مستنصر حسین تارڑ کے مختصر، غیر تحریری سفر نامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”مجھے پک کرنے کے لئے ٹی وی کی گاڑی نہ بھیجیں، میں پیدل آ جاؤں گا۔“ یہ پیغام، صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو پروڈیوسر، کو ایک دفعہ نہیں، بارہا وصول پایا جو مختلف حوالوں سے سب کے لئے حیرت کا باعث ہوتا۔ ان کے پڑاؤ (پرانے ایم این اے ہوسٹل) اور سیکٹر ایف سکس میں واقع پی ٹی وی مرکز کے درمیان اتنا کم فاصلہ نہ تھا کہ کوئی صبح صبح یہ ارادہ باندھے۔

یہ تجسس، وضاحت چاہنے پر، ایک خوش گوار حیرت ہر تمام ہوا کہ ایسی خواہش کی وجہ، محض اس لئے کی گئی ہے کہ تنہا چہل قدمی میں میسر آنے والی یکسوئی نئے خیالات کو بڑھاوا اور موجودہ خیالات کو نکھار دیتی ہے۔

شاید، مختلف خصوصیات میں سے یہ، وہ ایک خوبی ہے جس سے کسی قدر اندازہ ہوتا ہے کہ بہتر نتائج کے لئے کیوں کر تیاری کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر شخصیت سفر کی بھی اتنی ہی قائل ہو، تو یقیناً یہ کامیابی کا وسیلہ تو بنتا ہے۔

اس پس منظر میں اب اگر مستنصر حسین تارڑ کو صبح کی نشریات (اور ٹی وی میزبانی) سے ملنے والی شناخت کا جائزہ لیا جائے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن کی سکرین کی وہ چند شخصیات جنہیں دیکھنے اور سننے والوں کی طرف سے بے پناہ چاہا گیا اور جنہیں حقیقتاً لوگوں نے گھر کا فرد جانا اور کبھی، جنہیں سکرین پر نہ پا کر اپنے معمولات میں کوئی کمی سی محسوس کی، اس فہرست میں آپ ان کا نام، کسی بھی بلند سطح پر رکھ سکتے ہیں۔

اس مقبولیت کا ایک اور اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا چاہا جانا کسی خاص عمر سے مخصوص نہ تھا۔ چاچا جی سے سکول جانے والوں کی محبت تو مثالی تھی ہی، سحر خیزی کے عادی، سبھی صبح صبح ان کی آواز، گفتگو اور موجودگی کے تب عادی ہو چکے تھے، جب پی ٹی وی صبح کی ٹرانسمیشن اور دن کا آغاز، ان کی رفاقت میں کیا کرتا تھا۔

بچوں میں ان کی مقبولیت، ہمارے ٹیلی وژن کے تاریخ کا ایک منفرد باب قرار دیا جانا چاہیے کہ ایسی اور کوئی مثال بہ ظاہر نظر نہیں آتی۔ عموماً ”اس سطح پر اپنی بات پہنچانے کے لئے، ہمارے معاشرے میں خواتین کو زیادہ موزوں تصور کیا جاتا ہے مگر یہ میدان بھی انھوں نے مار لیا اور ایسا ہونے میں ان کی اس اپروچ کا بڑا دخل ہے جس کے تحت انھوں نے اپنے لہجے، الفاظ کے چناؤ اور براہء راست تخاطب کی چاشنی کا کمال دکھایا کہ آج بھی، وہ نسل، اس عہد کے اس مکالمے کو اپنی خوش گوار یادوں کا حصہ سمجھتی ہے اور (جہاں موقع ملے) اس کا فخریہ اظہار کرتی ہے۔

عمومی طور پر ابلاغ (اور خصوصی طور پر میزبانی) میں حس مزاح، پیغام کو سہل اور حد درجہ قابل قبول بنا دیتی ہے، تارڑ صاحب کے ہاں یہ خوبی ان کی خداداد مسکراہٹ کے اضافے سے دو چند ہو جاتی ہے۔ ان کا شگفتہ لہجہ کسی سنجیدہ بات کے لئے بھی اتنا ہی کارگر ہوتا ہے، جتنا کسی ہلکے پھلکے موضوع کے لئے اثر انگیز۔

سکرین پر شگفتگی اپنی جگہ، آف سکرین اپنی سنجیدگی کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ اس حوالے سے یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اپنے تمام تر مطالعے، مشاہدے اور تجربے کے با وجود، انھوں نے کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں کے لئے ممکنہ تیاری میں کمی نہ آنے دی۔ اس کا اظہار، ہمیشہ ان متعدد کتابوں اور رسائل سے ہوتا، جو وہ کسی بھی موقع پر اپنے ہم راہ رکھنا نہ بھولتے۔

جس معاشرے میں اپنے معمولی اور سطحی مفاد کے لئے سمجھوتا کر لینے اور خاموشی کو ترجیح دینے کا رواج عام ہو، وہاں مستنصر حسین تارڑ جیسی (آن سکرین اور آف سکرین) صاف گوئی اور اپنے نقطہء نظر کا بر ملا اظہار، غنیمت بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔

ان ذاتی خیالات سے قطع نظر، ٹیلی وژن میزبانوں کی جھرمٹ میں انھیں، اس درجہ (سدا بہار) مقبولیت کیوں ملی۔ نئی نسل کے میزبانوں کے لئے انھیں رول ماڈل کے طور پر لے کر، اس سوال کا جواب ضرور ڈھونڈنا چاہیے، کیوں کہ، میں ایسا سمجھتا ہوں، کہ مستقبل کے میزبانوں کی تربیت اور فکری اور عملی رہنمائی کے بہت سارے گر، اس ایک سوال اور اس کے کئی جواب میں پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •