی صاحب ہمیشہ ایسے ہی کچھ نہ کچھ بول کر چلے جاتے ہیں اور ایک آپ ہیں کہ آف تک نہیں کرتیں، آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ کیا غصہ نہیں آتا ہے آپ کو؟ ممتا۔ رہنے دو بیٹا تم نہیں سمجھو گے اگر تم ایک ماں ہوتے تو کبھی نہ پوچھتے۔ یہ کہتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر ماں کچن میں چلی جاتی ہے اور شریف گھر کے کام کاج میں لگ جاتا ہے۔

دوسری جانب ابن الیاس کے دفتر پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں کی ایک لمبی قطار انتظار میں کھڑی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ابن الیاس کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑتی ہے وہ شاہانہ انداز میں گاڑی سے اترتا ہے اور صحافیوں کو اپنی جانب آتے دیکھ کر احمقانہ انداز میں ان کی تعظیم میں جھک جاتا ہے۔ اس کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ایک صحافی نے سوال کیا: سر کے گزشتہ سارے ناولوں کا بہت سی دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، اپنے نئے ناول کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کیا آپ اس ناول کو بھی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے کی اجازت دیں گے؟

ابن الیاس نے جواب میں کہا ”دیکھیے اردو ہماری قومی زبان ہے جس میں میں نے یہ ناول لکھا ہے اور پاکستان میں تو سبھی اردو پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں، تو پھر پنجابی سندھی بلوچی یا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟“

سوال کرنے والا صحافی اپنے چینل کو رپورٹنگ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ناظرین جیسا کہ آپ نے دیکھا اور سنا کہ ابن الیاس صاحب۔ اپنے ملک کی زبانوں کے علاوہ کسی اور ملک کی زبان کا نام تک لینا پسند نہیں کرتے۔ اس سے آپ ان کی محب الوطنی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ابن الیاس صاحب کی ہر بات ایسی ہی انوکھی اور فلسفیانہ ہوتی ہے۔

یوں ابن الیاس کی بے وقوفی اور بد دماغی کو فلسفہ اور قوم پرستی وغیرہ کا نام دے کر میڈیا نے ابن الیاس کی شہرت عروج پر پہنچا دی تھی۔ اپنے ناولوں کی وجہ سے ابن الیاس دنیا کے مختلف ممالک میں اپنا نام کما چکے تھے۔

ایک دن ایک صحافی بہت ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی اور سر عام یہ دعویٰ کیا کہ ابن الیاس کا کوئی بھی ناول اس کا اپنا لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے ان کی ماں رضیہ بی بی کی تخلیقی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔ صحافی کا دعویٰ اس قدر مدلل تھا کہ یہ ثابت کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ رضیہ بی بی اپنے ناولوں کو اپنے بیٹے کے نام سے شائع کرتی تھیں۔

سارا معاملہ ثابت ہونے کے بعد جب ٹیلی ویژن پر رضیہ بی بی کا انٹرویو ہوا تو آپ نے ایسے جذباتی انداز میں اپنی ممتا کا اظہار کیا کہ میڈیا گزشتہ ساری باتیں بھول کر رضیہ بی بی کی مامتا اور قابلیت کی گیت گانے لگا۔ رضیہ بی بی کی کہانی پوری دنیا میں پہنچ گئی اور خوب پذیرائی ہوئی۔

ایک دن وہ صحافی کہ جس نے ابن الیاس کا راز فاش کیا تھا۔ رضیہ بی بی سے اکیلے میں ملنے آیا اور نہایت ادب سے کہنے لگا کہ بی بی جی آپ کا وعدہ تو میں نے پورا کیا اور کسی کو بھنک بھی لگنے نہیں دی۔ اب آپ بھی اپنا وعدہ پورا کریں تا کہ ہم دونوں پہلے کی طرح ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جائیں۔ رضیہ بی بی نے ہنستے ہوئے کہا کہ وعدہ تو پورا کر ہی لوں گی، مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ہم اجنبی رہیں گے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا، خیر مجھے بھروسا ہے خود پر۔ اور صحافی وعدہ پورا ہونے پر خوشی خوشی رخصت ہوا۔ کچھ عرصے بعد مقامی اخباروں میں خبر آئی کہ صحافی ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اس دن رضیہ بی بی نے اپنے کمرے کی دیوار پر لگی اپنے۔ مرحوم شوہر کی تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے فاتحانہ انداز میں کہا کہ شکریہ الیاس صاحب، اپنی زندگی تو آپ نے قلم اور کتاب کے نام کی اور اپنی بیوی کو ایک اولاد تک نہیں دے سکے۔ جانے کے بعد پوری دنیا ہی دے دی۔

Latest posts by خلیل احمد، غذر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خلیل احمد، غذر کی دیگر تحریریں