بیروت، تو مر نہیں سکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک بار پھر بیروت سے آداب۔ احباب واقف ہیں کہ چند ہفتے قبل بیروت کو بندرگاہ پر لمبے عرصے سے ذخیرہ کیے گئے کیمیائی کھاد کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے نے لرزا دیا تھا۔ اس دھماکے سے جغرافیائی اعتبار سے ایک محدود علاقے میں تباہی ہوئی لیکن مسئلہ یہ رہا کہ یہ علاقہ بیروت کے سیاحتی کاروبار کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جمیزی نامی محلہ بیروت کی شبینہ گاہوں، ریستورانوں اور مے خانوں کا مرکز تھا اور بندرگاہ کے عین پیچھے واقع ہے۔

دھماکے کے اثرات سے کئی میل تک کی عمارات کے شیشے، چوبی دروازے کھڑکیاں اور آرائشی دیواریں، سب ریزہ ریزہ ہو گئے لیکن یہ علاقہ بطور خاص زد پر آیا۔ ہمارے ادارے میں اس خادم کی کچھ ہوا، بجا یا بے جا طور پر ایسے حادثات کے بعد تعمیر نو کے حوالے سے بندھی ہوئی ہے، چنانچہ ہمارے لبنان کے دفتر نے اس خادم کے وقت کا کچھ حصہ مستعار لینے کی استدعا کی، جو افسران بالا نے قبول کرلی۔ تب سے یہ خادم وقتاً فوقتاً مشورے دیتا رہتا ہے۔ اور گاہ بہ گاہ تباہی کی صورت حال کا جائزہ اور تعمیر نو کی لاگت کا اندازہ لگانے اور بحالی کی رفتار کا جائزہ لینے کے لیے چکر بھی لگاتا ہے۔

گزشتہ مراسلے میں اشارہ کیا تھا کہ یہ خطہ بیک وقت چار قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ سوریہ میں ایک دہائی سے جاری شورش نے پورے علاقے کی معیشت، خصوصاً سیاحت سے متعلقہ دھندوں کو بری طرح متاثر کر رکھا تھا۔ گزشتہ برس لبنانی نوجوانوں کو ترنگ اٹھی کہ ”تبدیلی“ لائی جائے اور ”کرپشن“ کا خاتمہ کیا جائے۔ اس بنیادی طور پر درمیانے طبقے سے اٹھی تحریک کا بظاہر کوئی رہ نما نہ تھا، نہ اس کے اغراض و مقاصد کچھ مجمل قسم کے نعروں سے آگے بڑھ پائے اور نہ ہی اس کی کوئی واضح سیاسی سمت تھی۔

لہذا روز روز کی ہڑتالوں اور توڑ پھوڑ سے اور تو کچھ نہ ہوا، بس مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور لبنانی کرنسی کی قیمت کوئی آٹھ گنا گر گئی۔ اس دوران کورونا کی وبا نے دنیا بھر میں نقل و حرکت اور کاروبار کو متاثر کیا جس کے سبب روز کا روز کمانے والے طبقے اور سریع الحرکت اشیاء و خدمات کے کاروبار سے متعلق لوگوں کو روٹی کے لالے پڑ گئے۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق، اس دھماکے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔

یہ دیکھ کر شدید قلق ہوا کہ دہائیوں سے جمے جمائے کاروبار ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ لبنان کے لوگوں میں یک گونہ خود پسندی پائی جاتی ہے۔ سو اکثر مشقت طلب اور تکلیف دہ کام غیر ملکی مزدوروں کے سپرد ہیں جن میں فلپائن، ایتھوپیا، بنگلادیش اور کم کم پاکستان کے باشندے نظر آتے ہیں۔ گھریلو کام کاج اور ریستورانوں کی خدمات اکثر فلپائنی اور ایتھیوپیائی مرد و زن کے ذمے ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ دو ماہ میں اس خادم کا مشاہدہ رہا کہ لبنان سے دبئی جانے والا ہر جہاز معاشی بحران کے ہاتھوں بے روزگار ہونے والے غیر ملکی مزدوروں سے بھرا ہوتا ہے، جن کے آجرین و مالکان انہیں تنخواہ دینے سے قاصر ہو چکے ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری شرح زر مبادلہ میں مہیب تفاوت کے سبب لبنانی لیرا میں دی گئی تنخواہیں بے وقعت ہو چکی ہیں۔ چند علاقوں میں، اچھے دنوں میں کرائے پر فلیٹ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوا کرتا تھا۔ کل الحمرا نامی بازار سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ان علاقوں میں ”کرائے کے لیے خالی ہے“ کے اشتہارات جا بجا دیواروں پر چسپاں تھے۔ ایک جگہ تو عجب ستم ظریفی نظر آئی کہ ”یوتھ فار چینج“ کی قبیل کے ایک نعرے کے برابر ہی لگا ہوا کرائے کے لیے خالی کا اشتہار دونوں عوامل کے درمیاں سبب اور مسبب کی نشان دہی کر رہا تھا۔ جب کہ ایک اور دیوار پر کسی نے لکھ رکھا تھا کہ کارل مارکس نے یہ سب پہلے ہی بتا دیا تھا۔

اس سب کے باوجود اہل بیروت کا جذبہ تعمیر نو زندہ ہے۔ جہاں جہاں لوگوں سے بن پڑتا ہے، دکانوں کی مرمت جاری ہے۔ اس وقت ایک عبوری حکومت قائم ہے جسے سیاست دانوں کے خلاف بنا دی گئی فضا کے سبب اعتماد کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی امدادی ادارے بھی اسے مدد پہنچانے سے گریزاں ہیں۔ جہاں جہاں حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے، مثلاً اجتماعی استعمال کی گلیوں، بجلی کے نظام، آبنوشی اور نکاس کا سلسلہ، وہاں وسائل کی کمی کے سبب پیش رفت سست ہے۔ اہل بیروت نے ایک جگہ لکھ رکھا ہے ”بیروت، انت لا بتموت“ ۔ اے بیروت، تو مر نہیں سکتا۔ اس خادم کو اس شہر کی گزشتہ نصف دہائی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس میں کوئی شبہ نہیں، لیکن اس بار واقعہ سخت ہے۔ دیکھیں کیا گزرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •