کورونا: صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے بیرن ٹرمپ بھی کووڈ 19 سے متاثر ہوئے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیرن ٹرمپ اور صدر ٹرمپ
Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ اور امریکی خاتون اول نے یہ انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے 14 سالہ بیٹے بیرن ٹرمپ کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا تاہم اب ان کا ٹیسٹ منفی آ گیا ہے۔

میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خدشہ اس وقت درست ثابت ہوا’ جب بیرن کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’خوش قسمتی سے وہ صحت مند نوجوان ہیں اس لیے ان میں کورونا کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔‘

یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ سمیت صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کے عملے کے ارکان بھی کورونا سے متاثر ہوئے تھے مگر اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

امریکی ریاست آئیوا میں انتخابی مہم پر جانے سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز کو بتایا کہ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے ‘ٹھیک’ ہیں۔

26 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایمی بیرٹ کی امریکی سپریم کورٹ کے لیے جج کی نامزدگی کی تقریب کو صدر ٹرمپ اور دیگر افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ خیال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اوّل میلانیا میں کورونا وائرس کی تصدیق

امریکی صدر ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقل، انتخابی مہم میں جلد واپسی کا اعلان

ٹرمپ سے رابطے میں رہنے والے سول و ملٹری عہدے دار بھی کورونا سے متاثر

واضح رہے کہ دو اکتوبر کو صدر ٹرمپ اور امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کورونا سے متاثر ہونے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی میلانیا ٹرمپ کی چیف آف سٹاف نے میڈیا کو بتایا تھا کہ بیرن ٹرمپ کا کورونا ٹیسٹ نیگیٹو آیا ہے۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک ریکارڈ 78 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ دو لاکھ 16 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

بیرن ٹرمپ اور صدر ٹرمپ

Reuters

میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'دو ہفتے قبل جب میں اور صدر ٹرمپ کورونا سے متاثر ہوئے تو اس وقت میں دھیان فوراً قدرتی طور پر ہمارے بیٹے کی جانب گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں بیرن ٹرمپ کا کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر ‘بہت شکر ادا’ کیا لیکن بعدازاں ان میں بھی وائرس کی تصدیق ہو گئی تھی۔

امریکی خاتون اول کا کہنا تھا ‘ایک طرح سے یہ اچھا تھا کہ ہم تینوں کورونا سے ایک ساتھ متاثر ہوئے تھے اس طرح سے ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔’ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ انھیں جسم درد، کھانسی اور تھکاوٹ سمیت انھیں کورونا کی ‘تمام علامات’ برداشت کرنے کے تجربے سے گزرنا پڑا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ‘کورونا سے صحت یابی کے لیے میں نے قدرتی طریقہ علاج اختیار کیا اور صحت مند خوراک اور مخلتف وٹامنز کا استعمال کیا۔’

صدر ٹرمپ

Reuters

واضح رہے کہ امریکی خاتون اول نے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں ہی قرنطینہ اختیار کیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین دن کے لیے میری لینڈ کے والٹر ریڈ ملٹری ہپستال داخل ہوئے تھے۔

کورونا سے صحت یابی کے بعد انھوں نے گذشتہ پیر سے اپنی انتخابی مہم کا دوبارہ آغاز کیا تھا اور اپنے حمایتوں کو بتایا تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ ‘طاقتور’ محسوس کر رہے ہیں۔

ان کی ذاتی معالج نے اتوار کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اب کسی دوسرے کو کورونا سے متاثر نہیں کر سکتے۔

صدر ٹرمپ ان دنوں اپنی صدارتی انتخابی مہم میں مصروف ہیں کیونکہ تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کو اب چند ہی ہفتے باقی رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16539 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp