آوارہ گرد دماغ کی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی دماغ بھی عجب شے ہے۔ منٹوں، سیکنڈوں میں برسوں اور صدیوں کا سفر طے کر لیتا ہے. لمحہ بہ لمحہ بدلنے والی سوچوں کی ایک طویل اور بے ترتیب سی راہگزر بن جاتی ہے۔ کبھی یہ سوچیں ایک خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں اور کبھی اداس کر دیتی ہیں۔ آج میں اپنی ان بے ترتیب سوچوں کو من و عن لکھ رہی ہوں۔

مجھے اپنے والد کی کچھ باتیں یاد آ رہی تھیں۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور اسلام کا پرچار زوروں پر تھا۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا عزم تھا اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کا نعرہ عروج پر تھا۔ میرے ابو ہمیشہ اس نعرے پر مسکراتے اور کہتے، پاکستان میری نظروں کے سامنے قائم ہوا ہے لیکن اس زمانے میں ہم نے کبھی یہ نعرہ نہیں سنا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان کا قیام خالصتاً مذہبی معاملہ قطعی نہیں تھا بلکہ تعلیم، روزگار، تجارت، تمام شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں کی پسماندگی اور ان سے امتیازی سلوک کے باعث قائداعظم کا کہنا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رویہ کے باعث مسلمان ترقی نہیں کر سکتے اور ان کے جمہوری حقوق محفوظ نہیں رہ سکتے۔

قائداعظم کی سوچ یہ تھی کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ مذہب ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے۔ قائد اعظم کی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں 11 اگست 1947 ء کی پہلی تقریر کے چند الفاظ بھی کچھ اس طرح تھے کہ “تم سب آزاد ہو۔ اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے، اپنے مندروں میں جانے کے لئے، اپنے گرجا گھروں میں جانے کے لئے، یعنی ہر ایک کو اس کے مذہب کی آزادی ہو گی”۔ ضیاءالحق کے بارے میں میرے ابو کی رائے تھی کہ“ بہت شاطر آدمی ہے لوگوں کو الجھائے رکھتا ہے۔

کبھی ناظمین صلوۃ کا ڈرامہ رچا کر تو کبھی آزادی کا دن منا کر اور کبھی ریفرنڈم کا ڈھونگ رچا کر ”۔ اس وقت مجھے اپنے والد کی یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں۔ میں نے ان دنوں ناظرہ قرآن ختم کیا تھا، نماز سیکھی تھی، اسلام کی سمجھ بہت سطحی تھی، قرآن نماز اور اسلام کے اصلی معنی سے قطعی نا آشنا تھی۔ طبعی عمر بھی کم تھی اور ذہنی عمر بھی۔ اگرچہ طبعی عمر بڑھنے کے باوجود بہت سے لوگوں کی ذہنی عمر کم ہی رہ جاتی ہے۔ تو میں کہہ رہی تھی کہ والد کی جو باتیں پہلے سمجھ نہیں آتی تھیں، آج بہت اچھی طرح سمجھ آ گئی ہیں۔

اسلام کے نام پر ہمارے ملک کو جو نقصان ضیاءالحق کے دور میں پہنچایا گیا ہے، اس کی سزا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی، مسلکی نفرتوں اور فساد فی الارض کی جو آگ وہ دہکا کر دوسرے جہاں کے سفر پر گئے، اس کی تپش آج بھی قوم کو جھلسا رہی ہے۔ ان کے دور میں ٹی وی میں سر پر دوپٹے کی پالیسی بھی بہت سخت تھی مجھے ضیاءالحق دور کے ایک ڈرامے کا وہ منظر آج بھی بیٹھے بیٹھے ہنسا دیتا ہے جس میں ہیروئن کو ایک نہر میں ڈوبتے ہوئے دکھایا گیا تھا پانی کی وجہ سے کپڑے تو سب جسم سے چپکے ہوئے تھے مگر سر سے دوپٹہ ذرا سا بھی نہیں سرکا تھا۔

اس دوران میری سوچ کی اڑان کسی اور جانب مڑ گئی۔ میں نے سوچا کہ اگر پاکستان ضیاء مارکہ اسلام کا قلعہ بن جاتا تو ہمیں گالا کے بسکٹ جیسا بے ہودہ اشتہار دیکھنے کو نہ ملتا۔ اور اگر انصار عباسی کی خورد بینی نگاہوں نے اس کی بے ہودگی کو اپنی آنکھوں میں محفوظ نہ کیا ہوتا تو وہ اپنے ہم خیال دینی بھائیوں کی غیرت کو کیسے جگاتے اور پیمرا کی آنکھیں کیسے کھولتے؟ ہماری قوم تو غلط راستے پر چل پڑی تھی۔ یہ سوچتے ہی میں نے خیالوں ہی خیالوں میں گالا کے بسکٹ کا اسلامی اشتہار بنا ڈالا۔ گالا والوں سے گزارش ہے کہ آئندہ اشتہار ایسا بنایا جائے ہو سکتا ہے انصارعباسی اور ان جیسی ذہنیت رکھنے والوں کو بھا جائے۔

افطاری کا منظر ہو میز پر ایک ذرا بوڑھی عمر کا جوڑا، ایک نسبتاً جوان مرد اور دو ننھے بچے شرعی لباس میں دستر خوان پر بیٹھے ہوں، اذان کی آواز سنائی دے رہی ہو، دستر خوان پر انواع و اقسام کے کھانے چنے ہوئے ہوں اور سب پوچھ رہے ہوں وہ کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے؟ ہم تو روزہ اس سے ہی افطار کریں گے۔

اتنے میں عبایہ اور اسکارف پہنے مہوش حیات اندر داخل ہو، اس کے ہاتھ میں گالا کے بسکٹ کا پیکٹ ہو اور کہے یہ لیجیے امی جان (ساس)، یہ لیجیے ابو جی (سسر)، پھر بسکٹ اپنے شوہر اور بچوں کی طرف بڑھاتے ہوئے بلند آواز سے بچوں کو افطاری کی دعا پڑھائے۔ اس کے بعد سب مل کر گائیں

میرے دیس کا بسکٹ گالا
افطاری کا لطف دو بالا

کپڑوں اور خاص طور پر عورتوں کے بیہودہ فیشن سے سوچ کی تلاطم خیز موجیں پچھلے دنوں کا ایک منظر بار بار میری نظروں کے سامنے لا رہی ہیں۔ منظر کچھ یوں ہے، میں اور میرا بیٹا پیدل کہیں جا رہے تھے۔ ہمارے آگے ایک لڑکا جا رہا تھا۔ اس کے سرخ رنگ کی انڈر ویئر پتلون میں سے صرف جھانک نہیں رہی تھی بلکہ نکلنے کو بے تاب تھی۔ پتلونوں میں سے جھانکتے ہوئے لڑکوں کے رنگ برنگے انڈرویئر کے اس جدید فیشن کا نظارہ تو ہم روز ہی کرتے تھے مگر یہاں بات کچھ زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔

کولہے پر سے اترتی پتلون نیچے گرنے کے لئے بے چین تھی اب اتری کہ تب اتری۔ ہم نے شرم کے مارے اپنی نظریں نیچے کیں اور قدم تیز کر دیے تاکہ مزید کچھ نہ دیکھ سکیں اور اگر اسی کے عمر کا آپ کا اپنا بیٹا بھی آپ کے ساتھ چل رہا ہو تو دل چاہتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں۔ بیٹا ہم سے اور ہم بیٹے سے نظریں چرا رہے تھے۔ وہاں سے میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ہم بھی ایک خط نام نہاد مولویوں کے نام لکھ دیں جس کا عنوان ہو

”ایک با حیا عورت کا خط مولویوں کے نام“

کیونکہ پچھلے دنوں کئی ”بے حیا“ عورتوں نے مولانا طارق جمیل کو خط لکھے تھے۔ ویسے سچ پوچھیے تو مولانا طارق جمیل ہمیں ان مولویوں سے بہتر لگتے ہیں جو اسلام کے نام پر شدت پسندی، مسلکی نفرتیں اور فساد پھیلاتے ہیں۔ طارق جمیل محبت کی بات کرتے ہیں، امن کی بات کرتے ہیں، دلوں کو جوڑنے کی بات کرتے ہیں، ہاں کبھی کبھی حوروں کے ذکر پر بہک جاتے ہیں۔ آخر مرد ہی تو ہیں۔ پچھلے دنوں دعا کرواتے ہوئے شدت جذبات میں بہہ گئے اور عورتوں کو معاشرے میں بے حیائی کا سبب قرار دے دیا۔ تو پھر کیا تھا ساری عورتیں لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ گئیں۔ اور کئی ”بے حیا“ عورتوں نے ان کے نام خط لکھ دیے۔

جی تو ہم کہہ رہے تھے کہ ہم مولویوں کے نام ایک خط لکھیں جس کا عنوان ہو ”ایک باحیاعورت کا خط تمام نام نہاد مولویوں کے نام“ اور سب مولویوں کو مخاطب کر کے لکھوں کہ میں آپ کی اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ عورت کو لباس کا خیال رکھنا چاہیے اور یہ کہ عورت ڈھکی رہنے اور چھپی رہنے کی چیز ہے۔ مگر ایک سوال ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ اسلام میں عورت تو ڈھکنے کی چیز ہے تو کیا مرد اس طرح سڑک پر کھلنے کی چیز ہے؟ مردوں کے لباس پر کوئی حد نہیں لگتی؟ کیا اسلام مردوں کے لباس کا کوئی ضابطہ نہیں دیتا؟ کیا یہ کھلے عام فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کہ کوئی لیکچر، کوئی درس، کوئی نصیحت، کوئی قبر کے عذاب کا ڈراوا، کوئی جہنم کی آگ کا خوف، ان لڑکوں کے بے ہودہ فیشن پر بھی ہو جائے جو یہ کھلے عام دعوت نظارہ اپنی ماؤں بہنوں کو دیتے ہیں۔

جی تو بات ہو رہی تھی ”میرے دیس کا بسکٹ گالا“ کی اور لفظ دیس سے میری تخیل کی پرواز مجھے اپنے دیس پاکستان لے گئی، پاکستان اور اس سے جڑے رشتوں کی یاد ستا رہی تھی۔ اسی ناسٹلجیا کے زیر اثر میں نے اپنی چھوٹی بہن کو فون کر دیا، جیسے ہی میں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا، نہ جانے کس کا ادھار کھائے بیٹھی تھی، اس نے میرے ”گزرے وقت کے نشہ“ کو کچھ اس انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

”اے بہن ذرا یہاں آؤ، گرمی کھاؤ، کبھی بجلی غائب تو کبھی پانی غائب، ذرا ان حالات کا مقابلہ کرو، اس کم بخت مارے عمران خان کو ووٹ دیا تھا یہ سوچ کر کچھ حالات بہتر ہوں گے مگر مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ آج میاں سے لہسن منگوائے، 100 روپے کے آدھا پاؤ، 800 روپے کلو تو لہسن ہے۔ 1000 روپے کی تو سبزی کی ہانڈی بنتی ہے۔ غریب ہی مر جائے گا تو غربت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ حلال کی کمائی میں تو گزارا ہی نہیں ہوتا، مہینے کی بیس تاریخ کو پیسے ختم ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ میں بیٹھ کر جہاں بچوں کی فیسیں نہیں دینی، صحت کی خدمات مفت، بیروزگاروں کو بیروزگاری الاؤنس ملتا ہے، بنیادی ضروریات بھی حکومت کی ذمہ داری ہو، تو ایسے میں وہاں کے ٹھنڈے موسم میں جھیل کے کنارے بیٹھ کر حب الوطنی کی پوسٹیں بھیجنا بہت آسان ہے بھیجو ضرور بھیجو“

ہم چپ چاپ سنتے رہے۔ دل میں آیا کہ ہم بتائیں کہ یہاں کی حکومت ہمیں جتنی سہولیات دیتی ہے وہ اپنی جیب سے تھوڑی دیتی ہے، جب ٹیکس کے نام پر تنخواہ سے 40 فی صد کٹتا ہے تو دل پر کتنے خنجر چلتے ہیں ہمیں پتا ہے۔ آج بھی دل ٹیکس دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ ”دل ہے پاکستانی“۔ مگر کچھ کر نہیں سکتے، ایک نظام ہے جس کو سب نے ماننا ہے، چاہے آپ کو اچھا لگے یا برا لگے۔ مگر ہم نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا ”ہم ہنس دیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ تیرا“ ۔

شکر ہے ہم نے برطانیہ میں کچھ کونسلنگ کے کورسز کر لئے تھے جس سے ہمیں اندازہ تھا کہ ایسی ذہنی کیفیت میں جس سے میری بہن اس وقت دو چار تھی، کوئی نصیحت کوئی مشورہ نہیں دیا جاتا بلکہ ان کے جوتوں میں پیر ڈال کر درد محسوس کیا جاتا ہے۔ ہم نے بھی اسی تیکنیک کا سہارا لیا اور تمام وقت سنتے رہے اور اس کے درد لادوا کو محسوس کرتے رہے۔ اس کے بعد اس نے خداحافظ کہا، ہم نے بھی فون بند کرنے میں ہی عافیت جانی۔

اس آوارہ گرد دماغ نے ضیاءالحق سے عمران خان تک کا سفر منٹوں میں طے کر لیا۔ سوچوں کی اگلی آوارہ گردی تک آپ سے اجازت چاہتی ہوں۔

خدا حافظ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •