مقبول تحریر کیا ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبول یا ہر دلعزیز لکھنے والا ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لکھنے والا ذہین اور وسیع المطالعہ بھی ہو۔ یہ بات ہم میں سے بہت سوں نے کہیں پڑھی ہوگی یا کسی سے سنی ہوگی مگر اس کے ساتھ یہ توجہ نہیں کی ہوگی کہ ضروری نہیں کہ پڑھنے والے بے تحاشا لوگ خود بھی ذہین اور وسیع المطالعہ ہوں۔ آخر لوگ وقت گزاری یا محض دلچسپی کی خاطر بھی تو پڑھتے ہیں۔ مصروف لوگ جو پڑھنا بھی جانتے ہوں انہیں کیا پڑی کہ دقیق کتب یا کلاسیکی ادب کی ادق بھول بھلیوں میں خود کو بے بس کر کے رکھ دیں۔

جب جوان تھے، ان دنوں 007 والے آئن فلیمنگ بہت مقبول تھے اور ان کے ہر ناول پر فلم بنی جن میں سے سب نہیں تو کوئی نہ کوئی آپ میں سے اس دور کے بیشتر افراد نے ضرور دیکھی ہوگی۔ یقین کیجیے لیو تالستوئی کے ناول جنگ اور امن یا دستاییفسکی کے ناول ذلتوں کے مارے لوگ پر بنی فلم بہت ہی کم لوگوں نے دیکھی ہوگی۔ آئن فلیمنگ کے بعد ان دنوں دوسرے مقبول مصنف جیمز ہیڈلے چیز ہوا کرتے تھے جن کے کچھ ناولوں پر بھی فلمیں بنیں۔

گزشتہ چند برسوں سے ڈین براؤن اپنے ناول ”دا وینچی کوڈ“ سے بہت معروف ہوئے جس میں انہوں نے پیغمبر عیسٰی کے مبینہ بیاہ کو منکشف کیا تھا۔ اس ناول پر فلم بھی بنی تھی۔ کہتے ہیں کہ یہ ناول بائیبل کے بعد سب سے زیادہ پڑھی گئی کتاب قرار پائی تھی۔ اس کے بعد وہ کئی مقبول عام ناول لکھ چکے ہیں۔

تو جناب ان دنوں ہم ادق کتابیں پڑھنے والے کچھ دوست کبھی کبھار آئن فلیمنگ اور اس سے کچھ کم جیمز ہیڈلے چیز کے ناول بھی پڑھ لیا کرتے تھے، جو اس زمانے کی مقبول تحریریں تھیں۔ ان کے برعکس دا وینچی کوڈ کا شہرہ سن کے مجھے لگا تھا کہ ڈین براؤن صاحب کلاسیکی ادب لکھتے ہوں گے ۔ میں نے ان کا 462 بڑے صفحات کا ناول ”انفرنو“ تین روز میں پڑھ کر تمام کیا۔ ناولوں کی بنیاد پر فلموں کے سکرین پلے لکھے جاتے ہیں مگر سکرین پلے کے سٹائل میں لکھا ناول میں نے پہلی بار پڑھا جس میں کچھ مناظر پر آپ کسمساتے ہیں، متجسس ہوتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے، کہیں ایسا نہ ہو جائے کا دھڑکا بھی لگتا ہے۔ ناول آپ کو اچھا بھی لگتا ہے اور پھینک دینے کو بھی دل کرتا ہے کہ اگر سارے کردار ذہین اور طباع نہ ہوتے تو پھر۔ مگر جناب مقبول تحریر تو ایسی ہی ہوتی ہے جیسے اپنے مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ہوتی ہیں۔

ڈین براؤن نے تو کم از کم تحقیق بھی کر لی چاہے عمارات اور ان کے خفیہ تہہ خانوں اور زیر زمین راستوں سے متعلق ہی سہی اور کرتے کیوں نہ۔ آج مغرب میں مقبول عام ناول اور کتابیں لکھنا ایک بڑا کاروبار ہے انہیں لکھوانے کی خاطر انویسٹمنٹ کی جاتی ہے۔ جیسے اس ہی ناول کے لیے ڈین صاحب کو میرے پسندیدہ شہر فلورنس کی مفصل سیر کروانے اور معلومات دینے والے فراہم کرنے پر کی گئی۔ مجھے فلورنس سے متعلق تفصیلات اچھی لگیں۔

میں اس شہر میں دو روز کے لیے ایک بار ہی گیا ہوں اور اس شہر نے میرے دل میں گھر کر لیا ہے۔ دوسرا شہر وینس ہے جس کے بارے میں بھی کچھ معلومات ہیں۔ میں اس شہر میں دو بار گیا ہوں اور کئی بار جانے کی خواہش ہے بلکہ ایک بار تو جا کے کئی روز قیام کرنے کا خواہاں ہوں جو پنشن یافتہ ہو جانے کے بعد لگتا ہے ممکن نہیں ہوگا۔ تیسرا شہر استنبول ہے، جس کے تفصیلی تذکرے سے اسے دیکھنے کی خواہش دل میں ابھری ہے۔

اس ناول میں ایک ہی چیز ایسی تھی جو عقل والی تھی اور وہ تھی عین آخری صفحے پر پس نوشت میں کہ آج کل ہر جانب انکار یعنی ”ڈینائیل“ کا دور دورہ ہے۔ آپ حقیقت جان کر بھی حقیقت سے انکاری ہونے کی جانب راغب ہیں۔ داعش امریکہ نے بنائی ہے پر یقین مگر داعش کی وحشت ناکی سے انکار۔ یہ ناول دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق ہے کہ قبل از مسیح دور میں دنیا کی لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی کہیں جا کر 1800 میں ایک ارب ہوئی تھی جو 120 برس بعد 1920 میں دو ارب اور پچاس برس بعد 1970 میں چار ارب ہوئی تھی۔ اب سات ارب سے زیادہ ہے اور اندازہ ہے کہ 2050 میں نو ارب سے تجاوز کر جائے گی۔

کتاب کی بنیاد دانتے علیگائری کی کتاب ”دی ڈیوائن کامیڈی“ کا ایک بند ہے جس کا آسان ترجمہ یہ ہوگا کہ ”گنہگار ترین ہوتے ہیں وہ لوگ جو جب (کسی برے یا مضر عمل کے خلاف ) کچھ کرنا ضروری ہو تب تن آسانی اور پہلو تہی کے خوگر رہیں۔

مقبول عام تحریریں بنیادی طور پر عوامی تحریریں ہوتی ہیں جن میں لوگوں کے جلتے ہوئے مسائل کو اس طرح بیان کیا جائے جس سے جذبات ابھریں اور ایسے مسائل کے حل کے لیے کچھ کر گزرنے کی انگیخت ہو۔ ایسا کچھ کرنا بالعموم منفی عمل ہوتا ہے جیسے جلادو، لٹکا دو قسم کا مگر شکر ہے مقبول تحریریں پڑھنے والے عموماً تن آسان لوگ ہوتے ہیں پھر ڈیجیٹل دور تو انہیں ویسے ہی صوفے پر بیٹھے یا بستر پر لیٹے فیس بک اور ٹویٹر پر اپنی بھڑاس نکالنے تک محدود کر چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •