پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ، قائدین کی حکومت پر کڑی نکتہ چینی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جلسے کا ایک منظر

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈٰی ایم) کے زیر اہتمام پہلا جلسہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ہوا۔

گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے جلسے میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی مسائل اور معاشی صورتِ حال پر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ یہ سوغات آپ کی ہی دی ہوئی ہے۔ آپ ہی اس پریشانی کا موجب ہیں۔

فوج کے سربراہ کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی اچھی بھلی چلتی حکومت کو چلتا کیا۔ ججوں سے زبردستی فیصلے لکھوائے۔ ان کو جواب دینا پڑے گا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے بل، بجلی بن کر گر رہے ہیں۔ جس کا جنرل قمر جاوید باجوہ جواب آپ کو دینا ہو گا۔ ان غریبوں کے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ذمہ دار بھی وہ ہیں۔ اس کا جواب بھی ان کو ہی دینا ہو گا۔

فوج کے سربراہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس کا جواب اور حساب بھی ان کو دینا ہو گا۔

پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ جنرل فیض حمید کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔ ان کو بھی جواب دینا ہو گا۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے الزامات پر پاکستان کی فوج کے ترجمان کی جانب سے کسی قسم کا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ حکمران جماعت کے وفاقی وزرا نے نواز شریف کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی اربوں روپے کی جائیدادیں سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوں عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کیس نہیں بنایا گیا۔ نیب کو ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

سابق فوجی جنرل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ الزامات کے باوجود سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر کیسے کام کر سکتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ نیب ایک ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا بنایا ہوا ایک کالا قانون ہے۔ شہباز شریف، حمزہ شہباز، خورشید شاہ اور دیگر اپوزیشن رہنما آج بھی پابند سلاسل میں ہیں۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ کب تک عمران خان نیازی اور عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن کو تحفظ دیتے رہیں گے۔​

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو باغی اور اشتہاری کہنا ہے تو ضرور کہیے۔ اثاثے ضبط کر لیجیے۔ لیکن نواز شریف غریب اور مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عوام کے ووٹ کو عزت دلا کر رہے گا۔ بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر رہنما ووٹ کو عزت دلا کر رہیں گے۔

جلسے سے نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا

اپنی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کیوں منتخب وزیرِ اعظم کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے جاتے۔ کبھی ڈان لیکس اور کبھی دھرنا آڑے آ جاتے ہیں۔ جتنا وقت ان آئین توڑںے والوں نے سازشوں پر ضائع کیا۔ اس کا آدھا وقت بھی دفاع پر لگاتے تو ملک بہت سی قباحتوں سے بچ جاتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ڈکٹیٹر سیاسی رہنماؤں کو غدار قرار دیتے آئے ہیں۔ آئین توڑنے والے خود کو محبِ وطن کہتے ہیں۔

‘کسی کو حق نہیں کہ وہ عوامی نمائندے کو نکالے’

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز نے کہا کہ آج پاکستان کے تمام شہریوں کے کاروبار بند ہیں۔ ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا ایسا ہی برا حال ہوتا ہے۔

مریم نواز کا جلسے سے خطاب

گوجرانوالہ آمد کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاستدان کا مقدمہ لے کر نہیں آئیں بلکہ وہ عوام کے پاس عوام کا ہی مقدمہ لے کر آئی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ عوامی نمائندے کو نکالے۔ حکومت بنانے اور ختم کرنے کا اختیار صرف عوام کو ہی حاصل ہونا چاہیے۔​

‘حکومت نے معیشت تباہ کر دی ہے’

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

جلسے میں موجود لوگوں سے انہوں نے سوال کیا کہ کیا انہیں گزشتہ دو سال میں آنے والی تبدیلی پسند آئی؟

‘موجودہ حکمران آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے’

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ پہلوانوں کا شہر ہے اور پہلوان اب اکھاڑے میں اُتر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن پی ڈی ایم کے سربراہ بھی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جعلی حکمران ایک ٹمٹماتا ہوا چہرہ ہیں۔ اب جمہوریت کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تحریک چل پڑی ہے۔ عوام کا سمندر کراچی، لاہور، ملتان، اور پشاور میں آئے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ موجودہ حکمران آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے۔ اِن کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن ہاتھ ہلا کر شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب یہ تحریک چل پڑی ہے اور تحریک تب ہی رکے گی جب ادارے سیاست میں مداخلت نہ کریں۔ وہ اپنے کردار پر معافی مانگیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ادارے اگر اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کریں تو ملک نہیں چلا کرتے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اداروں سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔

‘جلسے کو کسی صورت ناکام نہیں کہا جا سکتا’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کی رائے میں اپوزیشن جماعتوں کے جلسے کو ایک آندھی تو کہا جا سکتا ہے لیکن اِس جلسے کو بھونچال نہیں کہا جا سکتا۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے جلسے کو کسی صورت ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک کامیاب جلسہ ہے لیکن جلسے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ سیاسی کارکن کو جس طرح سے متحرک کیا جانا چاہیے تھا۔ اُس طرح سے نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن یہ چاہتی ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ الگ الگ ہوجائیں۔ جب کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کے بجائے عمران خان سے لڑنا چاہتی ہے۔


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا جلسہ ایک بھر پور جلسہ تھا۔

حامد میر کے مطابق اُنہوں نے ایسا جوش و جذبے والا ہجوم بہت کم دیکھا ہے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں بہت سے ایسے لوگ بھی آئے تھے جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ یہ وہ عام افراد ہیں جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور مہنگائی سے تنگ آ کر اِس جلسے میں آئے تھے۔

جلسوں سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا: عمران خان

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے جلسوں سے اُنہیں اور اُن کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وزیراعظم کے بقول یہ صرف اپنی کرپشن اور چوری بچانے کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ اس لیے حکمران جماعت اپنی توجہ صرف کام پر مرکوز رکھے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس ملک کو لوٹنے اور منی لانڈرنگ کرنے والے ایک بار پھر اکٹھے ہو گئے ہیں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نیب زدہ لوگوں کی تحریک سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے جلسوں کی تحریک بری طرح ناکام ہو گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عوام کے سامنے روز بروز بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ روز جلسہ کریں۔ اپوزیشن کے جلسوں اور تحریک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

گوجرانوالہ کے جلسے کے لیے ضابطۂ اخلاق

اس سے قبل گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت کے لیے 28 نکاتی معاہدہ طے پایا۔ جس کے تحت کارکنوں کے درمیان تین سے چھ فٹ فاصلہ رکھنے کے علاوہ اسٹیڈیم کے علاوہ کسی دوسرے مقام سے تقریر کی اجازت نہیں ہو گی اور جلسہ رات گیارہ بجے تک ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہر جلسے کا حکومت پر کوئی نہ کوئی دباؤ ضرور ہوتا ہے۔ اِسی طرح حزبِ اختلاف کے اس جلسے کا حکومت پر کسی حد تک تو دباؤ ہو سکتا ہے۔ لیکن فی الحال حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں اگر پی ڈی ایم کے جلسے پر وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ ایک جلسہ ہو گا اور گزر جائے گا۔ اِس جلسے سے حکومت نہیں جائے گی۔ لیکن ایک عوامی دباؤ ضرور پڑے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر واقعی زیادہ لوگ اکٹھے ہوئے تو اُس کے اثرات ہوں گے اُن کی رائے میں حکومت نے جلسے کی آخری وقت میں اجازت اِس لیے دی تاکہ انتظامات کو محدود رکھا جا سکے اور آخری وقت تک لوگوں کو یہ احساس رہے کہ جلسہ ہو گا کہ نہیں ہو گا۔

جلسے کی شرائط کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے۔ عموماً ان شرائط پر پابندی نہیں ہوتی۔

‘جلسے کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہو گا’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کی رائے میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسے اسی وقت سود مند ہو سکتے ہیں جب ساری جماعتیں ایک ہی صفحے پر ہوں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسے کی منتظم مسلم لیگ (ن) ہے اور اس جلسے کا زیادہ فائدہ بھی اسے ہو گا کیوں کہ اس کا کارکن متحرک ہو جائے گا۔

اُن کے بقول گوجرنوالہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ یہاں مسلم لیگ (ن) کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے اور لوگ باہر بھی نکلتے ہیں جب کہ اس کے قریبی شہروں لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور قصور سے بھی لیگی کارکن با آسانی یہاں پہنچ کر شرکت کر سکتے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اس جلسے سے حکومت پریشان نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی دباؤ ہے۔ اُن کے بقول احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے۔ لیکن اپوزیشن جماعتیں اپنی کرپشن بچانے کے لیے یہ جلسہ کر رہی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ جی ٹی روڈ بلاک کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت نے جلسے کی اجازت دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں لیگی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی تحریک کا آغاز پنجاب سے کیا ہے۔ امید ہے عوام جلسے میں بھرپور قوت کا مظاہرہ کر کے سلیکٹڈ حکمرانوں کو پیغام دیں گے عوام اُنہیں مسترد کر چکے ہیں۔

‘عوامی اور سیاسی جلسے میں فرق ہوتا ہے’

سہہل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اگر حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسوں کا ایک ٹیمپو بن گیا اور لوگ بھی باہر نکلے تو اِس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔ ابھی تو صرف کل کا جلسہ ہے۔ پی ڈی ایم کے باقی جلسوں کے بعد دیکھیں کیا صورتِ حال بنتی ہے۔

سہیل وڑائچ کے بقول عوامی اور سیاسی جلسے میں فرق ہوتا ہے۔ سیاسی جلسوں میں لوگوں کو ٹاسک دے کر بلایا جاتا ہے اور پارٹی رہنماؤں کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں کہ وہ اتنے کارکن لے کر آئیں۔ لیکن عوامی جلسے وہ ہوتے ہیں جن میں عوام اپنی مرضی سے شریک ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ “اگر جلسے میں ٹوٹی چپل، پھٹے کپڑوں والے یا ایسے افراد جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تو پھر تو یہ تحریک آگے بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر جلسے میں وہی مخصوص سیاسی کارکن آئے جنہیں ڈیوٹیاں لگا کر بلایا جاتا ہے تو پھر یہ صرف ایک جلسہ ہی ہو گا۔”

کیا اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن تحریک سے پریشان ہے؟

صابر شاکر کے مطابق حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسے کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ مخالف تقریریں ہو رہی ہیں، دوسری طرف اُنہیں پیغامات بھجوائے جا رہے ہیں۔

صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ڈیل کے لیے معاملات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اُن کے بقول شریف خاندان کا اصل ہدف یہ ہے کہ اُنہیں ریلیف دیا جائے۔

صابر شاکر کے بقول اُنہیں نہیں لگتا کہ شریف خاندان انقلابی ہو گیا اور واقعتاً اُن کی سوچ بھی اب جمہوری ہو گئی ہے۔


جلسے سے ایک روز پہلے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے الزام لگایا تھا کہ پولیس، پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہے۔ اُنہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عمران خان حکومت کے غیر قانونی احکامات ماننے سے گریز کرے۔

مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ عام انتخابات میں گوجرنوالہ سے قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستیں جیتی تھیں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ ماہ 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسوں کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ آئندہ سال اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال بھی دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 134 posts and counting.See all posts by voa