برطانوی راج کے حکام نے ’تمام انڈین خواتین کو ممکنہ طور پر جسم فروش ‘ قرار دیا

سوتک بسواس - نامہ نگار، بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین خواتین کی 1870 میں لی گئی ایک تصویر

سنہ 1868 میں برطانوی راج کے دوران انڈین شہر کلکتہ میں، جسے اب کولکتہ کہا جاتا ہے، پولیس نے سکھی مونی راؤر نام کی ایک عورت کو جنسی اعضا کے معائنے سے بچنے کے جرم میں جیل بھیج دیا تھا جو ان دنوں جسم فروشی کا کاروبار کرنے والی ‘رجسٹرڈ’ خواتین کے لیے لازمی تھا۔

نوآبادیاتی دور کے متعدی بیماریوں کے قانون کے تحت جسم فروشی کرنے والوں کو ‘پولیس سٹیشنوں میں اپنا اندراج اور طبی معائنہ کروانا پڑتا تھا۔‘ یہ قانون جنسی بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

راؤر نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور عدالت میں درخواست جمع کرواتے ہوئے کہا کہ انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انھوں نے کہا ’میں نے ایک ماہ میں دو بار اپنا معائنہ نہیں کروایا کیونکہ میں جسم فروش نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے غلطی سے ان کا نام رجسٹر کیا اور وہ کبھی بھی جسم فروش نہیں تھیں۔‘

مارچ 1869 میں کلکتہ کی ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

ججوں کا کہنا تھا کہ راؤر ایک ’رجسٹرڈ جسم فروش‘ نہیں ہیں اور اس کے علاوہ بھی خواتین کی ایسی رجسٹریشن رضاکارانہ ہونی چاہیے اور یہ کہ خواتین کو اندراج کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

نوآبادیاتی دور کی دستاویزات کے مطالعے کے دوران ہارورڈ یونیورسٹی میں خواتین، صنف اور جنسیت کی پروفیسر دُربہ مترا کو معلوم ہوا کہ ہزاروں خواتین کو نو آبادیاتی پولیس نے اس قانون کے تحت جنسی اعضا کے معائنے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ یہ اندراج اور معائنہ قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا تھا۔

پروفیسر مترا کا نیا کام انڈین سیکس لائف پر ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی پریس کے ذریعے شائع کیا گیا۔ یہ ایک قابل ذکر مطالعہ ہے کہ کس طرح برطانوی حکام اور انڈین دانشوروں نے ’انڈیا میں جدید معاشرے کو کنٹرول اور منظم کرنے کے لیے ان کے مطابق خواتین کی منحرف یا گمراہ جنسیت کے بارے میں رائے قائم کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ جنسیت کو اپنے مخصوص اصولوں کے مطابق ریگولیٹ کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ جن عورتوں کو جسم فروش کے طور پر دیکھا جاتا ہے ان کی درجہ بندی، اندراج اور طبی معائنہ کیا جائے۔

جولائی 1869 میں کلکتہ کی کچھ جسم فروش خواتین نے نو آبادیاتی حکام کو درخواست دیتے ہوئے ان پر یہ الزام عائد کیا کہ انھیں زبردستی رجسٹرڈ کروانے اور جنسی اعضا کا معائنہ کروانے پر مجبور کرنا ان کی ’نسوانیت کی توہین‘ ہے۔

ان خواتین نے ’نفرت انگیز معائنے کے اس عمل کے خلاف جو دوسرے لفظوں میں شرمناک تھا‘ احتجاج کیا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ پولیس کی جانب سے پکڑے جانے والی خواتین کو ’ڈاکٹر اور اس کے ماتحت عملے کے سامنے خود کو برہنہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عورت کی غیرت کا احساس ہمارے دلوں سے پوری طرح مٹایا نہیں جا سکتا۔ حکام نے اس درخواست کو فوراً مسترد کردیا۔

شہر کے اہم اور بااثر عہدیداروں نے کہا کہ ‘پوشیدہ جسم فروش خواتین’ جو رجسٹریشن سے بچتی ہیں اس نئے قانون کے لیے خطرہ ہیں۔ کلکتہ کے ایک اہم ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ پائنے کا کہنا تھا کہ بنگال میں جسم فروش عورتوں کو منظم کرنا تقریباً ناممکن کام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی رضامندی کے بغیر ان کا اندراج کروانا چاہیے۔

پروفیسر مترا کا کہنا ہے کہ سنہ 1870 سے 1888 کے درمیان صرف کلکتہ میں اس قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ہر روز تقریباً 12 خواتین گرفتار کی جاتی تھیں۔ حکام نے نوٹس کیا کہ متعدد خواتین جن کو محسوس ہوا کہ ان پر نظر رکھی جا رہی ہے شہر سے فرار ہو رہی تھیں۔

وفاقی حکومت نے اس بارے میں بحث کی کہ کیا بنگال میں پولیس قانونی طور پر ان خواتین کا معائنہ کر سکتی ہے جن پر ’اسقاط حمل اور طفل کشی کا الزام لگایا جاتا ہے۔‘

ایک مجسٹریٹ نے محسوس کیا کہ خواتین کے لازمی معائنے کے بغیر ’ریپ اور اسقاط حمل کے جھوٹے مقدمات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گا۔‘

ایک مجسٹریٹ کی دلیل تھی کہ خواتین سے معائنے کے لیے رضامندی کا حصول ’انصاف کے نظام‘ کو معذور کرسکتا ہے۔ بنگال کے سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں شہر کے پولیس کمشنر اسٹیورٹ ہوگ نے مشورہ دیا کہ قانون کی حدود کی وجہ سے خواتین مردوں کو مضر بیماریوں میں مبتلا کرتی رہیں گی۔

لیکن انڈیا اور برطانیہ میں اس قانون کی بڑھتی مخالفت کے ساتھ متعدی بیماریوں کے ایکٹ کو سنہ 1888 میں منسوخ کر دیا گیا۔

نو آبادیاتی انڈیا میں صنف اور جنسیت کی مصنف جیسیکا ہینچی نے کہا کہ نو آبادیاتی انڈیا میں جنسی اعضا کے معائنے کا نشانہ صرف مشتبہ جسم فروش خواتین ہی نہیں تھیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ برطانوی اہلکار ‘خواجہ سراؤں کے لیے ہتک آمیز کالونیل اصطلاح ‘یونک’ استعمال کرتے تھے’ اور انھیں بھی 1871 کے ایک متنازع قانون کے تحت جنسی اعضا کے معائنے سے گزرنا پڑتا تھا جس میں چند ذاتوں کو موروثی مجرم سمجھا جاتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس قانون کا مقصد ”ہیجڑوں’ کے پولیس میں اندراج، ان کی پرفارمنس پر پابندی، ان کے زنانہ کپڑے پہننے پر پابندی، ان کے گھروں سے بچوں کو زبردستی نکالنے اور ان کی شاگردی اور جانشینی کی روایات میں مداخلت کر کے اُن کی ’بتدریج معدومیت‘ تھا۔

یاد رہے کہ سامراجی دور کی اصطلاح یونک کی طرح لفظ ہیجڑا بھی ہتک آمیز تصور کیا جاتا ہے۔

متعدی امراض ایکٹ نو آبادیاتی انڈیا کی تاریخ کا ایک شرمناک باب سمجھا جاتا ہے۔

عہدیداروں نے مجسٹریٹ، پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروں کو سوالنامے تقسیم کیے کہ جسم فروش خواتین کی تشریح کس طرح کی جائے۔

پروفیسر مترا لکھتی ہیں کہ نو آبادیاتی حکام نے جواب دیا تھا کہ تمام انڈین خواتین ممکنہ طور پر جسم فروش ہیں۔ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار اے ایچ گِلس کا کہنا تھا کہ وہ تمام خواتین جو اونچی ذات سے تعلق نہیں رکھتیں اور غیر شادی شدہ ہیں ان کو جسم فروش کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ سنہ 1875 سے 1879 کے درمیان بنگال کے شماریاتی جائزوں کی 20 جلدوں میں بار بار جسم فروشوں کے زمروں کا استعمال کیا گیا۔

اس وقت بنگال میں ایک درمیانی سطح کے بیوروکریٹ بینکم چندر چیٹرجی جو بالآخر ایک مشہور ناول نگار اور انڈیا کے قومی نغمے کے مصنف بنے انھوں نے خواتین کے مختلف گروپ بیان کیے جو ‘خفیہ جسم فروشی پر عمل پیرا تھیں۔’

پروفیسر مترا کے مطابق نو آبادیاتی انڈیا میں ہندو اونچی ذات کی شادی سے باہر کی تمام خواتین کو عملی طور پر جسم فروش سمجھا جاتا تھا۔

ان میں رقص کرنے والی لڑکیاں، بیوہ خواتین، کثرتِ ازدواج میں ہندو اور مسلمان خواتین، بھکاری، خانہ بدوش خواتین، فیکٹری مزدور اور گھریلو ملازمائیں شامل تھیں۔

بنگال کی سنہ 1881 نو آبادیاتی مردم شماری میں 15 سال سے زیادہ عمر کی تمام غیر شادی شدہ خواتین کو جسم فروش سمجھا گیا۔

کلکتہ شہر اور اس کے آس پاس کی پہلی مردم شماری میں 145،000 خواتین کی آبادی میں سے 12،228 خواتین کو جسم فروش کے طور پر شمار کیا گیا۔ سنہ 1891 تک یہ تعداد 20،000 سے تجاوز کر گئی۔

پروفیسر مترا کا کہنا ہے کہ ‘اس ایکٹ کے متعارف ہونے سے ایک علمی تبدیلی پیدا ہو گئی۔ یہ ایک ایسی اہم تبدیلی تھی جس میں برطانوی کالونیل ریاست نے انڈیا میں جنسی طور طریقوں کے بارے میں گہری دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔‘

لیکن مردوں کا جنسی عمل ریاست کے باضابطہ جائزے سے مکمل طور پر باہر ہی رہا۔

پروفیسر مترا کا کہنا ہے کہ ‘خواتین کی جنسیت پر قابو پانا اتنا اہم ہوگیا کہ برطانوی نو آبادیاتی ریاست نے روز مرہ کی زندگی میں مداخلت شروع کر دی۔’

اس کے علاوہ بنگال جیسی جگہوں پر جہاں انھوں نے تحقیق کی، وہاں انڈین مردوں نے بھی ‘انڈین معاشرے کے اپنے وژن کے تحت خواتین کی جنسیت پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا۔ اس وژن کے تحت معاشرے کو اونچی ذات کی ہندو یک ازدواجی خطوط پر استوار کر دیا گیا اور مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو الگ کر دیا گیا۔’

اس سب کی بنیاد یہ نظریہ تھا کہ ’روایت سے منحرف‘ نسوانیت ایک ایسا مسئلہ ہے جسے آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

پروفیسر مترا کا کہنا ہے کہ ’اس عمل میں خواتین کی تشریح کی گئی، ان پر مقدمات چلائے گئے، ان کی عوامی سطح پر ہر پہلو سے تفتیش کی گئی۔ ان پر جبراً قانون نافد کیے گئے، انھیں جیلوں میں ڈال دیا گیا، ان کی مرضی کے خلاف معائنے کیے گئے۔‘

اور وہ کہتی ہیں کہ یہ تاریخ اس سلوک کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو آج بھی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp