مغرب میں اسلامو فوبیاکا گھناؤنا کھیل!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں عرصہ دراز سے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور دین اسلام کا نام مٹانے کی ناکام کوششیں جاری ہیں، صیہونی منصوبہ ساز باقاعدہ طور پر منظم طریقے سے ان کوششوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں پر دہشتگرد کی چھاپ لگاتے ہوئے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی تعداد مغربی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اسی خطرے کو بنیاد بناتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے ساتھ کردار کشی اور آزادی ٔاظہار رائے (Freedom of Expression) کے نام سے اسلام اور قرآن کی توہین کی جا رہی ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات بولے جا رہے ہیں تو کبھی آقا کریم ﷺ کے خاکے بنائے جا رہے ہیں، ہر سال کچھ نہ کچھ گستاخانہ مواد شائع کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہچانے کا سلسلہ روکنے میں نہیں آ رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی گستاخ قدرت کی پکڑ میں آ کر عبرت کا نشان بھی بنے، مگر یہ شیطانی سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ مسلمانوں کے خلاف سارے مغرب کا متعصبانہ رویہ عروج پر ہے، تاہم فرانس ایک بار پھر اسلام دشمنی میں حدیں پار کر گیا، پہلے فرانس میں گستاخانہ خاکے اخبارات میں شائع کیے جاتے رہے اور اب ان خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر دکھایا گیا ہے، اس گھناؤنے کھیل کی پشت پناہی تو فرانسیسی صدر میکرون نے کی، لیکن یہ کام کرنے والا وہی چارلی ہیبڈو میگزین ہے جو کئی برسوں سے اسی ناپاک کام میں لگا ہوا ہے۔ اس چارلی ہیبڈو پر چند مسلمان نوجوانوں کی طرف سے کوئی چار پانچ سال پہلے ایک بڑا حملہ کیا گیا، جس میں میگزین کے عملے سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے باوجود فرانس بنیادی نکتہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ مسلمان گستاخی کے عمل کو کسی طور برداشت نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ سے کوئی بھی مسلمان قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مغرب مسلمانوں کے جذبہ ایمانی سے بخوبی آگاہ ہے، اس کے باوجود گستاخانہ خاکوں کی تشہیر بے مقصد نہیں، خاص طور پر فرانس جیسے ملک سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ انہیں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کے شدید رد عمل کے بارے میں پہلے سے کوئی اندازہ نہیں تھا، ایسا سمجھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ فرانس اور ناروے سمیت ایسے تمام ممالک جو گستاخانہ خاکوں کی ترویج کرتے ہیں اور توہین رسالت جیسے اقدامات اٹھا کر مسلمانوں میں غم و غصے کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ان کا ضرور کوئی نہ کوئی مقصد و عزائم ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔

مغرب میں اسلامو فوبیا کا گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں ایسے افراد کا پتہ چل جائے جو اسلام کے لئے مر مٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں، تاکہ ان کے خلاف جنگ شروع کی جاسکے اور باقی جو بچ جائیں، ان پر کھل کر حکومت کی جاسکے۔ مسلمانوں کو ایسے ہی تمام امکانات پر غور کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، مسلمان جب تک اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے کے لئے ایک پیج پر جمع نہیں ہوں گے، مغرب کو توہین رسالت پر سزا دینے کی بات بعید از قیاس محسوس ہوتی ہے، کیونکہ چند ممالک مل کر فرانس اور ناروے سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو ٹکر نہیں دے سکتے، مسلم دشمنی اور فساد پھیلانے والے ممالک کے خلاف مسلم امہ کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

امت مسلمہ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، پاکستان ہمیشہ ان ممالک میں شامل رہا ہے جو دنیا بھر میں کسی بھی ایسی تحریک جو اسلام یا مسلمانوں کے خلاف ہو، ان کے عقیدوں کی تضحیک کرتی ہو یا مسلمانوں پر ظلم کا باعث بنے والوں کے نہ صرف خلاف رہا، بلکہ ہر فورم پر آواز اٹھا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو احساس دلاتا رہا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایک ایسا ملک جو مسلمانوں یا اسلام کے خلاف کسی بھی عمل پر خاموش نہیں رہ سکتا، وہ اپنی نبیﷺ کے خلاف ہونے والے اقدامات پر کیسے خاموش رہ سکتا ہے؟

چنانچہ اس مذموم حرکت کے رد عمل کے طور پر وزیر اعظم عمران خان نے بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت اہل اسلام کے ایمان پر حملہ کر نا ہے اور آزادی اظہار رائے کے نام پر کروڑ وں مسلمانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے، یہ وقت خالی زبانی مذمت کا نہیں، بلکہ عملی طور پر مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان کے ساتھ فرانسی سفیر کو واپس بھیجنے کا ہے۔

امت مسلمہ کا المیہ رہا ہے کہ مسلم ممالک کی سیاسی قائدین اپنی کرسی کی خاطر آل پارٹیز کانفرنس بلا لیتے ہیں، اپنے مفادات کے حصول کے لئے پی ڈی ایم بنا کر جلسے جلوس بھی کر لیتے ہیں، لیکن ناموس رسالت کی حفاظت پر محض زبانی کلامی بیان بازی سے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوام بھی اپنے سیاسی قائدین کے رنگ میں رنگ گئے ہیں، ایک وقت ہوتا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی خبر منظر عام پر آتے ہی پورے ملک سے لوگ سڑکوں پر آ جاتے تھے اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اپنی بساط کے مطابق ناموس رسالت پر پہرہ دیتے تھے، لیکن گزر تے وقتت کے ساتھ جوں جوں گستاخیاں بڑھتی جا رہی ہیں، بدقسمتی سے ایمانی جذبہ بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے، آج کل گستاخانہ خاکوں کا رد عمل صرف سوشل میڈیا پر نظر آتاہے یاکہیں کچھ علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نظر آتی ہیں۔

عوام بڑی تعداد میں یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہمارے احتجاج سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو ہم اپنی توانائیاں کیوں صرف کریں۔ اگرسب مسلمانوں نے یہی سوچ اپنالی تو سمجھ لیں کہ اس میں ان گستاخوں کی کامیابی ہے، در اصل ان کا مقصد یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کے دلوں سے حرمت رسولﷺ پر جان دینے کا جذبہ ختم کیا جائے، لہٰذا ہمیں اپنی طاقت اور بساط کے مطابق حرمت رسول کے لئے احتجاج کر کے حکومت کو عملی اقدام اٹھانے پر مجبور کرنا چاہیے، تاکہ عالمی سطح پر معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ ایمانی برقرار ہے اور وہ آج بھی حرمت رسولﷺ پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •