سیاسی اور سماجی ”بڈھوں“ کے دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کار اپنے بالوں میں بھی چاندی مسکرانے لگی، تو پتا لگا بھئی کہ ہم نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ یہ بات ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہم تو سو کے ہی تب اٹھتے ہیں، جب دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ لہذا اب سے ہمارا شمار بھی ماہر سماجیات میں سمجھا جائے، تو مناسب ہو گا۔
اجی، آپ سمجھے نہیں؟
تو بات کچھ یوں ہے کہ جب سے ہم نے ان دو بچوں کے بارے میں، ایک بابا جی سے سنا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیل نہیں کھیلتے۔ دونوں ان کے لئے بچے اور شاید بچے کھچے، بھی ہیں۔ اور موصوفہ تو نانی دادی بھی بن چکی ہیں تو احباب من یہ جملہ نہیں، یہ ہمارا فلسفہ حیات اور آئینہ سماج ہے، جو زندگی کی کچھ گرہیں کھولتا ہے، تو کچھ لگا دیتا ہے۔ مثلا: بابا جی کے مطابق آپ کو شادی جلدی کر لینی چاہیے، تا کہ آپ جلد کئی نسلیں دیکھ لیں۔ کیوں کہ بابا جی اپنی تمام تر بزرگی کے با وجود، نا صرف جوان جہان ہیں، بلکہ نہ تو دادا بن سکے، نہ ہی نانا۔

دوم، جوانی پہ کبھی اعتبار نہیں کر نا چاہیے۔ یہ تو غلطیاں کر نے کی عمر ہے، اور اس عمر میں صرف آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ بزرگ ہو کر، آپ نے بننا کیا ہے یا کس محکمے پہ قبضہ کر سکتے ہیں۔

سوم، آپ کو اپنے بزرگ ہونے کا اعتراف بھی تب تک نہیں کرنا چاہیے، جب تک کہ ایک مناسب وقت نہ آ جائے۔ یا کوئی خطرہ آپ کے سر پہ نہ منڈلانے لگے۔

اجی بابا جی کہتے ہیں، تو ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ آپ کسی گلی کسی محلے، کسی گھر، کسی مکان، کسی بنگلے میں چلے جائیں۔ آپ نے ایسے چند جملے ضرور سنے ہوں گے:
”بیٹا، ہم نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔“
”اپنی عمر دیکھو اپنے کام دیکھو۔“
”ابھی تمہاری یہ کرنے کی عمر نہیں، ابھی تمہاری وہ کرنے کی عمر نہیں۔“
”ارے ہماری عمر کو پہنچو گے تو پتا لگے گا۔“
”ارے بڑے ہو کر یہ کرنا۔“
”جب تک ہمارا سایہ ہے تم کو کیا خوف۔“
”تم تو یہ کر ہی نہیں سکتے، تم تو وہ بن ہی نہیں سکتے۔“
”بیٹا، تجربہ، تجربہ ہوتا ہے۔“

یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ مگر یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ بزرگ تجربہ کرنے کا وقت اور موقع دیں تو تجربہ تجربہ بنے گا ناں۔ تجربہ کچھ غلطیوں کے بعد یا کبھی کسی غلطی کے بنا ہی کسی تاج محل کی تعمیر کرتا ہے؟ مگر یہ سب جملے تو تعبیر کیا، ایک جوان خون سے خواب بھی چھین لیتے ہیں۔

کوئی سرکاری ادارہ ہو یا غیر سرکاری، کوئی شعبہ زیست ہو، ہم اپنے نو جوانوں کو گھر سے وہاں تک نا تو اعتبار و اعتماد دیتے ہیں، نا ہی ان کو آ گے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں ”ہر شاخ پہ الو بیٹھا“، دکھائی دیتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یہی بزرگ، ”تجربہ تجربہ ہو تا ہے“، کہ نام پہ ہر دوسرے ادارے کی انتظامی کرسی پہ جھولتے دکھائی دیتے ہیں۔

اور نوجوان اپنی ڈگریاں لئے بے روز گاری میں اضافے کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں۔ ہر جگہ انٹرویو میں ان سے پو چھا جاتا ہے کہ کتنے سال کا تجربہ؟ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا ”سر کیسا تجربہ؟ کہاں کا تجربہ؟“ ہر شاخ پہ تو الو بیٹھا ہے۔

یہی احوال ان نو جوانوں کا گھروں میں ہو تا۔ بے چارے کوئی عقل کی بات بھی کر دیں، تو بڑے سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ کوئی ڈھگ کا مشورہ دینا چاہیں یا اپنی مرضی کرنا چاہیں، تو بھی کر نہیں سکتے، کیوں کہ بڑوں کے سفید بال اور بزرگی ان کے رستے کی کالی بلی بن جاتی ہے۔ اور اس کے بعد بھی اگر نتائج نامناسب ہوں تو بھی ایک جملہ پوری دوزخ پہ بھاری ہو تا ہے:
”بیٹا، غلطی بھی تو انسان سے ہی ہوتی ہے۔“

یہی صورت احوال اس وقت سماجی ہے اور یہی سیاسی ہے۔ لیکن بصد احترام بزرگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ آپ اپنا وقت اپنی مرضی سے یا اپنے اطوار یا حالات کے مطابق گزار چکے ہیں، جس کا نتیجہ اگر آپ کے سامنے اچھا نہیں آیا تو اس میں کسی نو جوان کا کوئی قصور نہیں۔ گھر سے لے کر گھرانے تک ایک بڑے ایک بزرگ کا کام ہے کہ وہ اپنے نو جوانوں کی تربیت کریں اور اس کے بعد ان کی زندگی کو ان کے حوالے کر دیں۔ ان سے کچھ غلطیاں بھی ہوں گی۔ ان کو قبول کیجیے اور کچھ اچھے کام بھی ہوں گے، ان کی تعریف کیجیے۔

فطرت کو دیکھیے کہ پیڑ سایہ دیتے ہیں، پھل نہیں دیتے۔ پرندے بچوں کو پال کر اڑنا سکھاتے ہیں اور ان کو آزاد کر دیتے ہیں۔ بچوں کو نئی نسل کو ملکیت سمجھ کر ان کی زندگیوں پہ قابض ہونے کے بجائے، اگر آپ ان کو ان کی اپنی زندگی گزارنے کا موقع دیں گے، تو محبت اور احترام بڑھے گا۔ تبھی وہ آپ کے تجربے سے سیکھیں گے۔ ورنہ آپ کا تجربہ ان کے لئے کسی آسمانی بجلی سے کم نہیں ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانے کی کوشش کریں کہ وہ آپ کی طرح بوڑھے ہو جائیں۔ آپ خود کوشش کیجیے کہ آپ ان کی طرح جوان ہو جائیں۔ یا پھر آپ اپنی بزرگی کو اپنے ہم عمروں کے ساتھ انجوائے کرنا سیکھیں۔ ہم عمری ایک طاقت ہے۔ ان کو اپنے جوانوں سے کشید کرنے کی کوشش نہیں کیجیے۔ ان کو رستہ دیجیے۔ ان کو ان کی زندگی پہ ان کا حق دیجیے۔ ان کو ان کا تجربہ کرنے دیجیے۔ ان کو اپنے بال خود سفید کرنے دیجیے۔ بزرگی کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیے۔ اس کو سایہ دار پیڑ بنائیے کہ یہ جوان جب تھک جائیں، یا ہار جائیں، تو آپ کی گود میں سر رکھ کر سکون کشید کر سکیں۔

ان کو طنز کرنے سے آپ کی اپنی نسلیں ہی خراب ہوں گی۔ کیوں کہ برائی کی طاقت آتش فشاں کی طرح ہوتی ہے۔ بات گھر سے شروع کیجیے تو سماج تک خود ہی چلی جائے گی۔ ورنہ بال تو سب کے سفید ہو ہی جانے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •