لیلیٰ کوفیی شوب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کو لکھنے کے لئے بہت سے عنوان، تمہید کے بہت سے موضوع اور کئی ایک یادیں ذہن میں چل رہی تھیں۔ مگر اس میں سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ اس کی وجہ سے وہ بھولے بسرے ہم جماعت بھی یاد آئے، جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد، فارغ البال بھی ہو گئے، لیکن ان سے رابطے کی کوئی بھی صورت پیدا نہیں ہو پا رہی۔

یونیورسٹی کے دنوں میں، ہمارا کراچی کا ایک دورہ تھا۔ تو اسی دوران ٹھٹھہ جیسے تاریخی شہر کی سیر کا بھی منصوبہ بنا۔ وہیں ہمیں کینچھر جھیل جانے کا اتفاق ہوا۔ تھوڑا بہت جو مطالعہ کر رکھا تھا، اس کی افادیت اس دن صحیح سمجھ آئی۔ میرے دل میں ’نوری جام تماچی‘ کی قبر پہ جانے کی خواہش مچلنے لگی۔ کشتی والے بھائی سے بات کی تو بات ہماری جیب سے بہت آگے نکل گئی۔

طالب علم کی جیب، تو بس برائے نام ہی جیب ہوتی ہے، تا کہ قمیص بھدی نہ لگے، ورنہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اس وقت تو اپنی خواہش پوری کرنے کی ضرورت تھی کہ کیسے جھیل کے بیچوں بیچ بنی اس قبر پہ جایا جائے اور ان دو پروانوں کی آخری آرام گاہ دیکھی جائے، جس کی بارے میں کئی مقامی روایات و حکایات مشہور ہیں۔ دل بڑا کر کے مداری کے مافق ہم جماعتیوں کو اپنے پاس آنے کی آواز دی۔

ان کے سامنے چندہ برائے تکمیل خواہش رکھی، لیکن کسی نے بھی جانے کی ہامی نہ بھری، تو پھر مجبوراً ہمیں ’عشق کا ہتھیار‘ اٹھانا پڑا اور نہایت دل دوز اور گداز لہجے میں ’نوری جام تماچی‘ کی کہانی کا مختصراً مگر جامع خلاصہ ان کے گوش گزار کیا اور ساتھ ہی پر اعتماد وضاحت دینا یقینی سمجھا کہ جو کوئی وہاں جا کر خلوص نیت سے دعا کرے، تو اس کی محبت کی بیڑی کنارے لگ سکتی ہے۔

بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ وہ غل پڑا کہ خدا کی پناہ۔ ایک کی بجائے دو کشتیاں لینا پڑ گئیں۔ طلبا ساتھی تو ایک طرف، ہمارے ماسٹر تک ساتھ جانے کو تیار ہو گئے اور اس سارے ہلے میں موصوف مفتو مفت، نوری جام تماچی کی قبر کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں سب احباب بڑے انہماک سے سوچوں میں غلطاں رہے اور ہم گاہے گاہے ان کو بتاتے رہے کہ دعا میں عاجزی اور انکسار تو لازم ہے ہی، لیکن جیسے الوہیت میں شرک ممنوع ہے، ایسے ہی اپنی دعاؤں میں بھی توحید کی طرح ایک ہی پہ اکتفا کرنا، قبولیت کی لازمی شرط ہے۔

یہ قصہ اس لئے یاد آ گیا کہ آج اپنی صحرا نوردی کے راستے میں ’الافلاج‘ کا علاقہ شامل تھا۔ عام مسافروں اور منہ دکھانے جانے والوں کے لئے یہ محض ایک شہر کا نام ہی ہو گا، لیکن میرے جیسے محبت کے نام پہ اکسانے والوں کے لئے یہ ’لیلیٰ الافلاج‘ ہے۔ مشہور داستاں لیلیٰ مجنوں اسی علاقے کی کہانی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی محبت آپ کو جا بجا نظر آتی ہے۔ جیسے قیس میاں، لیلیٰ کے کتے کو پیار کرتے پائے گئے تھے، ایسے ہی شہر کی ہر چیز میں محبت کی جھلک نظر آتی ہے کہ خوام خواہ اس پہ بھی لیلیٰ کی مہر کا گمان ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ سڑک کے دونوں اطراف لگی ہوئی سٹریٹ لائٹس پر بھی۔

ہمارے والوں نے تو ’مائی ہیر‘ کی با قاعدہ ڈھیری بنا رکھی ہے کہ محبت کی تلاش میں بھٹکنے والے زیادہ دور نہ جائیں اور ادھر ہی کوئی لال سبز دھاگا باندھ لیں اور اپنے من کی مراد پا لیں۔ کچھ ایسی ہی جستجو لے کر ہم ’مائی لیلیٰ‘ کی ڈھیری کی تلاش میں سرگرداں ہوئے لیکن نہیں ملنا تھی، نہ ملی۔ اس سارے معاملے میں، التوباد پہاڑی ضرور مل گئی، جس پہ دونوں پروانے دو جہاں سے بے خبر ملنے پہنچ جاتے تھے۔ وہاں پہنچ کر ہماری ساری خوشی اور حسرت کا دھڑن تختہ ہو گیا کہ وہاں تو یار لوگوں نے پہلے ہی اتنی عرضیاں اپنے نام کی شکل میں ڈال رکھی ہیں کہ ہمارا نمبر آتے آتے، کہیں ہمارے اگلے جہان کے سفر کا نمبر نہ لگ جائے۔

پژ مردہ دل کے ساتھ واپس آئے کہ یہ کیا۔ نہ کوئی مزار، نہ کوئی مجاور، نہ کوئی قصہ گو، نہ کوئی ملنگ، نہ کوئی بھنگ، نہ کوئی ڈھول، نہ کوئی دھمال۔ خاک ایسی محبت پہ، جس کا کوئی نام لیوا ہی نہیں۔ جس کا کوئی ظاہری شائبہ ہی نہیں۔ بس کتاب کے چند کالے صفحے اور کہانی ختم۔ ابھی ایسی ہی سوچوں میں غلطاں تھے اور اس سے قبل کے ڈوب ہی جاتے، ایک بورڈ پہ نظر پڑی اور سب بادل چھٹ گئے کہ آج بھی محبت کے پجاریوں کے نام لیوا باقی ہیں۔ آج بھی محبتوں کی ماننے والوں کا نام کسی نہ کسی طور زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ خط نسخ میں لکھا تھا:
لیلیٰ کوفیی شوب۔

Latest posts by توصیف رحمت (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •