تیرہ سالہ مسیحی لڑکی آرزو کو اغوا کرنے والا اکیلا مجرم نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا روح پرور سماں ہے۔ تیرہ سالہ آرزو صرف ایک خوبصورت لڑکی ہی نہیں بلکہ سہولت کا ایک مکمل پیکج ہے۔ لڑکی انتہائی غریب خاندان کی ہے۔ مسلمان نہیں ہے۔ اسے حقیقت میں لونڈی یا باندی بنانا ہم مسلمان مردوں کا پورا حق ہے۔ قانون ایک اسلامی ملک میں مسلمان مردوں کے اس حق کو جائز سمجھتا ہے اور اس حق کا تحفظ بھی خوب کرتا ہے۔ سارے عوام کی رائے یہی ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کو سچے دین پر لے آنا اس غیر مسلم پر بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اسے دوزخ کی آگ سے چھٹکارا دلانا کوئی معمولی بات نہیں۔

کسی بھی شخص کو مسلمان کرنے میں جو بھی مدد کرے گا اسے ثواب ملے گا۔ نیکی کے اس کام میں روڑے اٹکانا گناہ کا موجب بن سکتا ہے۔ کوئی اسلام دشمن ہی ایسا کرے گا کہ ایک غیر مسلم لڑکی کو مسلمان کر کے اس سے شادی کرنے جیسی نیکی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے۔ اور پھر عورت۔ عورت تو بنی ہی مردوں کی جنسی تسکین کے لیے ہے، اس میں عمر یا اس کی مرضی کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ تو خواہش مند مرد پر ہی منحصر ہے کہ وہ کب اور کیا چاہتا ہے۔ عورت کی عقل ناقص ہے اس میں فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ اس لیے تو مسلمان پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں بھی ان کی مرضی سے نہیں ہوتی ہیں اور جب شادی ہو جاتی ہے تو پھر انکار گناہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ اسے ساری رات فرشتوں کی لعن طعن سے بچانا ہمارا فرض بن جاتا ہے۔

اس پیکج میں یہ بھی شامل ہے کہ عورت پر شادی سے بڑھ کر کوئی احسان نہیں کیا جا سکتا۔ صرف یہی نہیں یہ تو اس کے غریب والدین پر بھی احسان ہے۔ یہ صرف عام تاثر ہی نہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرپرسن نے بھی واضح الفاظ میں بتایا تھا کہ نکاح کے لیے تو عمر کی کوئی قید نہیں، دو سال کی لڑکی کا نکاح بھی ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ جنسی ملاپ کو حیض شروع ہونے تک روک لیا جائے تو مناسب ہے۔

یہ جو پورا پیکج ہے اسے تیار کرنے کے لیے ہم نے بہت محنت کی ہے اور بہت قربانی دی ہے۔ ہم عقل اور منطق سے عاری ایک بے حس ہجوم بن گئے ہیں۔ ہماری ہر چیز کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں۔ ہم انسانی ترقی کے ہر زاویے سے سب سے نچلے درجے پر آتے ہیں اور اسی پر فخر کرتے ہیں۔ ہمیں ڈالروں، ریالوں یا تیل کی تھوڑی سی مقدار سے خریدا جا سکتا ہے۔ ہم بہت اہتمام سے اس سٹیج پر پہنچے ہیں کہ اب چھوٹی عمر کی غریب غیر مسلم لڑکیوں کو اغوا کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ثواب اور نیکی کا کام بن گیا ہے۔ پولیس، قاضی اور ملا سب بڑھ چڑھ کر اغوا کرنے والے کی حفاظت کرتے ہیں۔ لڑکی یا اس کے والدین کا دکھ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ اسے سمجھنے کی استطاعت ہم کھو چکے ہیں۔ ایسا ظلم کرنے والے ایک کیس بھی نہیں ہارے۔ تھانے اور کچہری سے غریب غیر مسلم والدین ہی دھاڑیں مارتے ہوئے ناکام واپس جاتے ہیں۔

ان سب چیزوں کے اوپر یہ ایک منافع بخش کاروبار بھی ہے۔ ایک ایسا کاروبار ہے جس میں کچھ لوگ بغیر کسی رسک یا انویسٹمنٹ کے بہت مال بناتے ہیں۔

اس ساری صورت حال میں آرزو کی ماں کی چیخ کون سنے یا سمجھے گا۔ ذرا سوچو کیا اغوا کار اکیلا مجرم ہے؟ ایک غریب مسیحی ماں کی فریاد کہ مجھے میری تیرہ سالہ بیٹی آرزو سے ملا دو، نے کسی پر بھی اثر نہ کیا۔ پولیس، جج، علمائے دین، پڑوسی سبھی خاموش ہیں۔ اور جو جو بھی خاموش ہے وہ اس جرم میں شریک ہے۔ اغوا کرنے والا اکیلا مجرم نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 249 posts and counting.See all posts by salim-malik