نور الہدیٰ شاہ کے سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ڈی ایم کا کاروانِ جمہوریت گوجرانوالہ کے بعد، کراچی اس دن پہنچا، جس دن پیپلز پارٹی سانحہ کارساز کے شہدا کی جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ 18 اکتوبر کو جلسے میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف جب کراچی پہنچیں تو کارکنوں کے ہم راہ بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں پر ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں کو حکومتی وزرا نے مزار قائد کی توہین قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔ جلسہ تو شام کو ہونا تھا مگر اپوزیشن کے اس عمل اور اس پر حکومتی وزرا کے رد عمل نے عوام اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کی حمایت اور مخالفت میں ٹرینڈ چل نکلے۔

ایسے میں قابل احترام محترمہ نور الہدیٰ شاہ صاحبہ نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی در بدر قوم، اپنے بابا کے مزار پر احتجاج بھی نا کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ گریٹ یہی صحیح جگہ ہے، احتجاج رقم کرانے کی۔ سوال اٹھانے کی۔ جناح صاحب، ولی اللہ نہیں لیڈر ہیں۔ لیڈر ہی جواب دہ ہوتا ہے، تاریخ کے ہر اتار چڑھاو کا۔ جناح صاحب اٹھیے اٹھیے پلیز، بتائیے یہ ملک کس کے لیے بنایا تھا؟ اس زمین پر بسنے والی عوام کے لیے یا … ؟

سندھ کی بیٹی کا بابائے قوم سے یہ سوال نیا نہیں۔ اس سے قبل پنجاب کی بیٹی امرتا پریتم نے تقسیم کے وقت پنجاب کی بربادی پر وارث شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ آج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول۔ جواب اس وقت بھی نہیں ملا تھا، جواب آج بھی نہیں ملا۔ شاید ان سوالوں کے جواب ملتے ہیں، جن کے جواب کسی کو معلوم نہ ہوں۔ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں کے سبب جو سوال پیدا ہوں، ان کے جواب نہیں ملتے۔ سندھ کی بیٹی نور الہدیٰ شاہ کتنی سادہ ہے، جو بابائے قوم سے سوال کرتی ہے، وہی بابائے قوم جس کی ایمبولینس خراب ہونے کے سبب سڑک کے کنارے کھڑی رہی۔

اس کی بے چاری بہن شدید گرمی اور حبس میں نیم جاں بھائی کے چہرے سے مکھیاں ہٹاتی رہی اور دوسری گاڑی کا انتظار کرتی رہی۔ وہی بہن جس کو انتخابات میں غدار قرار دے کر دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی۔ اسی مزار میں نواب لیاقت علی خان بھی مدفن ہیں، جن کا بطور وزیر اعظم قتل ہوا اور بعد ازاں ان کے قتل کی پولیس فائل ہی گم کر دی گئی۔ ان مظلوموں سے کیسے سوال کیسے جواب۔

پی ڈی ایم کا کراچی کا جلسہ بھی توقع کے عین مطابق رہا۔ قائدین نے تقریریں کیں اور تبدیلی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہر موضوع پر کھل کر بات ہوئی۔ عوام کو در پیش مسائل پر حکومتی کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ سب سے اہم بات یہ کہ بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز صاحبہ کے بعد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے بھی عمران خان کو کشمیر فروش قرار دے دیا۔ میں نے بہت پہلے کہیں لکھا تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر حکومت کا کمزور موقف اور ناقص منصوبہ بندی اس کے گلے پڑے گی اور آئندہ انتخابات میں یہ اپوزیشن کی تقاریر کا اہم نکتہ ہو گا، مگر یہ بات تین سال قبل ہی زیر بحث آ گئی۔ مقبوضہ کشمیر کے ایشو پر اپوزیشن کا بڑھتا ہوا دباو، حکمران جلد یا بدیر محسوس کریں گے اور شاید ہی ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہو۔

اپنی تقریر میں فوج کو پلکوں سے تشبیہ دینے والے مولانا فضل الرحمن کی نظر میں، موجودہ حکومت غیر آئینی اور دھاندلی زدہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کو ہمارے پیج پر آنا پڑے گا، ورنہ ان سب کو جانا پڑے گا۔ اپوزیشن کا بیانیہ توقع کے عین مطابق آئے دن سخت ہو رہا ہے۔ سیاست میں اداروں کی مداخلت کو بند کرنے اور اداروں کا آئین کی متعین کردہ حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کا مطالبہ، آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرتا جائے گا۔ مارچ سے قبل اگر مفاہمت کی کوئی راہ نا نکالی گئی تو معاملات بند گلی میں پہنچ جائیں گے۔ بات اگر اجتماعی استعفوں تک پہنچ گئی، تو حکومت کا اخلاقی اور قانونی جواز ختم ہو جائے گا۔ اب بھی وقت ہے اپوزیشن کے تحفظات کو دور کر کے معاملات کو سنبھالا جا سکتا ہے۔

سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپوزیشن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔ قید، جلا وطنی، کرپشن اور غداری کے الزامات کا سامنا کرتی ہوئی اپوزیشن کے پاس سوائے جدوجہد کے کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ حکومتی ناقص کارکردگی نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور حکومتی سپورٹرز بھی ان حالات سے مایوسی کا شکار ہیں۔ اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اپوزیشن اپنے موقف میں نرمی برتے گی اور معاملات بہتر ہو جائیں گے، تو وہ اپنی اس سوچ کو بدل لے تو اچھا ہے۔ کیونکہ اپوزیشن کو علم ہے کہ اگر وہ اپنے موقف سے دست بردار ہوئی تو اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

ان حالات میں تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت کا جانا طے ہو گیا ہے۔ ساری جاتی دیکھ کے آدھی دیجیو چھوڑ کے مصداق، تبدیلی سرکار کی قربانی کوئی مہنگا سودا نہیں ہو گا۔ جو بھی ہے معاملات کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لیے مقتدر حلقوں اور سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر کوئی قابل قبول حل تلاش کر لینا چاہیے۔ جو فیصلہ چند ماہ بعد ہونا ہے، وہ اگر اب ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ عوام کے مسائل پھر بھی حل نہیں ہونے مشکلات کم نہیں ہونی بلکہ حالات موجودہ صورت احوال سے بھی زیادہ ابتر ہو جائیں، مگر جب ملک کی سیاسی قیادت مل بیٹھ کر کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کرے گی اور درست سمت میں سفر شروع کرے گی، تو حالات بھی بتدریج بہتر ہوتے جائیں گے۔ مگر اس کے لیے شرط ہے کہ عوام کا حق حکمرانی تسلیم کیا جائے اور صاف شفاف انتخابات کے نتیجے میں عوام کی منتخب کردہ حکومت کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •