خود کو قبول کر کے جئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کے اٹھارہ دن بعد ہی اسے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا پڑا۔ جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ اس کے مطالبے کو پورا ہونے میں دو ماہ لگے۔ زندگی کا سب سے زیادہ خوب صورت رشتہ اس نے اپنی ذات کی تمام سچائیوں کے ساتھ قبول کیا تھا، مگر یہ تعلق جب اپنی تمام تر بد صورتیوں کے ساتھ اس کے سامنے آیا، تو اس نے فیصلہ لینے میں دیر نہیں کی۔ اسے اس بات کا بھی ادراک ہو گیا تھا کہ آج نہیں تو کل، یہ رشتہ ختم ہونا ہی ہے، تو پھر کسی بچے کے بغیر الگ ہونا زیادہ بہتر ہے۔

اس شخص میں وہ تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں، جو کسی بھی نارمل انسان کو ابنارمل بنانے کے لیے کافی تھیں۔ اوپر سے اس مرد کا ہم جنس پرست ہونا الگ عذاب تھا، دنیا کو تو وہ جیسے تیسے جھیل ہی لے گی، مگر عادات بد کے شکار مرد کے ساتھ گزارا کرنا، اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس نے بڑی صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔ اس کے والد، بھائی، مامے چاچے اور خاندان کے دیگر مرد بھی با کردار تھے۔ اسی لیے اس شخص کا جو کردار سامنے آیا، وہ اسے کسی بھی طرح قبول نہیں کر پائی۔

دوسری جانب اس کی فیملی بھی اسے سپورٹ کر رہی تھی کہ غلطی کو وقت پر سدھار لینا ہی بہتر ہے۔ جیسے جیسے دیر ہوتی جائے گی اس کی اپنی زندگی مشکل ہو گی۔ اس نے کم مشکل راستہ چنا۔ وہ زمانہ چھوڑ دے گی مگر خود کو نہیں چھوڑے گی۔ کچھ جسمانی تکالیف کا وہ شکار ہو گئی تھی مگر بہترین علاج کی وجہ سے وہ جلد ہی ان انفیکشن سے بھی نکل گئی، جو ایک غلیظ انسان کے چند روزہ ساتھ سے اسے لگ گئی تھیں۔ اسے اب آگے بڑھنا تھا اور وہ بڑھ گئی، آفس لائف سے تدریس کے شعبہ کو اپنا لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اسے سماج کیا کہے گا؟ کا روایتی جبر اور دباؤ برداشت نہ کرنے کا حوصلہ دیا۔

گھر والے اور دوستوں نے اس کا ساتھ دیا اور اس ساری صورت احوال سے نکل آئی۔ اسے خلع کے لیے عدالت کا رخ نہیں کرنا پڑا تھا، جب کہ اسے ایسا کرنا چاہیے تھا، کیوں کہ مرد اپنے جھوٹ اور کردار سے واقف تھا۔ لہذا اس نے خاتون کی بیماری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسانی سے پیچھے ہٹنا ہی بہتر سمجھا۔ یہ شادی اس مرد نے کس مقصد کے لیے کی تھی، وہی جانتا تھا۔ اسے تو اجنبی شہر میں بھوک اور بیماری کا مقابلہ تنہا ہی کرنا پڑا۔ وہ تو دوپہر کے وقت آتا، اپنا حق وصول کرتا اور چلا جاتا۔ اسے ایسی زندگی نہیں قبول تھی، کہ جہاں کھانا بھی اسے دوسرے کی مرضی سے ملے ورنہ بھوکی رہے۔

مذہب اور تعلیم نے اسے ظلم اور برائی کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اور واضح شعور دیا تھا اور یہی وقت تھا اس شعور کو استعمال کر نے کا۔ اس نے اس کا بھر پور استعمال کیا بھی۔ یہ زندگی اس کی اپنی تھی اور اسے ایک مظلوم بیوی اور منافق بہن، بیٹی اور ماں کی زندگی کسی قیمت پر نہیں جینی تھی۔ اس کے بڑے اسے سمجھا رہے تھے کہ ان کی جانب سے ہونے والی کسی کوتاہی کی قیمت وہ اس شخص سے نبھا نے کی صورت میں ادا نہ کرے۔ اس معاملے میں سب سے اہم کردار اس کی والدہ اور بہن نے ادا کیا۔ آج وہ اپنوں کے درمیان محفوظ ہے اور ایک نار مل زندگی گزار رہی ہے۔

ان کی عمر 74 برس کی ہو چکی تھی۔ چند سال پہلے بیوی ایک طویل بیماری کے بعد اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ساری اولادیں شادی شدہ اور بیرون ملک مقیم تھیں۔ صرف ایک بڑی بیٹی یہیں شہر میں تھی، جس کی اپنی بھی ایک زندگی تھی۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، گھر کا کھانا نہ ملنے اور تنہائی نے انہیں اوپن ہارٹ سرجری تک پہنچا دیا۔ سرجری ہوئی، بیٹی نے دیکھ بھال کی اسی دوران میں نواسی نے جو خود بھی بچوں والی تھی، نے اپنے نانا کو دوسری شادی کا مشورہ دیا۔ بلکہ ماں پر زور ڈالا کہ ماموں کوئی ساتھ رہنے اور رکھنے کے لیے تیار نہیں، کسی اجنبی لڑکے کو ساتھ رکھتے ہیں تو بھی پریشانی برقرار رہے گی کہ کہیں کوئی غلط نہ ہو جائے۔ جیسا کہ نانی کی وفات کے بعد ایک فیملی رکھی تھی مگر ان کے لالچ نے انہیں خاصا نقصان پہنچایا۔ کوئی نرس رکھتے ہیں تو بھی زمانہ جینے نہیں دے گا۔ ایک یہی کام بہتر ہے جس سے ہم سب ذہنی طور پر مطمئن رہیں گے۔ نواسی نے پہلے ماں کو منایا اور پھر ماں اور باپ کے ساتھ مل کر نانا کو۔

موصوف شادی کے حق میں نہیں تھے مگر جب ٹائیفائیڈ ہوا اور کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں تھا۔ بیٹی کو بھی کسی دوسرے نے اطلاع دی کہ آپ کے والد صاحب بے ہوش پڑے ہیں تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے کسی کی پروا نہیں کی، باپ کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ جاننے والوں کو رشتہ تلاش کرنے کا کہا، یہ ایک مشکل کام تھا مگر ناممکن نہیں۔ قریبی مسجد کے امام صاحب کے ریفرنس سے ایک خاتون کا پتا چلا جو کہ جن کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ جو نہ صرف بیوہ تھیں بلکہ ان کی اولاد بھی کوئی نہیں تھی۔ انہوں نے دونوں کی ملاقات کرا دی اور یوں دونوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کر نے کا فیصلہ کیا اور زمانہ کیا کہے گا، کو بہت پیچھے چھوڑ دیا کیوں کہ زمانہ کبھی کسی کا نہیں ہوا۔

یہ دونوں واقعات ایک ہی خاندان کے قریبی رشتے داروں کے ہیں، جو اس فیملی کی فکری بالیدگی، شخصی آزادی اور رشتوں کے ایک دوسرے پر اعتماد کا عملی نمونہ ہے۔ دونوں افراد اور ان کے لواحقین نے وہی کیا، جس کا حکم شرع، اخلاق اور ان کے دل نے دیا۔ ایک نے ایک رشتے میں بندھنے کے بعد اور ایک نے بہت سارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بیماری، بھوک اور تنہائی کاٹی اور جیسے ہی موقع ملا، آگے بڑھ گئے۔ ان دونوں واقعات کو بیان کرنے کا مقصد ایک سوچ کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے کہ جب تک زمانہ کیا کہے گا، والی فکر ہمارے سروں پر چڑھ کر ناچتی رہے گی، ہم ظلم کی چکی میں بستے رہیں گے۔ تنہائی میں مرتے رہیں گے۔ ہمارے بیٹیاں جلتی رہیں گے، اپنوں کو اعتماد دیں، نا کہ کم ہمتی کا سبق۔

اب وہ وقت بھی نہیں رہا کہ اولاد بڑھاپے کی ساتھی ہو گی۔ اولاد کی اپنی زندگی ہے اور ان کی زندگی میں آنے والے ساتھیوں کی اپنی سوچ۔ بہت کم بہوئیں اپنے سسرال کو قبول کرتی ہیں، یا اپناتی ہیں۔ پھر معاشرے کا ایک گروہ ایسا بھی ہے، جو بوڑھے والدین کی دیکھ بھال جیسی اس اہم سماجی اور اخلاقی ذمہ داری کو مذہب سے وابستہ کرتے ہوئے، قرآن کی تعلیم کو ہی فراموش کر ڈالتا ہے۔ جس میں والدین کے ساتھ ان کے بڑھاپے میں حسن سلوک کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

والدین تو والدین ہیں خواہ وہ آپ کے ہوں یا آپ کے شوہر کے۔ ایک شخص آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، آپ کے اخراجات پورے کرتا ہے، آپ کی عزت و احترام میں کمی نہیں آنے دیتا، تو یہ اس کے والدین کی تربیت کا کمال ہے کہ انہوں نے اسے عورت کا احترام کرنے اور رشتوں کو نبھانے والا بنایا ہے۔ جب کہ اکثر و بیش تر ان موقعوں پر زمانہ سو بھی رہا ہوتا ہے اور کیا کہے والی سوچ بھی تیل لینے گئی ہوتی ہے۔

در اصل زمانہ کہیں نہیں ہوتا، یہ انسان کے اندر کا خوف، ڈر، لالچ اور اجارہ داری (حاکمیت) سے محرومی والا نظریہ ہوتا ہے، جس کو زمانے کا نام دے کر وہ اپنی اور اپنوں کی زندگی مشکل تر بنا دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے :

زندگی مشکل تھی، مشکل تر میں نے کیا
جہاں اک جھروکا کافی تھا، اس میں در میں نے کیا

یاد رکھیں کہ آپ کی زندگی پر سب سے زیادہ حق آپ کا ہے، آپ خوش و مطمئن ہیں، تو آپ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو پرسکون رکھ سکتے ہیں۔ جب آپ ہی بے چین اور اداس ہوں گے، تو آپ کے گرد ماحول بھی ویسا ہی ہو گا۔ ہمیں ان تمام غیر فطری نظریات سے آگے نکلنا ہو گا، جو ہم سے زندہ اور خوش رہنے کا حق چھین لیتے ہیں۔ ایک با شعور فرد اپنے اچھے برے کا خود ذمہ دار ہے اور اگر اسے اپنی یا اپنے بڑوں کی جانب سے ہونے والی کسی غلطی کو سدھارنے کا موقع مل جائے، تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے۔ صحیح کبھی غلط اور جھوٹ کبھی سچ نہیں ہو سکتا۔ خاتون نے اسی فکر کا دامن تھام لیا اور بزرگ کو بھی سہارا مل گیا۔ دونوں کے قریبی رشتے دار ان کے ساتھ تھے اور سچ کہوں تو وہی ان کی دنیا اور ان کا زمانے تھے، جن کو اپنوں کی خوشیاں اور زندگی عزیز تھی۔ انہوں نے وہی کیا جو ان کا فرض تھا۔

یہ فرض ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو ادا کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ ان کے پیارے کسی دباؤ میں اپنی زندگیوں سے ہی نہ کھیل جائیں۔ ہم یہی سوچتے رہیں، اس نے ایک بار تو کہا ہوتا، اس نے ہم پر اعتبار ہی کیا ہوتا، اس نے کچھ تو بتایا ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کرنا تو بہت آسان ہے، مگر ایک بد کردار اور ظالم شوہر سے اس کی حفاظت کرنا، شاید بہت مشکل۔ جسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرنا اور ایک ظالم کو خدا کا درجہ اس سے بھی زیادہ آسان۔

پاکستان میں اس وقت پانچ کروڑ افراد ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہیں، جس میں سے ڈھائی کروڑ سے ساڑھے تین کروڑ تعداد جوان افراد کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں غیر محسوس طور پر سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ وجوہ، تم شادی کیوں نہیں کرتے یا کرتی، ہائے جوانی گزر رہی ہے۔ ہائے وہ بیوہ ہو گئی، ہائے اسے طلاق ہو گئی۔ ہائے اس کے ہاں بچہ نہیں ہو رہا، پھر یہ لوگ منفی زیادہ سوچتے ہیں۔ اگر آپ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو منفی سوچ و فکر کے حامل افراد سے دور رہیں، کیوں کہ انہیں آپ کی فکر نہیں۔ یاد رکھیں تقدیر کا مالک اللہ تعالی ہے اور ہمیں کیا دینا ہے، کب دینا ہے، یہ اسی کو پتا ہے۔ لہذا لوگوں کی باتوں کے تعاقب میں کسی سراب میں کھونے کے بجائے، خود کو جہاں ہیں اور جیسے ہیں کی بنیاد پر قبول کرتے ہوئے، اپنی زندگی کو آسان بنا لیں۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •