صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب کیوں ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین نومبر امریکہ میں الیکشن کا دن ہے اور بائیڈن نمبر گیم میں آگے ہیں لیکن امریکی صدارتی انتخاب میں نمبر گیم پلٹتے دیر نہیں لگتی۔ نمبر گیم کے علاوہ تمام اشارے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی طرف جا رہے ہیں اور اگر ٹرمپ دوبارہ صدر نہ بن سکے تو مجھے حیرت ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ امریکیوں نے کووڈ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا اشارے ہیں جو ٹرمپ کو دوبارہ مسلط کریں گے۔

مجھے 2011 میں ایک ایکسچینج پروگرام پر امریکہ جانے کا اتفاق ہوا اور اس پروگرام نے ( International Visitors Leadership Program) پورا امریکہ گھومنے کا شاندار موقع دیا۔ لیری موڈی نے جو کہ ہمارے پروگرام انچارج تھے پہلے ہی دن بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ، ”امریکیوں سے مذاق نہ کرنا کیونکہ یہ ہر بات کو فیس ویلیو کرلیتے ہیں اور آپ کا مذاق سمجھ ہی نہیں پائیں گے“ ۔ دوسری طرف ہم تین بندے ( اب میں لڑکے نہیں لکھتا ) اور دو لڑکیاں ( عورتیں ہمیشہ لڑکیاں ہی رہتی ہیں ) تھے جو ملتے ہی ہلکا پھلکا مذاق شروع کر چکے تھے۔ یاد رہے کہ ہم پہلی بار امریکہ میں ہی ملے تھے۔

بہت سے ملاقاتوں میں ایک بہت ہی اچھی ملاقات رابرٹ جینسن سے تھی جو کہ یونیورسٹی آف آسٹن میں پروفیسر ہیں۔ رابرٹ جینسن نے سفید فام لوگوں کے رویے، مزاج اور برتری کے احساس پر بہت بات کی۔ ان کا خیال تھا کہ سفید فام امریکی ( وہ خود بھی سفید فام امریکی ہیں ) نسل پرست، قدامت پسند اور سہل طلب ہیں اور خود کو اعلیٰ زندگی گزارنے کا سب سے پہلا حق دار سمجھتے ہیں چاہے اس خوشحالی کی عمارت وہ چاہے دوسروں کے زخموں پر کھڑے ہو کر تعمیر کریں۔

رابرٹ جینسن نے اپنی ایک کتاب مجھے پیش کی جس کا نام ہے، ”The Heart Of Whiteness“ ۔ اس کتاب میں رابرٹ جینسن نے سفید فام لوگوں کے اس خوف کا ذکر کیا جس کے زیر اثر وہ غیر سفید فام لوگوں کے خلاف نفرت رکھتے ہیں اور اس نفرت کا اظہار نہ صرف ان کی روزمرہ کے طرز اظہار میں جھلکتا ہے بلکہ اب تو اس کا کھلم کھلا اظہار غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے سے لے کر بلیک لائیوز میٹر ( Black Lives Matter) تک پھیلا ہوا ہے۔

رابرٹ جینسن کہتے ہیں کہ سفید فام امریکی اس امر سے کماحقہ واقف ہیں کہ آج وہ ترقی اور تعمیر کی جس سطح پر کھڑے ہیں اس میں بہت سے غیر سفید فام لوگوں کا حصہ ہے جو کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے انہیں دیا نہیں گیا اور انہیں یہ خدشہ ہمیشہ گھیرے رکھتا ہے کہ کبھی بھی کوئی مجبوروں اور محکوموں کی سوئی ہوئی دم ہلا سکتا ہے۔

دوسرا خوف امریکی معاشرے میں یہ ہے کہ غیر سفید فام اگر یونہی بڑھتے رہے تو ایک دن سفید فام گھٹ کر اقلیت بن جائیں گے اور ظاہر ہے غیر سفید فام انہیں مغلوب کر لیں گے۔

تیسرا خوف سفید فام نسل پرستوں میں یہ ہے کہ آہستہ آہستہ غیر سفید فام ان کی پرائیویسی پر ضرب لگائیں گے اور ان کے اندر موجود تضادات پر کھیلیں گے۔

چوتھا خوف سفید فام امریکیوں میں یہ ہے کہ اگر تبدیلی کی کوئی حقیقی لہر اٹھی تو انہیں اپنی مراعات چھوڑنا پڑیں گی۔ اسی لئے امریکہ میں تبدیلی کا مطلب سفید فام لوگوں کی سہل طلبی میں اضافہ ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس خوف سے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ چھٹکارا دلاتے ہیں یعنی ٹرمپ کے مداح نسل پرست، قدامت پسند، سہل طلب، شاونسٹ اور دوسروں کی محنت پر اپنے محل تعمیر کرے والے لوگ ہیں۔ ٹرمپ انہیں ایک اخلاقی اور سماجی سیکیورٹی مہیا کرتے ہیں۔ پھر امریکی عوام اپنے ٹیکسوں سے بے سود اور مہنگی جنگیں لڑنا نہیں چاہتے۔ ٹرمپ افغانستان سے فوج نکالنا چاہتے ہیں۔ سفید فام ماحولیات کے لے لئے اپنے کاروبار اور مفادات داؤ پر لگانا نہیں چاہتے جیسا کہ کاملہ حارث ماحولیات کے لئے بولتی ہیں۔ سفید فام امریکی خواتین کے کہے پر ناحق پکڑے جانا زیادتی سمجھتے ہیں لہذا وہ ٹرمپ کی مخالف عورتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

نسل پرستی کے خلاف بولنا اور سننا ایک بات ہے جب کہ اس کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانا دوسری۔ عملی قدم اٹھانے میں اگر سفید فام کی سہل طلبی اور مراعات میں کمی آتی ہے تو اس سے نسل پرستی ہی اچھی۔ ویسے بھی ساری دنیا میں ہائپر نیشنل ازم اور نسل پرستی کا دور دورہ ہے کیونکہ کوئی گرینڈ بیانیہ باقی نہیں رہا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے بد ترین بحران سے دوبار ہے اور دنیا کو ایک نئے ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہے جس میں آرڈر کی بجائے تعاون ہونا چاہیے لیکن اس وقت دنیا نسل پرستی، قوم پرستی اور عقیدہ پرستی میں راہ فرار ڈھونڈ رہی ہے اور یہی لالچ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے میں ممد و معاون ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •