انسٹا گرام پر بچوں کے ڈیٹا کے حوالے سے فیس بک کو تحقیقات کا سامنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موبائل
Getty Images
آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر (ڈی پی سی) نے انسٹاگرام کے خلاف اپنے پلیٹ فارم پر بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ میں مبینہ ناکامی پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا ایپ کی مالک کمپنی فیس بک پر اگر رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اسے بھاری جُرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تحقیقات کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انسٹاگرام ڈیٹا کے تحفظ میں ناکام رہا اور اس نے 18 سال سے کم عمر بچوں کے ای میل ایڈریس اور فون نمبرز کو پبلک کیے جانے کی اجازت دی۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی کرنے والوں کے لیے فارم

آپ فیس بک اور انسٹا گرام پر کتنا وقت گزارتے ہیں؟

انسٹا گرام کے ’ستاروں‘ کی معلومات چوری

کئی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے یورپی ہیڈ کوارٹر آئرلینڈ میں ہیں اور ڈی پی سی سنہ 2018 میں نافذ ہونے والے یورپی یونین کی جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کے تحت یورپی یونین کا اولین ریگولیٹر ہے۔

ڈی پی سی پر ذمہ داری ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر انفرادی رازداری کے حق کا تحفظ کرے اور ان کے پاس بھاری جرمانے عائد کرنے کا اختیار بھی ہے۔

آئرش ریگولیٹر کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ کیا فیس بک کے پاس بچوں کا ذاتی ڈیٹا پراسیس کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود ہے یا نہیں اور کیا انسٹاگرام پر بچوں کے لیے قابلِ اطمینان تحفظ یقینی بنانے کے لیے حدود نافذ کی گئی ہیں۔

نوجوان

Getty Images

اس کے علاوہ ریگولیٹر یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ کیا فیس بک نے انسٹاگرام کی پروفائل اور اکاؤنٹ سیٹنگز کے معاملے میں جی ڈی پی آر کی پاسداری کی یا نہیں۔

ڈی پی سی کے ڈپٹی کمشنر گراہم ڈوئل کہتے ہیں کہ انسٹا گرام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے جو کہ آئرلینڈ اور یورپ بھر کے بچے استعمال کرتے ہیں۔

ڈی پی سی بہت مستعدی کے ساتھ اس علاقے میں لوگوں کی جانب سے آنے والی شکایات کا جائزہ لیتا ہے۔ ڈی پی سی نے بچوں کے انسٹا گرام پر ڈیٹا کے بارے میں بھی بہت تحفظات کا جائزہ لیا ہے جس پر مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

ایک والد کے خدشات

رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا آغاز ڈیوڈ سٹائر، جو کہ امریکہ میں ڈیٹا سائنس دان ہیں، کی شکایت کے بعد ہوا جب انھوں نے دنیا بھر میں دو لاکھ انسٹا گرام صارفین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

ان کا اندازہ ہے کہ تقریباً ایک سال میں کم ازکم چھ کروڑ صارفین جن کی عمریں 18 برس سے کم تھیں کو یہ آپشن دی گئی کہ وہ اپنی پروفائل کو بزنس اکاؤنٹ میں با آسانی تبدیل کر سکتے ہیں۔

انسٹا گرام کے بزنس اکاؤنٹس پر صارفین کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے فون نمبر اور ای میل ایڈریس پبلک کریں مطلب ان کا ذاتی ڈیٹا دیگر صارفین کو دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

یہ ذاتی معلومات ویب صفحات کے HTML سورس کوڈ میں بھی شامل تھیں اور جب انسٹاگرام کو کمپیوٹر پر استعمال کیا جاتا ہے تو ہیکرز اس تک پہنچ سکتے ہیں۔

سٹائر نے اپنے نتائج فیس بک کے ساتھ شیئر کیے تاہم انھوں نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ انسٹا گرام نے بزنس اکاؤنٹس کے فون نمبر اور ای میل ایڈریس کو مخفی رکھنے سے انکار کیا تھا۔ تاہم فیس بک نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی معلومات کو انسٹاگرام کے صفحات کی سورس کوڈ سے ہٹا دے۔

تاہم پیر کو فیس بک کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹائر کا دعویٰ نظام سے متعلق غلط فہمی پر مبنی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم اس پر ہمیشہ واضح رہے ہیں کہ جب لوگ انسٹا گرام پر بزنس اکاؤنٹ بناتے ہیں تو جو معلومات وہ فراہم کرتے ہیں وہ پبلک ہوتی ہیں اور یہ لوگوں کی معلومات کو آشکار کرنے سے بہت مختلف ہے۔‘

’جب سے سٹائر نے سنہ 2019 میں یہ الزامات عائد کیے، ہم اس کے بعد سے بزنس اکاؤنٹس میں تبدیلیاں لائیں ہیں۔ اب لوگوں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تفصیلات مکمل طور پر شیئر کریں یا نہیں۔‘

سٹائر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ مئی 2019 میں یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ چار کروڑ نوے لاکھ صارفین کی معلومات ایک انڈین فرم کے ڈیٹا بیس میں بغیر حفاظت کے موجود تھیں، ہو سکتا ہے کہ انسٹا گرام کی ویب سائٹ سے بھی ہیکرز صارفین کی ذاتی معلومات چوری کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔

سٹائر کا کہنا ہے کہ کیا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بچوں کے فون نمبر اور ای میلز کو خفیہ رکھیں تاکہ انجان لوگ فقط ایک بٹن کے ذریعے ان تک نہ پہنچ سکیں۔

’بطور والد میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ انسٹا گرام نو عمر بچوں کو جو کچھ بھی بطور تجربہ آفر کرتا ہے، اسے جتنا ممکن ہو ’بڑوں کی نطر سے گزرا جائے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16689 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp