مجھے نوبل انعام کی خواہش نہیں مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے پوری امید تھی کہ امسال ادب کا نوبل انعام اس فقیر کو دیا جائے گا (یہاں فقیر سے مراد فدوی اور فدوی سے مراد میں خود ہوں ) لیکن ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی مغربی اداروں نے تعصب سے کام لیتے ہوئے کسی نا معلوم امریکی شاعرہ کو ادب کا نوبل انعام دے دیا ہے۔ صاحب طرز ادیب اور کالم نگار مسعود اشعر صاحب (اس پائے کے اب چند لوگ ہی ہمارے درمیان رہ گئے ہیں ) نے اپنے تازہ کالم میں اس شاعرہ کی نظم کے ایک حصے کا ترجمہ لکھا ہے اور ساتھ ہی پاکستانی ادیبوں اور شاعروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر نوبل انعام کمیٹی والوں کا دل جیتنا ہے تو اس قسم کی نظمیں لکھا کرو۔

یہ نظم پڑھ کر مجھے شفیق الرحمن کے مضمون میں جدید شاعری کے نمونے کی ایک نظم یاد آ گئی، وہ بھی کچھ اسی قسم کی تھی، ملاحظہ ہو: ”لڑ رہی ہیں بلیاں /اف بلیاں /بل/لیاں /باغ میں اس وقت شاید لڑ رہی ہیں بلیاں /دھندلکا ہے شام کا/وقت ہے آرام کا/کام کا/انعام کا/اور لڑ رہی ہیں بلیاں /ہوں گی شاید چار یہ/یا تین ہوں /لیکن ذرا سا یہ شبہ دل میں ہے میرے بڑھ گیا کہ بلیاں یہ پانچ ہیں /اور چھ تو ہو سکتی نہیں /اور چاندنی سی رات ہے /اور چاند ہے نکلا ہوا/اور چاندنی ہے چار سو/اور چار دن کی چاندنی/اور پھر اندھیری رات ہے /کیا کہہ رہا تھا میں بھلا/افوہ!

ابھی تو یاد تھا/اس حافظے کو کیا ہوا/کم بخت سے سمجھے خدا/ہاں مجھ کو یاد آ ہی گیا/کہ لڑ رہی ہیں بلیاں /باغ میں اس وقت شاید لڑ رہی ہیں بلیاں۔ ”یہ نظم یاد کر کے دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ اگر نوبل انعام کے متعصب ججوں نے چھہتر برس قبل اردو شاعری کے اس شاہکار کو کسی قابل نہیں سمجھا تھا تو آج کے میرے علامتی و انقلابی کالم بھلا کس کھیت کی مولی ہیں۔ اس کے باوجود نہ جانے کیوں ہر سال مجھے ایک موہوم سی امید ہوتی ہے کہ شاید اس مرتبہ نوبل انعام والے تعصب کی عینک اتار کر میرے کالم پڑھیں گے اور پھر اچانک مجھے سویڈن سے ایک فون آئے گا کہ مبارک ہو کمیٹی نے آپ کا نام ادب کے نوبل انعام کے لیے فائنل کر لیا ہے۔

مگر افسوس کہ مغرب والے اب تک اپنے تعصب سے باہر نہیں آ سکے۔ اور بے شک مغربی مفکرین کی دانائی اور انصاف پسندی کے بارے میں میرا اندازہ بھی غلط نکلا۔ اردو علامتی شاعری کے بانی اور ہمدم دیرینہ جناب عاشق چمٹے والا سے جب میں نے مغرب کی اس فکری مفلسی کے بارے میں استفسار کیا تو آپ نے چمٹے سے اپنی کمر پر خارش کرتے ہوئے اپنا ایک علامتی شعر پڑھ کر گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا کہ ”اے غازی یہ تیرے پراسرار بندے، جنہیں تو نے بخشا ہے نوبل انعام“ !

اگر آپ نے یہاں تک یہ کالم پڑھ لیا ہے تو آپ بالکل درست نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دراصل آج میرا کالم لکھنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر بات وہی کہ اگر میں کالم نہیں لکھوں گا تو ادب کا خلا کیسے پر ہوگا۔ نوبل انعام کیسے گھر آئے گا۔ آخر یہ بار میرے ناتواں کندھوں پر ہی تو ہے۔ اس بارے میں قدرے سیانے دوست سے بات ہوئی تو اس نے کافی سنجیدگی سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ ادب کا نوبل انعام دراصل سویڈش اکیڈمی دیتی ہے اور طریقہ کار اس کا یہ ہے کہ ہر سال یہ ادارہ قریباً چھ ہزار لوگوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ انعام کا حقدار سمجھنے والوں کا نام تجویز کر کے اکیڈمی کو بھیجیں۔

یہ نامزدگیاں کرنے والوں میں کچھ تو خود نوبل انعام یافتہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سویڈش اکیڈمی کے ممبران، عالمی شہرت یافتہ ادیب اور دنیا کی نامور جامعات سے وابستہ استاد اور دانشور بھی نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں بھیجتے ہیں۔

اس پورے عمل کے نتیجے میں سو سے اڑھائی سو نامزدگیاں موصول ہوتی ہیں اور پھر نوبل کمیٹی ان کی چھان پھٹک کر کے کسی خوش قسمت ادیب کو نوبل انعام سے نوازتی ہے۔ اپنے عقل مند دوست کی یہ باتیں سن کر میں بہت خوش ہوا کہ بظاہر یہ تمام مراحل بہت کٹھن لگتے ہیں مگر سو لوگوں سے مقابلہ کر کے انعام جیتنا کوئی مشکل کام نہیں ہونا چاہیے۔ نظریہ احتمال (Probability Theory) کے تحت اگر میں ہر سال دس کالجوں کے پروفیسروں سے بھی اپنی نامزدگی ’فارورڈ‘ کر وا لوں تو اگلے دس پندرہ برس میں سویڈش کمیٹی مجھے یہ انعام دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ لیکن میرے دوست نے یہ کہہ کر میری امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ اول تو اپنی نامزدگی کرنے والا از خود نا اہل ہو جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ سویڈش اکیڈمی جن تعلیمی اداروں کی نامزدگیوں پر غور کرتی ہے ان میں گورنمنٹ کالج برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن، تاندلیانوالہ بہر حال شامل نہیں۔

اب اگر آپ نے یہاں تک یہ کالم پڑھ لیا ہے تو یقیناً آپ کو بھی آج کوئی کام نہیں لہذا تعصب کا الزام لگا کر نوبل انعام یافتہ ادیبوں کے مزید لتے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تفنن برطرف، نوبل انعام پر زیادہ تنقید ادب اور امن کے شعبوں میں دیے جانے والے تمغوں پر ہوتی ہے، فزکس، کیمسٹری، طب اور معیشت کے انعاموں پر بھی اعتراض ہوتا ہے مگر اس کی شدت کم ہوتی ہے او ر اس کی وجہ بھی سادہ ہے کہ سائنس کے شعبوں میں کی جانے والی تحقیق کو کسی بھی پیمانے پر جانچنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں ادب یا امن انعام کے بہترین حقدار کا تعین کرنا مشکل کام ہے۔

اگر دنیا کی مثالی کمیٹی بھی بنا دی جائے جو ہر طرح سے غیر جانبدار ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اس کے دیے گئے ادبی تمغے پر اعتراض کی گنجایش نکل آئے گی۔ 1901 میں جب نوبل انعام کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت ٹالسٹائی زندہ تھا، جنگ اور امن تہلکہ مچا چکا تھا، مگر کمیٹی نے اسے نوبل انعام کے قابل نہیں سمجھا اور بعد ازاں جب انہیں یہ خیال آیا تو ٹالسٹائی نے انکار کر دیا کہ اس کا نام نامزدگیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے۔ اسی طرح کافکا، جیمز جوائس، بورخیث، گورکی، بریخت، تھامس ہارڈی، مارک ٹوین، چیخوف بھی نوبل انعام کے حقدار نہیں سمجھے گئے جبکہ ان کے مقابلے میں سکینڈینیویا کے کئی غیر معروف ادیبوں کو یہ ایوارڈ آسانی سے مل گیا۔

ادھر برصغیر میں یہ ایوارڈ کوئی سو سال پہلے ٹیگور کو دیا گیا تھا، اس کے بعد علامہ اقبال، قرہ العین حیدر، بیدی، منٹو، اشفاق احمد، کرشن چندر، غلام عباس، نیر مسعود، مشتاق یوسفی وغیرہ میں سے کسی کو اس انعام کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ آگ کا دریا کا ترجمہ خود قرہ العین حیدر نے کیا تھا مگر سنا ہے کہ وہ ترجمہ اعلی ٰ معیار کا نہیں تھا،

اسی طرح حال ہی میں آب گم کا ترجمہ بھی شائع ہوا ہے مگر بات نہیں بنی۔ بنے بھی کیسے۔ یوسفی صاحب نے تو اپنے دیباچے کا عنوان ہی ”پس و پیش لفظ“ رکھا ہے، بھلا اس کا کیا ترجمہ ہو سکتا ہے اور کیسے سویڈش اکیڈمی والوں کو سمجھایا جا سکتا ہے کہ یو پی سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے کردار ’قبلہ‘ جب اپنی اجڑی ہوئی حویلی کی تصویر دکھا کر ہر کسی کو کہتے پھرتے ہیں کہ ”یہ چھوڑ کر آئے ہیں“ تو اس ایک فقرے میں کیا جہان آباد ہے۔

بہرکیف، مجھے خوشی ہے کہ مارک ٹوین سے لے کر ٹالسٹائی تک اور قرہ العین حیدر سے لے کر مشتاق یوسفی تک کسی کو ادب کا نوبل انعام نہیں ملا، اب میں اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے نوبل انعام کی کوئی خواہش نہیں۔ البتہ عاشق چمٹے والے کی طرح اگر کوئی دوست سویڈش اکیڈمی کو میری نامزدگی بھیجے گا تو ٹالسٹائی کی طرح میں کوئی اعتراض بھی نہیں کروں گا، آخر ان غریبوں کا اچھا بھلا روز گار لگا ہے، کیوں میری وجہ سے خراب ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 136 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada