دکھ کی دھوپ میں مسافرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو بہت سال ہو گئے، میرا بلاوا امریکا کے اردو اخبار ”اردو ٹائمز“ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا، جس کے لیے میں کئی سال سے کالم لکھ رہی تھی۔ یہ پروگرام نیویارک میں تھا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہوٹل کے جس کمرے میں مجھے ٹھہرایا گیا، وہاں میرے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی ایک اہم صحافی اور شاعرہ بھی تھیں۔ راز داری کے لیے ہم ان کا فرضی نام شہلا تصور کر لیتے ہیں۔ بہت محنتی، مثبت سوچ کی حامل، زندہ دل اور خوش لباس۔

کسی نے بتایا کہ وہ ایک گلوکار کی اہلیہ ہیں، جن کا بہت سال قبل جوان عمری میں اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ بد قسمتی سے انتقال کے وقت وہ وطن اور گھر والوں سے کوسوں دور اور تنہا تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا، کیوں کہ یہ سب میرے علم میں نہ تھا۔ مگر میری یاد کے جگنو میں ان کے شوہر کا ایک خوبصورت اور مقبول گانا مستقل جھلملا رہا تھا۔

جلد ہی جب ہم دونوں ایک دوسرے کی سہیلیاں بن گئیں، تو میں نے ان سے اپنے دلی افسوس کا اظہار کیا۔ میں آج بھی ان کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے اس ریلے کو فراموش نہیں کر سکتی، جس کا بند میرے افسوس کے دو جملوں پہ ٹوٹا تھا۔ میں شرمندہ ہو گئی کہ میں نے شاید اپنے اظہار میں کچھ جلدی کر دی۔ مگر انہوں نے بتایا کہ آج تک اس جدائی کے متعلق انہوں نے کسی سے گفتگو نہیں کی۔ حتی ٰکہ وہ اس تعزیتی پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے نکل آئیں، جو ان کے محبوب شوہر کی یاد میں رکھا گیا تھا اور جہاں وہ مہمان خصوصی تھیں۔ آج بھی ان کا یہی احوال ہے۔ مگر میں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے، ان کی یادوں کے مقفل خانوں پہ دھیرے دھیرے دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پہلی بار ہم دونوں کے درمیان اس درد نے مشترک اعتماد اور دوستی کا جو رشتہ جوڑا وہ آج بھی قائم ہے۔

کچھ عرصے قبل ان سے مختصر سی گفتگو فیس بک کے توسط سے ہوئی، تو انہوں نے کہا، ”اس دن آپ نے میرے دل کے ان بند دروازوں کو وا کر دیا اور وہ باتیں کیں، جو میں کبھی خود سے بھی نہیں کرتی ہوں۔“ انہوں نے بتایا۔ ”اس وقت جب مجھ پہ اپنے محبوب شوہر کی جدائی کا پہاڑ ٹوٹا تھا، تو بچے چھوٹے اور اسکول میں تھے۔ پریشانی کے اس دور میں بھی میں نے اپنے معیار سے اتر کے کبھی کچھ نہیں کیا۔ سماجی مسائل اور رویے کی وجہ سے ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنی ملازمت سے الگ رکھا کہ میں فالتو قسم کی باتوں کا ٹینشن نہیں سہار سکتی تھی۔ میں نے اپنی زندگی کی جنگ تنہا لڑی ہے“۔ انہوں نے مزید بتایا۔ ”اس وقت آپ سے گفتگو کے بعد سے آج تک میں نے اپنی پچھلی یادوں کو کبھی مڑ کے نہیں دیکھا۔ کیوں کہ دیکھتی تو پتھر کی ہو جاتی۔“

شہلا آج بہت کامیاب گھریلو اور پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی اس کامیابی کے باوجود جس بات نے مجھے سوچنے پہ مجبور کیا، وہ ان کا اپنے اس عظیم ترین ذاتی غم سے نپٹنا کہ جس کو شاید انہوں نے آج بھی دل سے قبول نہیں کیا۔ مجھ پہ زندگی اور انسانی رویہ کی پر اسراریت نئے اور انوکھے ڈھب سے منکشف ہوتی رہی ہے۔ شہلا کا غم بھی میرے لیے ایسا ہی ہے۔

منشیات کے عادی افراد کی تھریپسٹ ہونے کے ناتے سے مجھے اندازہ ہوا کہ اکثر وہ غم، جس سے لا شعوری طور پہ اس لیے دوری اختیار کی جائے کہ وہ اسٹریس کا سبب ہے، تو اس رویہ کے دور رس منفی نتائج نکلتے ہیں۔ گو ضروری نہیں کہ ایسا انجام ہر فرد میں حتمی ہو۔ کبھی غیر متوقع انسانی رویہ حیران بھی کر دیتا ہے۔ مثلاً میرے ذاتی تجربے میں ایک شخص نے ایک ٹریفک کے حادثے میں اپنی دو اولادوں اور بیوی کو کھو کر اپنے شدید غم کو منشیات اور شراب میں ڈبو دیا۔ وہ اس پر کبھی گفتگو کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اور ایک دن اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا۔

اس کے بر عکس دوسرا آدمی جو میرے شاگرد کا باپ تھا، اس نے دو بچوں اور بیوی کے ٹریفک میں حادثے میں مرنے کے بعد ایک آرگنائزیشن شروع کی، جو ڈرنک ڈرائیونگ کے خلاف کام کرتی ہے۔ اپنی تقاریر میں وہ اپنے ذاتی دکھ کو شامل کر کے لوگوں کو قائل کرتا کہ یہ نقصان کس قدر شدید ہے۔ ایک نے اپنے غم سے لا تعلقی کی مضبوط دیوار کھڑی کر کے، دوسروں سے مدد لینے سے گریز کیا اور دوسرے نے اپنے دکھ کا اظہار کر کے لوگوں سے ناتا جوڑا۔

کسی قریبی عزیز کی موت کی صورت، غم جدائی ہو یا کسی اور قسم کے نقصان کا غم مثلاً: کاروبار میں مکمل نا کامی، طلاق، دوست سے تعلقات کا منقطع ہونا، کسی جان لیوا بیماری کی تشخیص، امیگریشن کا تجربہ، نشہ کے عادی کا منشیات کو چھوڑنے کا غم۔ وغیرہ۔ انسانی رویوں پہ تحقیق کرنے والے ماہرین سماجیات نے اس غم اور جدائی سے متعلق احساسات کو مختلف مدارج میں مرحلہ وار تقسیم کیا ہے۔

یہاں میں سب سے زیادہ مقبول اور مستند غم کے پانچ مراحل کے ماڈل کا ذکر کروں گی، جسے 1969ء میں ایک سوئس نفسیاتی معالج الزبتھ کبلر راس نے پیش کیا۔ اس نے اپنے ماڈل کی بنیاد اپنے جان لیوا بیماری میں مبتلا انسانوں کے ساتھ کام کے تجربے پہ رکھی تھی۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس ماڈل میں درج مدارج کی مرحلہ وار ترتیب ضروری نہیں کہ ہر شخص میں اسی طرح ہو، اور یہ بھی اہم بات ہے کہ بہت سے لوگ محض چند مدارج تک ہی پہنچتے ہیں۔

1۔ ڈینائیل یا انکار؛ اگر کسی کے قریب از جان شخص کو جان لیوا بیماری کا پتا چلتا ہے، تو یہ حقیقت اس کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی۔ اپنے کو اس کی ممکنہ جدائی کے اسٹریس سے بچانے کے لیے، وہ اس حقیقت سے ہی منکر ہو جاتا ہے۔ زندگی کا کسی کے بغیر مکمل بدل جانا شاکنگ اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لیکن جب حقیقت کو مانے بغیر چارہ نہیں ہوتا، تو دکھ کے دبے جذبات ابھر آتے ہیں۔ اور ہم اگلے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

2۔ غصہ: جب آپ غم ناک حقیقت کو مان لیتے ہیں، تو اس زیاں پہ غصہ آتا ہے کہ آخر میں ہی کیوں؟ آپ اپنے غم اور غصے کو دوسروں، خاص کر قریبی لوگوں پہ اتارتے ہیں۔ غصے کا اظہار فطری اور ضروری ہے، جو بتدریج آپ کو حقیقت قبول کرنے کے ساتھ دوسروں سے جوڑتا ہے۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اکیلے نہیں، بلکہ دوسرے بھی ساتھ ہیں۔

3۔ بارگیننگ یا سودے بازی: اس غم میں مبتلا ہو کر، آپ اللہ سے سودے بازی کرنے لگتے ہیں۔ مثلا:
”بس ایک بار طبعیت ٹھیک ہو جائے تو میں بہت خیال رکھوں گا“ ۔
”اگر سب بدل جائے تو میں بھی بدل جاؤں گا۔“

زندگی دوبارہ نارمل کرنے کی خواہش میں کسی بڑی تبدیلی پہ راضی ہونا۔ اس اسٹیج میں اکثر پشیمانی اور تاسف کے جملے تواتر سے ادا ہوتے ہیں۔
”اگر میں نے یہ نہ کیا ہوتا۔ تو ایسا نہ ہوتا۔“

4۔ ڈپریشن یا اداسی: اس مرحلے پہ عموماً غم قبول کر لیا جاتا ہے۔ جو اس تکلیف دہ صورت احوال کی وجہ سے ایک خلا عود آتا ہے۔ اور زندگی سے دل چسپی ختم ہو جاتی ہے۔ احساس سے عاری، سن کیفیت اور ڈپریشن کی دوسری علامات جس میں خود کشی تک کا منصوبہ شامل ہو سکتا ہے۔

5۔ قبولیت: یہ آخری اسٹیج غم کی قبولیت کا ہوتا ہے کہ جب جذبات میں ٹھہراؤ کے ساتھ نئی حقیقت کو قبول کرنے لگتے ہیں۔ مثلا:
”میرے شوہر اب کبھی نہیں آئیں گے۔ یہ تکلیف دہ ہے مگر مجھے ان کے بغیر جینا سیکھنا ہے۔“
اس مرحلے میں نئی حقیقت کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا آ جاتا ہے۔ دوسرے لوگوں سے ملنا جلنا اور زندگی میں مصروفیت تلاش کرنا اور اس کا ادراک ہونا کہ زندگی محبوب کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔ اور نئے رشتے بھی بن سکتے ہیں۔

درد سے نبرد آزمائی اہم ہے۔ کیوں کہ یہ ڈپریشن، انگزائٹی، بے خوابی، ندامت، پشیمانی غصہ جیسے منفی جذبات پیدا کرنے کے ساتھ زندگی کی معنویت کا احساس ختم کر دیتا ہے۔ کسی انسان یا عزیز شے کو کھونے کے رد عمل میں غم منانا ایک فطری عمل ہے اور یہ بالکل ذاتی جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ کوئی کس طرح اپنے غم سے نبرد آزما ہوتا ہے اس کا تعلق فرد کی شخصیت، اس کی زندگی کے منفرد تجربات اور اس کے انداز فکر وغیرہ سے ہوتا ہے۔ اس پہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

اگر آپ خود یا کوئی آپ کا پیارا اس قسم کی صورت احوال سے دو چار ہے تو غم سے نبرد آزما کے لیے ضروری ہے کہ:
1۔ درد و غم کو حقیقت جان کر اسے تسلیم کریں۔
2۔ اس حقیقت کو بھی قبول کریں کہ یہ درد آپ میں مختلف قسم کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔
3۔ اس کو سمجھیں کہ اپنے درد سے نپٹنے کا آپ کا اپنا منفرد انداز ہو گا۔
4۔ اپنی مدد کے لیے ان لوگوں تک بالمشافہ رسائی کریں، جو آپ سے واقعی محبت کرتے ہیں۔ اور اپنی دلی کیفیت کا اظہار کریں۔
5۔ اپنے کو جذباتی طور پہ بہتر محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جسمانی صحت کا خیال رکھیں۔ مثلاً: اچھی غذا، یوگا، چہل قدمی پسندیدہ کھیل۔ وغیرہ۔
6۔ اسپورٹ گروپس کی طاقت، غم سے نبٹنے میں اہم ہے۔ جہاں آپ کو ایک قسم کے درد سے دو چار ہونے والوں کے ساتھ یکجائی کا احساس ہوتا ہے اور غم کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •