نیوزی لینڈ کا ولاگر اور کراچی کی موبائل شاپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

27 سالہ نک فشر نیوزی لینڈ کا یوٹیوبر ہے۔ وہ دنیاکے مختلف ممالک کی سیرکرتا ہے، وڈیوز بناتا ہے اور اپنے یوٹیوب چینل پراپ لوڈ کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ایک ”ولاگر“ ہے۔ دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز کی تعداد سات لاکھ اٹھاسی ہزار ہے۔ دنیا کے بہت سے اور ”ولاگرز“ کی طرح اس کا ذریعہ معاش بھی یہی ہے۔ یہ ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“ والی بات ہے کہ سیر کرو، وڈیو بناؤ اور پیسے بھی کماؤ۔ یہ طریقہ جس کو راس آ جائے وہ اپنی پکی نوکری چھوڑ کر اس کام میں لگ جاتا ہے۔

نک فشر نے ”انڈیگو ٹریولر“ کے نام سے اپنا چینل بنا رکھا ہے۔ اس سال پاکستان میں کرونا کے پھیلنے سے ذرا پہلے وہ پاکستان بھی آیا۔ پاکستان میں قیام کے دوران وہ کراچی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور بلوچستان میں گڈانی میں بحری جہازوں کا ”کباڑ خانہ“ بھی دیکھنے گیا۔ ایک بات بہت قابل غور ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایک دو ولاگرز کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ گڈانی ضرور جاتے ہیں۔ اللہ کرے ان کا مقصد صرف سیاحت ہی ہو۔

حسب معمول اس نے یہاں کی وڈیوز بھی بنائیں۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے، اکیلا یا کسی مقامی کے ساتھ بازاروں میں گھومتا اور عام لوگوں سے گفتگو ضرور کرتا ہے۔ یہاں بھی اس نے ایسا ہی کیا۔ پاکستان میں قیام کے دوران اس نے تقریباً گیارہ وڈیوز بنائیں۔ پاکستان کو اپنی توقعات سے بڑھ کر پایا۔ لوگوں کی مہمان نوازی سے خوب لطف اٹھایا۔ اپنی وڈیوز میں اس نے پاکستان کو سیرو سیاحت کے لئے ایک آئیڈیل ملک قرار دیا۔ اس کی گیارہ میں سے ساڑھے دس وڈیوز میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر ہوتا ہے۔ لیکن گیارہویں وڈیو میں سے آدھی وڈیو نے ہمارے اس تاثر کا تیا پانچا کر کے رکھ دیا۔

اس میں قصور اس کا نہیں، سراسر ہمارے ایک پاکستانی صاحب کا ہے۔ نک جب کراچی ائرپورٹ پر اترا تو اس نے ائر پورٹ کی حدود میں واقع مارکیٹ سے ایک موبائل سم خریدی۔ موبائل شاپ والے پاکستانی بھائی نے اس سے اس سم کے چالیس ڈالرز وصول کیے ۔ اس دن کے ریٹ کے مطابق یہ 6500 روپے بنتے تھے۔ آپ اندازہ کریں وہ سم کارڈرز جو ہمارے ہاں ”دھکے“ کھا رہے ہیں، ان کے اس بھائی صاحب نے نک سے عام قیمت سے آٹھ گنا زیادہ دام کھرے کر لئے۔

دوسری زیادتی اس نے یہ کہ اس کو بتایا کہ اس میں دس جی بی کاڈیٹا ہے۔ جب کہ اصل میں اس میں صرف ڈیڑھ جی بی کا ڈیٹا تھا۔ وہ پوری دنیا میں گھومتا پھرتا ہے۔ اسے محسوس ہوا کہ اس سے سم کے زیادہ پیسے لئے گئے ہیں۔ اس نے تحقیق کی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت صرف 4 ڈالرز تھی۔ اس دن کے ریٹ کے مطابق یہ 800 روپے بنتے تھے۔ غضب خدا کا، اسے غیر ملکی سمجھ کر اس سے 5700 روپے زیادہ وصول کیے گئے اور ڈیٹا کا جھوٹ بھی بولا گیا۔ اس نے مزید بتایا کہ اتنے ڈیٹا والی سم ایبٹ آباد میں اسے 180 روپے کی ملی۔

اس نے کسی ادارے یا افسر سے شکایت تو نہیں کی، البتہ واپسی پرکراچی ائرپورٹ پر اس موبائل شاپ کے سامنے کھڑے ہو کر، اس شاپ کی طرف اشارہ کر کے ان کے فراڈ کی داستان کی وڈیو بنائی اور لوگوں کو اس موبائل شاپ سے بچنے کی تلقین کی۔ اس وڈیو میں اس نے دنیا بھر کے لوگوں کو پیغام دیا کہ آپ لوگ بے خوف وخطر پاکستان آئیں۔ پاکستان میں اس نے کچھ غلط نہیں دیکھا، سوائے اس ایک واقعہ کے۔ یہ وڈیو ابھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس کو اب تک دنیا بھر میں چار لاکھ، پانچ ہزار ایک سو سینتیس لوگ دیکھ چکے ہیں۔ ان پاکستانی صاحب کو اس فراڈ سے کیا ملا؟ آج کے دور میں 5700 روپے کی ایک ملک کے امیج کے سامنے کیا حیثیت ہے۔ ہر لحاظ سے یہ ایک شرم ناک اورقابل مذمت بات ہے۔

اس وڈیو کے یوٹیوب پراپ لوڈ ہونے کے بعد پاکستان میں بھی اس کو دیکھا گیا۔ دنیا بھر سے 2288 افراد نے اس پر اپنے تاثرات بھی تحریر کیے ۔ اکثر پاکستانیوں نے نک سے معذرت بھی کی اور وزیراعظم پورٹل پر اس افسوس ناک واقعہ کی شکایت کرنے کی بات بھی کی۔ وڈیو میں موبائل شاپ کی تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ یقیناً کچھ لوگوں نے اس دکان پر جا کر ان کو ان کے کرتوت دکھائے بھی ہوں گے۔ موبائل شاپ والوں نے جب دنیا بھر میں اپنی درگت بنتے دیکھی تو نک کو معذرت کی ای میل بھیجی اور ساتھ ہی اس کو 40 ڈالرز واپس بھی کیے ۔ اس نے اس معذرت اور پیسوں کی واپسی کے ذکر پر مبنی ایک اور وڈیو بھی یوٹیوب پراپ لوڈ کی ہے۔ بے شک موبائل شاپ والوں نے ازالہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس حرکت کی وجہ سے ملک کا جو امیج خراب ہوا، اس کا مکمل ازالہ بہت مشکل ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ اس سال پی ایس ایل کے میچز کے دوران لاہور ائر پورٹ پر بھی ہو چکا ہے۔ ٹورنامنٹ کی کوریج کے لئے آئے ہوئے ایک آسٹریلین صحافی سے ائرپورٹ کے کسی اہلکار نے ہزاروں روپے ناجائز وصول کر لئے۔ اس نے آسٹریلیا پہنچ کر وزیر اعظم عمران خان کو ٹیگ کر کے ٹویٹ کر دیا۔ وزیر اعظم نے فوری نوٹس لیا اس صحافی کے پیسے واپس کروائے۔

یہ تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہو گئے اور ان کا ازالہ بھی کر دیا گیا۔ یقیناً بہت سے ایسے واقعات اور بھی ہوں گے، جن کے بارے میں پتا نہیں چل سکا ہوگا۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی اپنی جڑیں کاٹنے کے لئے کافی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •