سنیما کا سفر: مغرب میں خیال سے فکشن اور مشرق میں بالاخانے سے رومان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلیک اینڈ وائٹ سلولائیڈ فلم سے ڈیجیٹل گرافکس تک لگ بھگ 125 برسوں میں سنیما کے میڈیم یا آرٹ فارم نے کافی طویل سفر کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ فلم انسانی معاشرے میں کیا اہمیت رکھتی ہے اور لوگ اس کا کتنا ا ثر قبول کرتے ہیں۔ اور اس معاملے میں انگلش فلموں کی نسبت اردو فلموں نے اپنے معاشرے پر کتنا اثر ڈالا۔

مغربی فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ فلمیں دوسری عالمی جنگ او ر قدیم امریکی کاؤ بوائے معاشرے پر بنائی گئیں۔ رومان، کامیڈی، ایکشن، سائنس فکشن، مسٹری، ہارر اور تاریخی کہانیوں پر مبنی فلمیں بھی بہت تعداد میں بنیں۔ امریکی اور یورپی معاشروں پر ان فلموں کا گہرا اثر پڑا۔ لوگوں نے فلموں سے بہت کچھ سیکھا اور اس علم اور مشاہدے کو ذاتی اور سماجی زندگی میں استعمال بھی کیا۔ وہاں فلم کو سنجیدہ علمی حوالے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ ڈائریکٹر پروڈیوسر سٹیون سپیل برگ، فرانسس فورڈ کوپولا، جارج لوکس، جے لی تھامپسن اور ووڈی ایلن سمیت جن لوگوں نے نیو ہالی ووڈ ایرا کا آغاز کیا ان کے منتخب کردہ موضوعات پر تحقیق تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بن چکی ہے۔
اگرچہ برطانوی سیکرٹ ایجنٹ جیمز بانڈ کی مشہور زمانہ فلموں میں وقوع پذیر ہونے والے ناممکن واقعات نے مغربی فلموں کی حقیقت نگاری کی ساکھ کو کافی حد متاثر کیا اور اس کی دیکھا دیکھی بہت سی دوسری فلموں میں بھی فضائی قلابازیوں اور خلائی چھلانگوں کا سہارا لیا گیا لیکن پھر بھی عمومی طور پر یہی سمجھا جاتا رہا کہ فلم محض تفریح نہیں بلکہ انسانی ذہن کو خیال کی بلندیوں پر لے جانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اور فلم صرف باکس آفس پر کامیابی اور ڈالر کمانے کے لئے نہیں بنائی جاتی بلکہ یہ لٹریچر اور ابلاغ عامہ کی ایک صورت بھی ہے۔

سٹار وارز اور پلینٹ آف دی اپیس جیسے فلمی سلسلوں نے انسان کے لئے امکانات اور تصورات کی نئی دنیاؤں کو کھول دیا۔ لیکن پھر فرسٹ بلڈ سے شروع ہونے والی ایکشن فلموں کی لمبی قطار نے ٹرمینیٹر کی سیریز اور ٹام کروز کی مشن امپاسیبل فلموں سے گزرتے ہوئے موضوع کی ضرورت کو کافی حد تک کم کر دیا۔ اور فلم ڈائریکشن میں کردار نگاری کی بجائے واقعات کی ریکارڈنگ میں مہارت حاصل کرنے کو زیادہ اہمیت حاصل ہونے لگی۔ لیکن میٹریکس (Matrix – 1999) سے ایک نئی بحث شروع ہوئی جس کا بنیادی کردار انسان نہیں بلکہ مشین تھی۔ یہ بحث بھی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوئی لیکن انسانوں کے سوچنے کے لئے بہت کچھ چھوڑ گئی۔ اور اب لارڈ آف دی رنگز سے شروع ہونے والی تخیل کی پرواز نے ہیری پوٹر سے گزرتے ہوئے فلموں کا رخ بچوں کی کامک بکس کے کرداروں کی طرف موڑ دیا ہے اور سپر ہیروز نے جیمز بانڈ فلموں کی قلابازیوں اور چھلانگوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
ان سپر ہیروز پر درجنوں فلمیں بن چکی ہیں جبکہ درجنوں بنائی جا رہی ہیں۔ ان تمام فلموں نے اربوں ڈالر کا بزنس کیا ہے لیکن ان فلموں میں کہانی، سکرین پلے، اداکاری، ہدایتکاری اور فوٹوگرافی سمیت تمام اہم شعبوں پر ڈیجیٹل گرافکس کا علم حاوی ہو چکا ہے اور فلم اور کارٹون آپس میں گڈمڈ ہو گئے ہیں۔ موضوع کا علم اداکاروں سے لے کر سکرپٹ لکھنے والوں تک کسی کو نہیں ہوتا۔ سب دیکھنے والوں کو حیران کر دینے کی دوڑ میں بھاگے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مغربی سنیما کے پاس موضوعات ختم ہو گئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماڈرن ازم سے پوسٹ ماڈرن ازم تک اور پھر اس سے بھی آگے نئی دنیاؤں کی تلاش کے سفر میں ہالی ووڈ اپنا راستہ تقریباً کھو چکا ہے۔
تاہم اس ساری افراتفری میں اور ڈیجیٹل میڈیا کے اچانک پھیلاؤ کے باوجود مغربی اخبارات کی طرح سنیما بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ آج بھی 1985ء میں بننے والی شہرہ آفاق فلم Back to the Future کے ڈائیلاگ علمی حوالوں کی طرح دہرائے جاتے ہیں۔ اور اس فلم کی تازہ ترین قسط کا انتظار ابھی تک کیا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی دن سپر ہیروز کی اڑانوں سے اکتا کر ہالی ووڈ ایک بار پھر موضوع کی بلندی کی طرف جانے والے راستوں پر لوٹ جائے جس کے لئے ان کے پاس تمام تر لوازمات اب بھی موجود ہیں اور ٹیلنٹ کی بھی کوئی کمی نہیں۔

اردو اور ہندی فلمیں زیادہ تر شادی، طوائف، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، گھریلو اور سماجی جرائم کے موضوعات پر بنائی گئیں۔ شاید دس ہزار یا اس سے بھی بہت زیادہ فلمیں صرف اس سوال پر بنیں کہ عورت کو اپنی مرضی کے مرد سے شادی کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اس سے کچھ ہی کم فلموں کا موضوع یہ رہا کہ عورت اپنی مرضی سے طوائف بنتی ہے یا سماج اسے زبردستی طوائف بن جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ فلموں کا تیسرا اہم ترین موضوع یہ رہا کہ تہذیب کون سی اختیار کی جائے مغربی یا مشرقی۔ چوتھا سوال یہ تھا کہ کیا غریب اور امیر لوگوں کے درمیان شادی کا رشتہ استوار کرنا مناسب ہو گا یا نہیں۔ پانچواں اہم ترین موضوع یہ رہا کہ ایک عورت کے دو چاہنے والوں یا ایک مرد کی دو محبوباؤں میں سے ناکام رہنے والے فریق کو زندہ رہنا چاہیے یا نہیں۔
جہیز کے موضوع نے بھی بہت سی فلم بین عورتوں کو سنیما ہاؤسز میں رونے پر مجبور کیا۔ سب سے زیادہ مشکل محبت کے تصور کے بارے میں پیش آتی رہی۔ سوال یہ تھا کہ محبت میں ناکامی کے بعد زندہ رہنا درست ہو گا یا نہیں۔ اور آیا کسی ایک فریق کا یہ جہان چھوڑ جانا کافی رہے گا یا دونوں کو جانا ہو گا۔ اور چونکہ لوک رومانی داستانوں کے تمام کردار یعنی ہیر رانجھا، سسی پنوں، شیریں فرہاد، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں اور لیلیٰ مجنوں ایک دوسرے کی خاطر مر مٹے تھے اس لئے فلموں میں بھی محبت یا موت کا اصول کار فرما رہا۔

عملی طور پر ان ہزارہا فلموں کو دیکھنے والوں نے محض تفریح کے طور پر لیا۔ فلم کو کبھی بھی علمی یا سماجی حوالہ نہیں سمجھا گیا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلم صرف، صرف اور صرف تفریح کے لئے بنائی جاتی ہے اور اسے محض تفریح طبع کی خاطر ہی دیکھنا مناسب ہے۔ پاکستان میں فلمی سرکٹ محدود ہونے کی وجہ سے ماضی میں جو فلمیں بنائی گئیں ان میں بجٹ کی کمی کے پیش نظر آسان اور کم خرچ کہانیوں کو منتخب کیا جاتا رہا۔ اگرچہ قیام پاکستان کے بعد اچھے ڈائریکٹروں کی بہت بڑی تعداد معیاری فلمیں بنانے میں مصروف رہی اور انور کمال پاشا، خواجہ خورشید انور، ریاض شاہد، اے آر کاردار، پرویز ملک، سجاد گل، شوکت حسین رضوی اور وحید مراد نے بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں لیکن رفتہ رفتہ فلم انڈسٹری زوال کی طرف بڑھتی گئی اور کم از کم 20 سال پہلے فلم کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔
فلم سٹوڈیو بند ہو گئے سنیما ٹوٹنے لگے اداکاروں کی اکثریت نے ٹی وی چینلز کا رخ کیا۔ بہت سے ٹیکنیکل افراد یا تو کام چھوڑ گئے یا اگر جگہ ملی تو ٹی وی چینلز میں بھرتی ہو گئے اور اب پاکستانی سنیما تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچھلے پانچ سات برسوں میں ایک بار پھر سال میں دو تین فلموں کے حساب سے تازہ فلمیں بننے لگی ہیں جن کے زیادہ تر فلم ساز اور ہدایتکار نئے لوگ ہیں۔ اداکار بھی کچھ ٹیلی ویژن سے آئے یا پھر نئے ہیں۔ پروڈکشن میں ٹی وی کے لوگوں سے مدد لی جاتی ہے اور پوسٹ پروڈکشن زیادہ تر ملک سے باہر کی لیبارٹریز میں ہوتی ہے۔ یوں اردو فلم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔
فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا کوئی مستقبل ہے یا نہیں۔ اکا دکا بننے والی فلمیں اگلے سال بھی بنیں گی یا نہیں۔ کیا جو لوگ اب فلمیں بنا رہے ہیں وہی لوگ دوبارہ رسک لینا چاہیں گے یا کوئی نئے لوگ آئیں گے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ساتھ ساتھ جدید سنیما گھر بھی بن رہے ہیں جن کی ٹکٹ اگر چہ بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر بھی وہ چل رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صادق جعفری کی دیگر تحریریں