فیملی پلاننگ ہی اکسیر اعظم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس کی کوئی ایک ایجاد جو پورے گھر، پورے ملک اور خاص طور پر عورتوں کو فوری سکھ دے سکتی ہے۔ زندگی میں سکون کے کئی سال دے سکتی ہے۔ غربت کو اگلی نسل میں شفٹ ہونے روک سکتی ہے۔ عورتوں کو خوب صورت اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے دوستی اور پیار کے اظہار کا موقع دے سکتی ہے۔ وہ جادوئی ایجاد کون سی ہے؟ اس ایجاد کو کہتے ہیں فیملی پلاننگ۔

ایک عام پاکستانی کی زندگی کو دیکھیں۔ مرد ہو یا عورت اس کی زندگی میں سکون کا شاید ہی کوئی مہینہ یا سال ہو۔ بچہ پیدا ہوا تو گھر بہن بھائیوں سے بھرا پڑا ہے یا اگر آپ پہلے بچوں میں سے ہیں تو اپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اگلے چند سالوں میں بھر جائے گا۔ ماں بہت کم ہی آپ کی ماں رہ جائے گی اور باپ بیچارہ تو بچے کے ساتھ کھیلنا اپنا حق نہیں سمجھتا یا پھر اسے اپنے شایان شان نہیں سمجھتا۔ باپ دفتر، دکان یا کسی بھی اور مزدوری کی جگہ سے ڈبل ڈیوٹی کر کے آئے گا اور چاہے گا کہ بچوں سے ملاقات نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔

ماں بھی کھانا پکانے، برتن کپڑے اور گھر کی صفائی میں اتنی پھنسی ہو گی کہ بچہ پیار اور سکون کو ترس ہی جائے گا۔ اور آہستہ آہستہ وہ لاڈ کی خواہش ہی کو بھول جائے گا۔ یاد رہے ہم ایک عام پاکستانی کی آپ بیتی کا حساب لگا رہے ہیں۔

تو بچہ پانچ سال ہوا اور سکول شروع، صرف سکول ہی نہیں، ٹیوشن اور مولوی صاحب بھی ساتھ ہی چلیں گے۔ تعلیم بھی کوئی خوش قسمت ہی مکمل کر پاتا ہے کیونکہ ہم نے بچپن سے ہی والدین کے بچے پالنے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں نے۔ تعلیم پوری ہوئی یا آدھی رہ گئی، لڑکوں کے لیے فوراً نوکری اور لڑکیوں کے لیے شادی کی فکر۔

مہذب دنیا میں نوکری کے بعد بہت سے نوجوان لوگ سیر سپاٹے کرتے ہیں زندگی انجوائے کرتے ہیں اور ہم اپنے والدین کے بچے پال رہے ہوتے ہیں۔ جہیز اور ولیمے کے پیسے جمع کر رہے ہوتے ہیں۔ ادھر سنبھل نہیں پائے کہ فوراً شادی، پھر اس سے بھی جلدی بچے اور دھڑا دھڑ بچے۔ والدین کے بچوں کے جہیز اور ولیموں سے چھٹکارا ابھی ملا نہیں کہ اپنے بچے شادی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ اور پھر وہ قطار بھی لمبی ہے۔

ریٹائرمنٹ سر پر کھڑی ہے لیکن کچھ بچے ابھی بھی سکولوں میں ہیں۔ بندے کی ریٹائرڈ لائف جو کہ دکھوں اور فکروں سے پاک ہونا چاہیے تھی وہ بچوں کی تعلیم اور شادیوں کی نظر ہو جائے گی۔ جہیز اور ولیموں کی فکر میں گزر جائے گی۔

اس کا صرف ایک ہی حل ہے۔ اگر فیملی پلاننگ کی ہوتی اور ایک دو بچے ہوتے جو ریٹائرمنٹ سے پہلے سیٹ ہو چکے ہوتے تو کم از کم ریٹائرمنٹ تو سکون سے گزر جاتی

اگر ابھی جوان ہیں اور آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تو زیادہ دور نہ جائیں، آپ آج ہی اپنے اردگرد کوئی ایک دو درجن رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو دیکھیں جنہوں نے بچوں کی تعداد سے اپنے آپ کو مارا ہوا ہے۔ تو ان کے متعلق ذرا سوچیں کہ ان کے صرف دو بچے ہوتے تو ان کی حالت کتنی مختلف بلکہ اچھی ہوتی۔ ماں کی صحت، ان کے گھر کے اخراجات، تعلیم کے اخراجات، آگے چل کر شادیوں کی فکریں اور اخراجات، اگر آٹھ یا چھ کی بجائے انہوں نے دو پر اکتفا کیا ہوتا تو ان کی فکریں کتنی کم ہوتیں۔

فیملی لیول سے ہٹ کر ملکی لیول پر دیکھیں تو حال اور بھی برا ہے۔ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اڑھائی کروڑ سکول جانے کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ صرف یہی نہیں پاکستان میں ہر روز سولہ ہزار نو سو بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ان اڑھائی کروڑ بچوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ یہ بچے یقیناً بہت کم آمدنی والے گھروں سے ہوں گے۔ اور ایک شخص جس کو سکول جانے کا موقع ہی نہیں ملا اس کی اپنی آمدنی بھی تو بہت کم ہی ہو گی۔ اس طرح غربت ہماری اگلی نسل میں شفٹ ہو رہی ہے۔ غربت ختم کرنے کا کوئی پروگرام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک سارے بچوں کو تعلیم کے بھرپور مواقع نہ ملیں۔ اور اگر ہمارے بچوں کی تعداد میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ایسے ہی ہوتا رہا تو پھر سب بچوں کے لیے تعلیم اور نوجوانوں کے لیے معقول روزگار ناممکن ہی رہے گا۔ غربت یونہی ننگی ناچتی رہے گی۔

دوسروں سے کچھ تو سیکھ لیں۔ دور نہ جائیں، بنگلہ دیش ہی کو دیکھیں۔ جب ہم اور بنگلہ دیش الگ ہوئے تھے تو ہماری آبادی بنگلہ دیش سے کم تھی۔ انہوں نے فیملی پلاننگ کی اور ہم نے نہیں کی۔ آج ہماری آبادی ان سے سات کروڑ زیادہ ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ آج ہم بھی 22 کروڑ کی بجائے 15 کروڑ ہوتے تو ہمارے اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر خوار نہ ہو رہے ہوتے۔ ہماری ذات پر بوجھ بہت کم ہوتا اور پاکستان بھی بہت بہتر حالت میں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 245 posts and counting.See all posts by salim-malik