وسطی عمر کا ہیجان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوبی انگلستان میں موسم گرما قلیل مدت کا مہمان ہوتا ہے اس لئے انتہائی چاؤ سے اس کا خیرمقدم کیا جاتا اور میلے کی طرح منایا جاتا ہے۔ چمکدار دھوپ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بار بی کیوز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور یار دوست تفریح مناتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پر تکلف پارٹی ڈاکٹر بلال کے ہاں سجی تھی، ہم دم سادھے ان کی زبانی ان کے نئے شوق ان کے بیش قیمت تنور کی کہانی سن رہے تھے۔ مبلغ پانچ سو پاؤنڈ کا یہ محض تنور ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ہندوستان سے یہاں منگوایا گیا تھا۔

ڈاکٹر بلال کے سامنے علاقے کے بڑے بڑے لوگ بھی منہ کھولنے سے گھبراتے تھے، کیونکہ وہ دانتوں کے جانے مانے سرجن تھے، تو پھر ہماری کیا مجال جو چوں کرتے، بس دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ بھلا اس فضول خرچی کی کیا ضرورت تھی۔ گفتگو کا رخ تنور سے ہٹا تو ہمارے ماہر معدہ و جگر ڈاکٹر اویس کی طرف ہو گیا جنہوں نے حال ہی میں تین ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم خرچ کر کے ترکی سے سر کے مصنوعی بال لگوائے تھے اور اپنے تئیں اپنی عمر کی گاڑی کو ریورس گیئر لگا کر پھر تیس سال کے جوان نظر آنے لگے تھے۔

اپنی بذلہ سنجی اور چٹکلوں کے لئے مشہور دوست میجر وقاص صاحب ایک کونے میں چکن کی بوٹیوں کو معدے میں منتقل کرنے میں مشغول تھے انہوں نے کچھ سال ہوئے اپنے شوق تحریر کی تسکین کی خاطر فقط 33 برس کی نوخیز عمر میں پاک فوج کی پر تعیش نوکری کو خیرباد کہا اور ولایت آ سدھارے تھے، حالانکہ فوج میں ان کے اگر جنرل نہ سہی تو بریگیڈئیر بننے کے روشن امکانات تھے۔ مگر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے بعد اب تک دو کتابیں تصنیف کر چکے تھے۔

اور میرا تعارف یہ کہ میں عمر کا آدھا حصہ میڈیکل کے شعبہ کو دان کرنے کے بعد اب کچھ نیا کرنے کی دھن میں تھا اور ان دنوں چند ٹوٹے پھوٹے مضامین لکھ رہا تھا۔ ہم سب میں ایک قدر مشترک تھی کہ سب کے سب 35 سے 45 سال کی عمر کے پیٹے میں تھے۔ اپنے اپنے خمیدہ میلانات کے تذکرے چلے تو فطری طور پہ بات مڈ لائف کرائسس ’(Midlife Crisis) کی طرف جا نکلی جس کا ترجمہ آپ‘ وسط عمری کا ہیجان ’کے طور پر بھی کر سکتے ہیں یا پھر بقول میجر (ر) وقاص صاحب کے اسے ہندی کے لفظ پربھات کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔

ہم جیسے چالیس کے پیٹے کی ٓاس پاس کی عمر کے اکثر مرد، جوانی اور بڑھاپے کے اس سنگم پہ ادھیڑ بن کا شکار پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ خود زندگی کی خوشیوں سے مالا مال ہوں یا پھر جہد مسلسل کا شکار، بعض اوقات ایک کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں اور طبیعت میں ابال محسوس کرتے ہیں۔ یہ بے چینی آخر کیوں آن گھیرتی ہے اور اس کیفیت کی بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ کوفت کسی نئی صبح کی نوید ہوتی ہے یا بقول شخصے وسطی عمر کا ابال ہے جو گزرتے وقت کے احساس زیاں سے جنم لیتا ہے۔ لیکن کیا کسی ایسے کرائسس کا وجود بھی ہے؟ آئیے اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

کارپوریٹ کلچر جیسی معروف اصطلاح کے بانی ایلیٹ جیکس نے 1965 میں سب سے پہلے مڈ لائف کرائسس کی اختراع استعمال کی۔ وہ ایک کینیڈین ماہر نفسیات تھا، اس نے بتایا کہ یہ ہیجان 40 سے 65 سال کی عمر کے مردوزن میں ان کی بڑھتی عمر، موت کے احساس اور ناکام تمناؤں کی حسرتوں کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل کے نتیجے میں عموماً حضرات دباؤ اور یاسیت کا شکار ہونے لگتے ہیں، اپنے سے زیادہ کامیاب دوستوں سے گھبرانے لگتے ہیں، تنہا رہنا پسند کرتے ہیں، جوانی کو واپس کھینچ لانے کی کوششوں میں جت جاتے ہیں یا اپنے آپ کو جنسی طور پہ طاقتور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور الجھاؤ اور غصے کا شکار رہنے لگتے ہیں۔

جدید دور میں ہونے والی ایک تحقیق اس نظریہ کی نفی بھی کرتی ہے جس کے مطابق اکثر افراد اس کا شکار ہوئے بغیر بھی اس عمر سے گزر جاتے ہیں۔ میری رائے میں ہم مردوں کی کثیر تعداد اس عمر میں کسی نہ کسی درجے میں اس کشمکش کا شکار ہوتی ہے، چاہے یہ ہیجانی کیفیت کی حد تک پہنچے یا صرف ایک ابال ہو، لیکن بہت سے مردوں کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور ضرور کرتی ہے۔ اس کی وجوہات معاشی بھی ہو سکتی ہیں اور جذباتی دھچکے بھی جو شریک حیات کی بے وفائی یا والدین اور پیاروں کے انتقال کی صورت میں ملیں یا جوان اولاد کے ہاتھوں بے توقیری یا ساری دنیا کو خوش کرنے کی ناممکن خواہش بھی اس کا موجب ہو سکتی ہے۔

اگرچہ اس موضوع پر تحقیق فی الحال ناکافی ہے لیکن کچھ نفسیات دان اسے انسانی زندگی کا ایک طبعی جزو گردانتے ہیں جو کہ زندگی کے ایک سے دوسرے مرحلے میں بتدریج تبدیلی کا نام ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ وقت انسان کی خود احتسابی کا ہوتا ہے جب ابھی تقریباً نصف عمر باقی ہے، اور آپ پیچھے مڑ کر دیکھ کر زندگی کو سود و زیاں کے میزان میں تولتے ہیں اور مستقبل کا تانہ بانہ بنتے ہیں۔ نفسیات دان ایرک ایرکسن کے مطابق انسانی شخصیت سازی پوری زندگی میں نفسیات کے آٹھ مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلہ ایک خاص بنیادی صفت پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔

ان میں سے ساتواں 40۔ 65 سال کی عمر کا مرحلہ غور و فکر کی خصلت پیدا کرتا ہے، اس کے نتیجے میں متحرک اور پرجوش افراد اپنے راستے کا از سر نو تعین کرتے ہیں اور ترقی اور خوشی کی راہیں ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں جبکہ جمود کا شکار لوگ اپنے آپ کو ناکارہ سمجھ لیتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں اور موت کا انتظار کرنے لگتے ہیں جب کہ کچھ لوگ باقی ساری عمر مخمصے اور اضطراب میں ہی گزار دیتے ہیں۔

کچھ لوگوں میں یہ ہیجان ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا علاج شعبہ نفسیات کے معالجین کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو افراد دل کو خوشی نہ دینے والا کیریئر تبدیل کرنے کا فیصلہ جلد کر لیتے ہیں وہ اس کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ اس مقام پہ رکے بغیر گزر جاتے ہیں شاید انہیں یہ احساسات اخیر عمر میں آن گھیرتے ہوں لیکن اس پر ابھی مزید تحقیق ہونا باقی ہے۔

چند مفید تجاویز جو اس کشمکش کو روگ بننے سے روک سکتی ہیں ان میں، باقاعدگی سے ورزش، متوازن غذا، اپنے پیاروں کی قربت اور صحبت، اہل خانہ کا تعاون، کوئی نیا مشغلہ، کسی نئی جگہ کا سفر یا کسی نئی شعبے کا علم معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ناقابل تنسیخ تبدیلیوں سے اجتناب ضروری ہے، جیسے کہ خوبصورتی کے لئے پلاسٹک سرجری کروانا وغیرہ۔ اگر آپ خود یا آپ کا کوئی پیارا اس روگ سے گزر رہا ہے تو ان کا ساتھ دیجیے، ایسے میں سائیکو تھراپسٹ کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

افلاطون کے نزدیک زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد خوشی کا حصول ہے۔ میری رائے میں دنیا کی کسی بڑی سے بڑی شے کا حصول جو آپ کو حقیقی خوشی نہ دے، بے معنی ہے۔ وسط عمر میں جب ایک ذرا سانس لینے کو آپ رکتے ہیں تو اپنے تمام کھاتوں میں خوشیوں کا حساب ضرور لگائیں کہ کہیں دوسروں کو خوشیاں دیتے دیتے آپ کی اپنی خوشی تو کہیں دور نہیں کھو گئی؟ یہ بات تو طے ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں سب لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے، آپ کا کوئی بھی عمل بیک وقت کسی کی خوشی اور کسی کے غم، حسد یا نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔

اس لئے جب کوئی فیصلے کی گھڑی آئے تو اپنی خوشی کو مقدم رکھیے کیونکہ ایک خوشحال دل و دماغ ہی اوروں کی خوشیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ بدلتے جسمانی خد و خال ایک معمول کی بات ہے لیکن ایسے میں جوان اور خوبصورت نظر آتے رہنے کی خواہش بھی عام سی بات۔ دنیا میں سب کچھ پا لینے کی خواہش بھی ٹھیک لیکن کچھ پا نے کے لئے کچھ کھو دینا اس دنیا کی ریت۔ اگر آپ بھی اس عمر سے گزر رہے ہیں اور کشمکش کا شکار ہیں تو اس کو لمبی زندگی کا ایک وقتی پڑاؤ اور سنگ میل جانیں، رک کر سانس درست کیجیے اور خود احتسابی کیجیے، اس کو ایک سنہری موقعہ جانیے اور بھرپور فائدہ اٹھائیے۔ گڈ لک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •