ربیع الاول: اصلی عالمی بہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک ایسا دور تھا جب انسانیت کو بہیمیت نے شکست سے دو چار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جب فطرت انسانی کے حسن کو درندگی نے بد نما کیا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جب سرسبز و شاداب مسکن انسانی کو بنی آدم کی حرص نے خون بنی آدم سے لالہ زار کیا تھا۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا، جس میں آدم کے بیٹے نے حوا کی بیٹی کو، اپنی ہوا و ہوس کا شکار بنایا تھا۔ یہ ایک ایسا ماحول تھا جس میں بنی آدم کے ضعیفوں کو، بنی آدم کے متکبرین نے اپنا تر نوالہ بنایا تھا۔

یہ ایک ایسی ثقافت تھی، جہاں موسیقی کی دل دادہ طبیعت انسانی کو صرف تلوار کی جھنکار مسرور کرتی تھی۔ یہ ایک ایسا رہن سہن کا طریقہ تھا جس میں ایک معصوم بچی زندہ درگور ہونے کے لئے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ یہ ایک ایسی سیاست تھی جس میں بازنطینی اور ساسانی سلطنتیں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس طرح محو جنگ و جدل تھیں کہ باقی نسلیں حشرات الارض کی طرح ان کے پیروں کے نیچے مسلی جا رہی تھیں۔ الغرض یہ انسانیت کے لئے ایک ایسا نازک اور فیصلہ کن وقت تھا، جب قابیل اپنے شانوں پر ہابیل کی نعش اور ناموس لیے لیے پھر رہا تھا۔

اسی وقت اور اسی زمانے میں رب کریم نے انسانیت کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو اس بھنور سے نجات دلانے کے لئے قدسیوں کی ایک جماعت کھڑا کی اور اس جماعت کی راہنمائی کے لئے انہی میں سے ان کے سردارﷺ کو مبعوث کیا۔ ان قدسیوں اور ان کے راہنما کا ذکر نا صرف بنی اسرائیل کے ادب میں پایا جاتا ہے بلکہ ہندی اساطیری ادب میں بھی ان کے اشارے ملتے ہیں۔ اسرائیلی ادب سے ہم اسرائیلیات کے توسط سے واقف ہیں جو مختلف تفاسیر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ہندی ادب کا تعلق ہے، اس کی طرف کئی ایک اہل علم نے اشارے کیے ہیں۔ ان آراء اور اشاروں کو ایک بنگالی نو مسلم، عبد اللہ اڈیار کی کتاب (Islam: My Fascination) نے شرف قبولیت اور درجہ استناد بخشا ہے۔

یہ قدسی کون تھے اور ان کے سردارﷺ کون تھے؟ در اصل جس جماعت سے ان قدسیوں کو چنا جانا تھا، اسی جماعت کے جد امجد، ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند ارجمند ’اسماعیل (ع) کو مکہ مکرمہ کی وادی غیر ذی زرع میں بسایا تھا۔ آنجناب (ع) نے متمدن لیکن مشرکانہ ماحول پر اس غیر آباد بے آب و گیاہ وادی کو اس لئے ترجیح دی تھی تا کہ مستقبل کے لئے ایک ایسی نسل تیار کی جا سکے جو شرک کی تمام آلائشوں سے پاک ہو۔ یہ نسل آغوش فطرت میں کچھ اس طرح پروان چڑھ سکے کہ یہ توکل علی اللہ کی نعمت سے سرشار ہو کر بتوں سے بالکل نا امید ہو جائے۔ ابراہیم (ع) اس جماعت کی ہمہ جہت نشو و نما کی خاطر کس درجہ فکر مند تھے، اس کا اندازہ آپ (ع) کی ان دعاؤں سے لگایا جا سکتا ہے جن میں انہوں نے اس کی مادی و روحانی خوش حالی کے لئے اللہ تعالٰی کی طرف رجوع فرمایا ہے۔ اس سلسلے کی ایک مشہور و معروف دعا کچھ اس طرح ہے:
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم (ع) نے دعا کی تھی کہ ”پروردگار، اس شہر (یعنی مکہ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار، ان بتوں نے بہتوں کو گم راہی میں ڈالا ہے۔ پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔ (ابراہیم: 35۔ 37 )

واضح ہوا کہ انسان کی نظریاتی اور فکری اساس ہی وہ شے ہے جو انسان کی اس تکریم کو بنائے رکھتی ہے جس کے ساتھ اس کو خدا نے پیدا فرمایا ہے۔ اور جب بھی انسان کے اس فکری قالب کو منہدم ہونے کا خطرہ لاحق ہوا، تب اللہ تعالٰی نے پیغمبران کرام (ع) کے ذریعے اس کو بحال کروایا۔

بیت اللہ کی تعمیر نو کی غرض و غایت بھی یہی تھی کہ کہ قدسیوں کی وہ جماعت جو اس وادی میں پروان چڑھنے والی تھی، کسی طرح شرک کی گندگی سے محفوظ رہ سکے اور موحدین کے لئے ایک ایسا ابدی گھر تعمیر ہو جو تا قیامت رشد و ہدایت کا منارہ بنا رہے۔ اسی خدمت کی بابت ابراہیم (ع) و اسماعیل (ع) ان الفاظ میں قبولیت کی دعا فرما رہے تھے:
اور یاد کرو، ابراہیم (ع) اور اسماعیل (ع) جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: ”اے ہمارے پروردگار ’ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے۔ (البقرہ: 127)

تاہم ابراہیم (ع) نے اپنی اس دلی تمنا کو محض دعا تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے جو توحید کے مراکز قائم کیے تھے، ان کی وہ بنفس نفیس نگرانی فرماتے رہے۔ اسماعیل (ع) کو مکہ مکرمہ میں بسانے کے بعد آنجناب کئی بار اپنے فرزند ارجمند کی معلومات حاصل کرنے کے لئے تشریف لائے تا کہ خود دیکھ سکیں کی نئی بستی انہی کے منصوبے مطابق قائم ہونے جا رہی ہے۔ اپنے پہلے دورے پر انہوں نے اسماعیل (ع) کو گھر سے باہر پایا اور ان کی بیوی نے پوچھنے پر مشکل حالات زندگی کی شکایت کی۔

چوں کہ یہ رویہ توکل، جو توحید ہی کی ایک سیڑھی ہے، کے بالکل بر عکس ہے اس لئے اپنے بیٹے کے نام یہ پیغام رکھا کہ کہ وہ اپنی اہلیہ کو طلاق دے دیں جو کسی صورت بھی اس نسل کو پروان چڑھانے کے قابل نہیں تھی جو ان باپ بیٹوں کی مساعی جلیل کا اصل مقصود تھی۔ اپنے والد سے اشارہ پاکر اسماعیل (ع) نے قبیلہ جرہم، جو زمزم کے جاری ہونے کے بعد وہاں آباد ہوا تھا، کی ایک دوشیزہ سے نکاح کیا۔ اپنے دوسرے دورے پر ابراہیم (ع) نے اس دوسری خاتون کو مشکلات کے علی الرغم اللہ تعالٰی کا شکر گزار پایا۔

اس وقت آپ (ع) نے اسماعیل (ع) کے لئے یہ پیغام رکھا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ اپنے رشتہ ازدواج کو برقرار رکھے۔ در اصل ابراہیم (ع) کے منصوبے کے مطابق یہ عورت اس عظیم امت کو پروان چڑھا سکتی تھی جو آگے چل کر قدسی صفات کی حامل ہو سکتی تھی اور جس کے اندر قدسیوں کے سردارﷺ کی تشریف آوری ہو سکتی تھی۔ اس پورے منصوبے کا خاکہ ہم ابراہیم (ع) کی اس دعا میں دیکھ سکتے ہیں:
اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، ۔ اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے۔ (البقرہ: 128۔ 129)

ظاہر سی بات ہے کہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اس نسل کی فکری پرواز میں کوتاہی پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا، اس لئے اس کی فکری اساس کو از سر نو ابراہیمی سانچے میں ڈالنے کا عمل قدسیوں کے سردارﷺ کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ تاہم اس منصوبے میں یہ بات شامل تھی کہ مجموعی طور پر اس نسل کے خمیر میں توحید کچھ اس طرح پیوست رہے کہ وقت آنے پر یہ اللہ کی توحید کے علم بردار بن سکے اور نبی آخر الزمانﷺ کے ساتھ مل کر نا صرف مادی طور پر اللہ کے گھر کی تعمیر مکمل کر سکے بلکہ نظریاتی طور پر بھی ابراہیمی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ اس لئے تزکیہ سمیت نبی ﷺ کے اس عمل چہار گانہ کو قرآن میں چار دفعہ الفاظ کے ذرا سے اختلاف کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہوں : سورہ البقرہ، آیت 129 اور 151 ؛ سورہ آل عمران، آیت 164 اور سورہ الجمعہ، آیت 2)

2500 سال کی مدت میں اگر چہ یہ نسل دین ابراہیمی سے بہت حد تک منحرف ہو چکی تھی لیکن اس نسل کے اندر پھر بھی حنفا کی ایک ایسی جماعت موجود تھی جو بہر حال شرک سے بیزار تھی۔ جاہلیت کے کلام عرب میں حنیفیت کی اس رمق کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی نے جاہلی شاعر زید ابن عمرو ابن نفیل کے کلام میں سے توحید پر مبنی کئی دل چسپ اشعار کو حجت اللہ بالغہ میں پیش کیا ہے۔ اپنے دانشورانہ اضطراب کو اس شاعر نے کچھ اس طرح پیش کیا ہے:
ہزاروں خداوند یا صرف ایک (کو قبول کیا جائے)
یہ خیالات بہت ہی بے چینی کے باعث ہیں
ایک انسان کیا کرے جب اشیا کی حقیقت میں
اختلاف (کی گنجائش) موجود ہو
(بہر حال) میں نے لات و عزی کو بالکل چھوڑ دیا
کیوں کہ ایک دانش مند شخص کو ایسا ہی کرنا چاہیے

اہالیان مکہ کے تحت الشعور میں دبی توحید کی چنگاری ہی کا یہ اثر تھا کہ انہوں نے مجموعی طور پر یہودیت اور عیسائیت، جس کے کئی حلقے عرب میں وقت کے ساتھ ساتھ قائم ہو چکے تھے، کو قبول نہیں کیا تھا۔ اسی طرح ان شتر بانوں نے کبھی بھی ساسانی یا بازنطینی ثقافت کو گلے نہیں لگایا تھا۔ البتہ ان کی فطرت کو پھر سے نکھار کر ابراہیمی خطوط پر استوار کرنے کے لئے، وعدے کے مطابق محمدﷺ کو انہی میں سے مبعوث کیا گیا۔ چوں کہ یہ قوم انکار اور اقرار کے بیچ میں کوئی تیسرا (یعنی منافقت) کا راستہ نہیں جانتی تھی، اس لئے اس کے ایک طبقے نے یکسر انکار کر دیا اور دوسرے طبقے نے حق کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔ نبی کریمﷺ کی محنت شاقہ سے اللہ تعالٰی کے انعام یافتہ سبھی جماعتوں کے نمونے اور نمائندے قدسیوں کی اس جماعت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائے آفرینش ہی سے یہی چار جماعتیں، یعنی انبیا ’صدیقین، شہدا اور صالحین بنی آدم کی گل ہائے سر سبد رہی ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں:
جو لوگ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ (النساء: 69)

سید الانبیاﷺ کی نگرانی میں یہ سبھی جماعتیں اس سرزمین پر وجود میں آ گئیں۔ اگر ایک طرف صدیقین کی نمائندگی سیدنا ابو بکر (رض) جیسی سر بر آوردہ شخصیت کر رہی ہیں، تو شہدا کے لئے سیدنا عمر (رض)، سیدنا عثمان (رض) اور سیدنا علی (رض) جیسے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے دستیاب ہیں۔ جہاں تک صالحین کا تعلق ہے تو صحابہ (رض) کی پوری جماعت بالعموم اس میں شامل ہے کیوں کہ جب اس جماعت پر حق واضح ہوا تو اس نے بلا چون و چرا نبی کریمﷺ کی جاں نثاری کا حق ادا کر دیا۔

یہ جماعت پوری کی پوری قدسیوں میں تبدیل ہو گئی اور یہ لوگ سیدنا مسیح (ع) کے حواریین کی طرح رسول اللہﷺ کے انصار بن گئے۔ جس طرح اس جماعت کے جد امجد ابراہیم (ع) نے اللہ کی پکار پر ”اسلمت لرب العالمین“ کہہ کر حق کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا، بالکل اسی انداز میں اس جماعت نے بھی حق کا نا صرف اعتراف کیا بلکہ اسی حق کو اوڑھنا بچھونا بنا کر اس کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ اس طرح اللہ تبارک و تعالٰی ان کا دوست (ولی) بن گیا جس نے انہیں طاغوت کے اندھیروں سے نکالا اور اسلام کے نور سے ان کی راہیں منور کیں۔ قرآنی الفاظ کی رو سے:
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مدد گار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں نکال لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ ( البقرہ: 256۔ 257)

قدسیوں کی اسی جماعت نے تاریخ انسانی میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ شرک کی بالادستی کو یک قلم ختم کر دیا اور انسانی فکر کو آزادی کے اس تصور سے رو شناس کرایا، جس کی حدیں آسمان کو چھونے لگیں۔ یہی وجہ تھی کہ نبیﷺ نے بدر کا معرکا شروع ہونے سے قبل اللہ تبارک و تعالٰی سے اس جماعت کی حفاظت اور کامرانی کے لئے ان الفاظ میں دعا فرمائی:
الہی۔ اگر یہ جماعت آج ہلاک ہو گئی تو روئے زمین پر قیامت تک تمہاری عبادت نہیں ہو گی۔ (ابن ہشام)

یہ دعا در اصل اس بات کا اعلان تھا کہ قدسیوں کی یہ جماعت، نبیﷺ کی قیادت میں باطل کو للکار رہی تھی۔ اور کفر کے ائمہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اس جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی تھے۔ اس طرح 2500 سال میں تیار ہوئی توحید کی پوری پونجی اس میدان میں اکٹھی ہو کر باطل کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لئے صف آرا تھی۔ اس موقع پر فرشتوں کا نازل ہو کر مومنین کے دلوں کو مضبوط کرنا اور کافروں پر کاری ضربیں لگانا بھی اسی پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔

قدسیوں کی اسی جماعت کے لئے قرآن نے اعلان کیا ہے کہ ”رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ“ یعنی ”اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے!“ اور اسی جماعت پر ”کنتم خیر امت“ کا اطلاق ہوتا ہے کیوں کہ اسی جماعت نے نبیﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے نیکی کو پروان چڑھایا اور بدی کا قلع قمع کیا (تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر) ۔ اکثر الہامی کتابوں کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے ادب میں اسی جماعت کو ”قدسیوں کی جماعت“ کہا گیا ہے۔ چوں کہ نبیﷺ اسی جماعت کے سردارﷺ ہیں، اس لئے قرآن نے محمد رسول اللہﷺ (بحیثیت خاتم النبیین) اور اس جماعت کی تمثیل ان الفاظ میں بیان کی ہے :

محمدﷺ اللہ کے رسولﷺ ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوش نودی کی طلب میں مشغول پاو گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الفتح: 29)

چوں کہ اسلامی تقویم (Calendar) کی مناسبت سال کے بدلتے موسموں کے ساتھ ہے اور ربیع الاول کے معنی ہی ”پہلی بہار“ کے ہیں، اس لئے یہ مہینا ہمارے ذہن کو سید الانبیاﷺ کی آمد کی طرف پھیرتا ہے جہاں سے قدسیوں کی نشو و نما (بہار) شروع ہوئی، جس سے پورے عالم انسانیت کی کھیتی لہلہا اٹھی۔ اسی بہار کو اصل عرب اسپرنگ (Arab Spring) بلکہ گلوبل اسپرنگ (Global Spring) کہا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •