سائنس کی دنیا سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ نیا کرونا وائرس انسانی جلد پر فلو وائرس سے کہیں زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ کلینیکل انفیکشیئس ڈیزیزز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس، انسانی جلد پر نو گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، جب کہ انفلوئنزا وائرس صرف دو گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔ یہ تحقیق وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہاتھوں کے دھونے اور سینی ٹائزر کے استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔

2۔ ایک نئی تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ انسانی ارتقا کی موجودہ رفتار پچھلے دو سو پچاس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ اندازہ زیادہ سے زیادہ بالغ انسانوں کے بازو میں ایک زاید شریان کی موجودگی سے لگایا گیا۔ یہ شریان جو رحم مادر میں ہاتھ اور بازو کو خون کی سپلائی کا بڑا ذریعہ ہوتی ہے، عام طور پر حمل کے دوران میں ہی ریڈیس اور النا نامی شریانوں سے تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاہم کچھ لوگوں میں موجود رہتی ہے۔ تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ انیسویں صدی میں یہ شریان تقریباً دس فی صد انسانوں میں موجود تھیں، جو اب بڑھ کر 30 فی صد ہو گئی ہے۔ انسانوں میں اس تیز رفتار ارتقا کی ایک اور مثال زیادہ سے زیادہ بچوں میں عقل داڑھ کے بغیر پیدائش ہے۔

3۔ کتوں کے مقابلے میں بلیاں انسان سے زیادہ دیر میں مانوس ہوتی ہیں۔ نئی تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے اور بلیوں کو مانوس کرنے کے لیے آنکھوں کو سیکوڑنے اور پلکوں کو آہستہ آہستہ جھپکنے پر زور دیا ہے۔ جس کو بلیاں مسکراہٹ کے طور پر لیتی ہیں۔ سائنسدانوں نے بلیوں کے اس مندی آنکھوں والے چہرے کے تاثر کو سمجھنے کے بعد، انسانوں کے ساتھ ان کی بہتر کمیونیکیشن کا امکان ظاہر کیا ہے۔

4۔ نیپلز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دو ہزار سال پہلے ماؤنٹ ویسویس کے پھٹنے سے پیدا ہونے والی آتش فشانی راکھ میں ایک بالغ انسان کے بہترین حالت میں محفوظ دماغی خلیے دریافت کیے ہیں۔ انتہائی گرم راکھ نے بہت تیزی کے ساتھ ٹھنڈا ہو کر اپنے شکار کے دماغ کو پوری جزئیات کے ساتھ محفوظ کر دیا تھا۔

5۔ سائنسدانوں نے پہلی دفعہ کمرے کے درجہ حرارت پر گرافین کی حرکی توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو مستقبل میں چھوٹے آلات کے لیے توانائی حاصل کرنے کا ایک مستقل ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ طبیعیات دانوں کے مطابق گرافین سے بنا سرکٹ کسی بھی چھوٹے چپ یا سینسر کو لو وولٹیج، صاف بجلی مستقل دیتے رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

6۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے منگولیا کے صحرائے گوبی سے ڈائنو سار کی ”اوکساکو اوارثان“ نامی ایک نئی نوع دریافت کی ہے، جس کی لمبائی دو میٹر، ہاتھ میں صرف دو انگلیاں اور بغیر دانتوں کے طوطے کی چونچ جیسا منہ تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق ڈائنو سار میں ہونے والی ایسی ہی ارتقائی تبدیلیوں نے 68 ملین سال پہلے اپنی نا بودگی سے قبل، ان کو زمین پر لمبے عرصے تک حکمرانی کے قابل بنایا۔

7۔ سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آواز کی زیادہ سے زیادہ رفتار 36 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ واضح رہے کہ روشنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے۔

8۔ پینسلوینیا میں موجود پرندوں کی ایک قدرتی تحفظ گاہ میں، سائنسدانوں نے ایک آدھے نر اور آدھے مادہ پرندے کا مشاہدہ کیا ہے۔ گلابی سینے والے Grosbeak نامی پرندے کے جسم پر نر اور مادہ دونوں طرح کے پر موجود تھے۔

9۔ ماہرین فلکیات کے خیال کے مطابق آج سے ڈھائی ملین سال پہلے زمین کے بہت قریب ایک ستارے کے پھٹنے یا سپرنووا کا عمل ہوا تھا۔ جب ستارہ اپنی طبعی عمر کو پہنچتا ہے، تو وہ ایک دھماکے سے پھٹ جاتا ہے، جس سے فضا میں کچھ مخصوص تاب کاری عناصر پھیل جاتے ہیں۔ سائنس دان جو خاصے عرصے سے زمین کے قریب وقوع پذیر ہوئے کسی سپرنووا کا ثبوت ڈھونڈنے میں مصروف تھے، اب زمین پر ایسے تاب کاری عناصر تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •