سوچ اور فکر کی تبدیلی کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجموعی طور پر معاشرے کا مزاج مسائل کو حل کرنے کی بجائے اسے پہلے سے زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ہم اپنے اردگرد کے اچھے پہلووں کو نظرانداز کر کے منفی انداز میں سوچنے کے عادی بن گئے ہیں۔ یعنی ہمارا چیزوں یا ماحول کو دیکھنے کا زاویہ مثبت کم اور منفی زیادہ ہو گیا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ سمیت ہر پہلو میں ناکام ہو گئے ہیں یا بطور ریاست ہم ایک ناکام ریاست کا رخ اختیار کر گئے ہیں۔ آپ کسی بھی نجی یا سیاسی و سماجی، علمی و فکری محفل میں چلے جائیں تو یہ ہی بیانیہ غالب نظر آتا ہے کہ ہم سب کچھ تباہ کر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تباہی کا رونا رونے والوں میں زیادہ تر اکثریت معاشرے کے پڑھے لکھے افراد میں پائی جاتی ہے جو خود ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

بنیادی طور پر کوئی بھی معاشرہ مسائل سے آزاد یا پاک نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ میں مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہوتے ہیں۔ ان مسائل کی نوعیت میں کچھ شدت یا کچھ کمی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر معاشرے کو مختلف مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اچھی اور ذمہ دار قوم کی فکری ذمہ داری ان مسائل سے بہتر طور پر آگاہی، مسائل پر تجزئیاتی پہلو کو سمجھنے کی گرفت، بہتر نمٹنے کی صلاحیت اور ان مسائل سے نمٹنے کی موثر حکمت عملی یا عملدرآمد کا نظام ہوتا ہے۔

کیونکہ معاشرے کا علم مسائل سے حل یا تاریکی سے روشنی کی طرف جاتا ہے۔ ہمیں مسائل سے گھبرانے یا اس پر مایوسی کی کیفیت کو پیدا کرنے کی بجائے خود بھی اور دوسروں کو بھی ان مسائل سے نمٹنے کی طرف لے کر جانا ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی اور اولین ترجیح انفرادی یا اجتماعی سطح پر اپنے آپ کو ”مسائل کے حل“ کی کنجی کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ ہم خود کو مسائل پیدا کرنے یا اسے بگاڑنے کے کھیل کا حصہ بن جائیں۔

میڈیا کا مجموعی مزاج بھی مایوسی کے کھیل کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ عمومی طور پر میڈیا کے بارے میں یہ سوچ موجود ہے کہ اس نے بحرانوں کی بنیاد پر اپنے کام کو طاقت فراہم کرنا ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ٹاک شوز دو طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ اول میڈیا بہت زیادہ خود کو سیاسی بنا بیٹھا ہے۔ سیاسی پروگراموں کی بھرمار یا دیگر پروگراموں میں بھی سیاسی انداز یا ریٹنگ کی سیاست میں منفی کھیل عروج پر ہوتا ہے اور مثبت یا تعمیری عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ میڈیا میں آنے والے سیاسی افراد بھی دو طرح کے مسائل میں الجھے ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ حکمران اور دوسرا حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے یا ان کے حامیوں کا ہوتا ہے۔ حکومتی طبقہ سچ یا جھوٹ کو بنیاد بنا کر ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ سب اچھا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کا طبقہ سب کچھ ناکامی کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔

یہ جو معاشرے میں چاروں اطراف ماتم یا مایوسی یا خود کو پیٹنے یا برا بھلا کہنے کی جو عادت ہے کیا یہ ہمارے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ مایوسی یا ناکامی کا طرز عمل ہمیں آگے لے کر جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہی سوچ اور فکر ان نوجوانوں کو بھی منتقل کی جا رہی ہے جو واقعی معاشرے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ یہ معاشرہ ناکامیوں سے دو چار ہے اور یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔

تعلیمی اداروں میں استاد خاص طور پر نوجوانوں میں امید کے دیے جلانے کی بجائے ان میں مایوسی کو پیدا کرتا ہے اور ان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ اسی طرح ایک بحران یہ بھی ہے کہ ہم مسائل کا فوری حل چاہتے ہیں یعنی صدیوں سے بگڑے نظام کو ہم چٹکی بجا کر حل کرنا چاہتے ہیں، جو یقینی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ بظاہر ہمیں یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی یا لمبی سوچ یا فکر کی بجائے شارٹ کٹ چاہیے۔

اسی معاشرے میں ایسے لاتعداد ہیروز ہیں جو بظاہر تو بہت بڑے نہیں اور نہ ہی ان کو بہت سے لوگ جانتے ہیں۔ لیکن ان ہی معاشرے میں موجود حقیقی ہیروز نے اپنی اپنی سطح پر نہ صرف اپنا نام کمایا ہے بلکہ معاشرے کی خدمت بھی کی ہے یا کر رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم معاشرے میں موجود ان حقیقی ہیروز کو ایک بڑے ماڈل کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں نے بڑی مشکلات، سخت و کٹھن مراحل اور تکالیف کے بعد نمایاں مقام حاصل کیا ہوتا ہے۔

لیکن یہ لوگ ہمارے میڈیا سے اوجھل ہوتے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہمارے ہاں لکھنے اور بولنے والے افراد یا دانشور طبقہ کو یقینی طور پر مقامی سطح پر موجود ہیروز سے ضرور ملنا چاہیے تاکہ ان میں موجود مایوسی بھی کم ہو اور ان میں یہ یقین پیدا ہو کہ ہم بطور معاشرہ انفرادی یا اجتماعی سطح پر بہت اچھا بھی کر رہے ہیں۔

کوئی بھی معاشرہ مکمل تاریکی نہیں ہوتا۔ اس میں جہاں کچھ خرابیاں ہیں وہیں بہت کچھ اچھا بھی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ ہم کامیابی کو جانچنے یا سمجھنے کی حساسیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بطور معاشرہ اپنے ارد گرد کی کامیابیوں کو سمیٹنے یا اس پر خوشی کا اظہار کرنے میں کافی کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ مجموعی طور پر معاشرے میں مایوسی کو پیدا کرتا ہے اور اس کا عملی نتیجہ لوگوں میں غیر یقینی صورتحال سمیت مایوسی، ذہنی دباو یا کیفیت، لاتعلقی، غصہ، نفرت یا منفی سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ خاص طور پر معاشرے میں استاد، دانشور، صحافی، شاعر، ادیب، مصور، فن کار، عالم دین، مبلغ، کھلاڑی سمیت ہر شعبہ سے جڑے افراد کو معاشرے میں مایوسی کی بجائے امید کا دیا جلانا چاہیے۔ تنقید ضرور ہو اور کی جانی چاہیے۔ لیکن اس کی بنیاد اصلاح، اصلاحات اور تعمیر سے ہونی چاہیے۔

اس وقت معاشرہ جن حالات و واقعات سے گزر رہا ہے اس میں ہمیں خود کو کھڑا بھی کرنا ہے اور حالات سے مقابلہ کر کے دوسروں کو بھی کھڑا کرنا ہے۔ ریاست ہو یا حکومت ان کے معاملات پر نظر بھی رکھنی ہے اور دباو بھی بڑھانا ہے۔ ہمیں بطور قوم اپنے ملک کے لیے ہر محاذ پر خود کو ایک اہم سفیر کے طور پر پیش کرنا ہے۔ معاشرے پر تنقید کے ساتھ ساتھ اس کے اچھے اور مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا ہماری ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ نئی نسل ہماری امید اور روشنی ہے او ر اس کے پاس سوشل میڈیا کی ایک بڑی طاقت ہے اسے اپنی طاقت بنا کر مثبت تعمیر نو کے عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وہ لوگ جو مسلسل مایوسی کے کھیل کو بڑھا رہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک مثبت و متبادل بیانیہ کو مضبوط کرنا ہے کہ ہم بہت سوں سے بہتر بھی ہیں اور مزید بہتر بن سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو منفی کھیل کا دربار سجا ہوا ہے اسے ہماری نئی نسل ہی نمٹ سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے رائے عامہ بنانے یا تشکیل دینے والے افراد یا ادارے بشمول ریاستی و حکومتی ادارے ایک مثبت پاکستان کی تشکیل کی مدد سے ایک محفوظ پاکستان کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •