افسانہ خود کشی

کائنات کی زندگی میں کل کا دن بہت ہی اہم دن تھا کیوں کہ کل کے دن اس کی ایک نئی زندگی شروع ہونے جا رہی تھی۔ ایک ایسی زندگی جس کی بہتری کی دعائیں وہ سب سے لیتی رہی ہیں۔ گویا دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ اس دن اس کے دل میں خوشی اور غم کے احساسات بہ یک وقت ابھر رہے تھی۔ ابھی وہ اپنے نئے گھر، اپنے ہم سفر کے بارے میں سوچ کر

Read more

شہرت

مشہور ناول نگار ابن الیاس آج لاہور میں اپنا نیا ناول ”دستک“ کے نام سے منظر عام پر لا رہے ہیں۔ جس کا سب چاہنے والوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ ”دستک“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک رومانی ناول ہے، جس کے شائع ہونے کے پہلے دن ہی پانچ سو سے زائد کاپیاں بک چکی ہیں۔ ابن الیاس اس سے پہلے بھی تین ناول شائع کر چکے جن کا شمار اپنے دور کے سب سے زیادہ بکنے والے ناولوں میں ہوتا ہے۔ ابن الیاس کی ناموری کی وجہ ان کا دوسرا ناول ”بے زبان“ ہے، جس کا تقریباً اٹھائیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ابن الیاس اس کے علاوہ اپنی بد دماغی اور صحافیوں سے الجھنے کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں۔

صبح نو بجے کی خبروں میں اپنی تعریف مندرجہ بالا الفاظ میں سن کر، ابن الیاس خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ فخریہ انداز میں اپنے نوکر کو آواز دی، اوئے شریف کے بچے کہاں مر گئے ہو؟ بڈھا نوکر کھانستا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور سہمے ہوئے سے پوچھنے لگا، جی صاحب کیا کام تھا؟ شریف کے بچے جا اماں کو بول میرے لیے ناشتا تیار کرے، مجھے کسی کام کے سلسلے میں دفتر کی طرف جانا ہے۔ شریف چلا جاتا ہے اور دس منٹ کے بعد ابن الیاس کو ناشتے کے لیے مدعو کرتا ہے۔

Read more