آج تمہاری سالگرہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج تمہاری سالگرہ ہے اور تمہارا عکس میرے تخیل میں مسکرا رہا ہے۔ تمہاری خوشبو مجھ سے ہم کلام ہے اور میرا ہاتھ تھام کر سرگوشیوں کی زبان میں مجھ سے کہہ رہی ہے کہ ضروری نہیں سالگرہ پر سرخ گلاب ہوں اور چمکیلے ریپر، میں پیک گفٹ ہی محبت ثابت کریں۔ دل کے قریب کچھ لوگوں سے محبت تو لفظوں میں ہی بیان ہو جاتی ہے اور کچھ کی قربت محض محسوس کی جاتی ہے۔

اس ماہ میرے بہت سے قریبی دوستوں کی سالگرہ تھی کسی کو وقت دے پائی اور کسی کو نہیں۔ مگر خوشی کی بات یہ ہے کسی کی بھی سالگرہ پھولوں اور چمکیلے ریپر میں پیک گفٹ کی محتاج نہیں تھی ہر برتھ ڈے گرل اور برتھ ڈے بوائے نے میری ایک فون کال کو ہی بہت خاص سمجھا اور میری محبت کے جواب میں مجھے اپنی محبتوں سے مالا مال کر دیا۔

ویسے تو سالگرہ کا موقع بہت خوشی سے منایا جاتا ہے اور خوشیوں سے بھر پور ہوتا ہے مگر میں فطرتاً اداس ہونے کے ناتے سالگرہ کے دن بھی اداسیوں کے اسی اسٹیشن پر کھڑی ہو جاتی ہوں جہاں آنے والی ہر گاڑی اداس لوگوں کے احساسات سے بھری ہوتی ہے۔ موسم کے بدلنے والی اداسی کسی سے مل کر بچھڑ جانے والی اداسی جو ہمیشہ مجھے میری دوست ربا کے بچھڑ جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ اداسی جو بشری کے ہمیشہ مجھ سے ملنے کے باوجود کسی بس اسٹاپ پر بچھڑ جانے سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ اداسی جو اپنی بہترین دوست فاطمہ سے مل کر پھر سے ملنے کے انتظار میں میری راہ میں آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ تو چند قریبی روح کے رشتے ہیں جن سے مل کر بچھڑ جانے کا ڈر مجھے ہمیشہ کھا جاتا ہے۔ سالگرہ کے موقع پر بھی مجھے سال کے ختم ہونے کی اداسی ہوتی ہے۔

آج میری فیلڈ کے بہترین دوست ملک اظہر محمود کی سالگرہ کے موقع پر بھی مجھے یہی احساس ہوا۔ ایسا کوئی خاص تحفہ نہیں جو آپ کے نام کیا جائے سوائے دعا کے۔

اکتوبر کے مہینے سے خاص محبت کی وجہ یہ بھی ہے میرے قابل احترام استاد ذوالفقار احمد صاحب بھی اس ہی ماہ میں میں دنیا میں تشریف لائے تھے اور میرا قریبی بھانجا محمد بھی اور میری بچپن کی سہیلی نمرہ بٹ بھی اس ماہ میں ہی دنیا میں تشریف لائی۔

میں نے جھیل کے کنارے موجود پتھروں کو چھو کر اپنے ہر قریبی رشتے کو محسوس کیا ہے۔ ان احساسات میں گھری میں اکیلی کب تھی۔ میرے دل کے قریب میرے ہمدم میرے دوست میرے ساتھ تھے۔ میں نے وہاں بلند کہساروں کے سائے میں بیٹھ کر تمہارا نام لیا ہے۔ وہیں کہیں کسی اونچی چوٹی پر کھڑے ہو کر بلندیوں پر تمہارے نام کی پکار سنی ہے۔

سالگرہ مبارک ہو دوست
یہ محبت ہر پل مجھے محسوس ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے میرے قریبی چاہنے والے سب ہی لوگ بھی اس قربت کو خود میں محسوس کرتے ہوں گے۔

Latest posts by مریم چودھری، لاہور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •