میں کون: میری شناخت دھندلا چکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج میں ایک ایسی کہانی بیان کرنے جا رہی ہو جو صرف میری روداد نہیں ہو گی بلکہ اس ملک کی 98 فیصد لڑکیوں کی آپ بیتی ہو گی۔ یہ صرف میرے احساسات جذبات اور حالات کی عکاس نہیں ہے بلکہ میرے ملک کی بیشمار لڑکیوں کی ترجمان ہو گئی۔ میرا تعلق ایک روایتی پنجابی گھرانے سے ہے جہاں بیٹے کو تو مادر پدر آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن بیٹی پر ہر طرح کی قدغن لگائی جاتی ہے۔ ایک جملہ جو آج بھی میری سماعتوں میں گونجتا ہے اکثر بولا جاتا تھا کہ ماں باپ کا کام بیٹیوں کو صرف رسمی تعلیم دلانا ہوتا ہے اگر بیٹی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے یا پھر کوئی ملازمت کرنا چاہے تو وہ شادی کے بعد کرے۔

یہاں تھوڑی دیر رک کر سوچئے جہاں پر لڑکی کو اپنے والدین کے گھر میں مزید تعلیم اور ملازمت کرنے کا اختیار نہ ہو وہاں پر اگر لڑکی کی شادی اپنی ہی سوچ والے گھرانے میں کر دی جائے تو اس کی خواہشات کی کیا اوقات ہو گی۔ شوہر کے گھر میں آپ کی حیثیت ایک ریموٹ کنٹرول روبوٹ جیسی ہوتی ہے جس کے بٹن دبا کر عورت کو کسی بھی سمت میں گھمایا جا سکتا ہے۔ جب میں نے اپنا ماسٹرز مکمل کیا تو مجھے ملازمت کی اجازت نہ مل سکی کیوں کہ میرے بھائی شادی کر کے اپنی الگ الگ دنیا آباد کر چکے تھے۔

اور مجھے اپنے والدین کی تنہائی کو بانٹنا تھا۔ ایم فل کرنا میرا ہمیشہ سے خواب تھا لیکن یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا کیوں کہ اگر میں دوسرے شہر چلی جاتی تو والدین تنہا رہ جاتے۔ ایک دفعہ پھر مجھے خودغرضی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اس کے متضاد ہمارے گھر میں بیٹوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل تھی وہ اپنی زندگی کا ہر فیصلہ خود کر سکتے تھے اپنی مرضی کی شادی کر کے دوسری دنیا بھی آباد کر سکتے تھے۔ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا ہم عورت کو ایک گوشت پوست کا لوتھڑا کیوں سمجھتے ہیں اسے رشتوں کی کسوٹی پر کیوں تولتے ہے۔ میں آج ایک ایسے گورکھ دھندے میں گم ہو چکی ہو جہاں پر میری شناخت دھندلا چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
طیبہ زریں کی دیگر تحریریں