خدائی سلسلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی زندگی کے دریچوں میں کچھ احساس، روح کو چھو جانے کو بہت ہوتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں، رب نے انسان میں اپنی روح پھونکی ہے اور یہ روح رب سے ملنے کی پوری طاقت رکھتی ہے۔ یہ رب سے ملاقات کرتی ہے۔ اس پر وجدانی کیفیت آتی ہے، یہ اپنے ارد گرد ہونے والا وہ سب دیکھتی ہے، جس کو عام انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ میں نے عشق مجازی اور عشق حقیقی پر بہت تحقیق کی، مجھے یہ انسان کی روح سے رب تک جانے کا بس ایک سلسلہ نظر آیا۔

کوئی کہتا ہے کہ آپ نے اگر کسی بندے سے عشق کیا اور وہ لاحاصل ہو گیا، تو آپ نے ایک جسم کی تلاش میں اپنا آپ فنا کر دیا، جبکہ مجھے ایسا نہیں لگتا۔ آپ کو اگر صحیح معنوں میں کسی سے عشق ہوا، اور وہ لاحاصل ہوا تو آپ نے اپنی روح کو سچ کا متلاشی کر دیا۔ آپ نے رب کی روح کی تلاش کی اور اپنی روح کو اصل کی تلاش میں پیاسا کر دیا، پھر یہ سلسلے چلتے گئے اور چلتے چلتے آپ اصل کی صراط مستقیم پر نکل گئے اور آپ نے وہ پا لیا، جو آپ کی اصل ہے۔

کسی دربار پر دھمال ڈالتے کسی ملنگ کی اسیری سے زیادہ طاقتور اور کیا؟ یہ اس وقت کی بات ہے، جب میں زندگی کی راہوں میں بھٹک رہا تھا۔ پوسٹ گریجویشن کی ٹریننگ مکمل کرچکا تھا، ایف سی پی ایس پارٹ ٹو کا امتحان دے رہا تھا۔ یہ دور کسی بھی ڈاکٹر کی زندگی کا مشکل دور ہوتا ہے، جب وہ سپیشلسٹ بننے کی آخری سیڑھی پر ہوتا ہے اور جب تک وہ یہ امتحان پاس نہیں کر لیتا، اس کی پوری زندگی کی محنت ایک بوتل میں قید ہوتی ہے۔ میں تحریری امتحان دے چکا تھا، نتیجہ آنا باقی تھا اور میں کلینکل امتحان کی تیاری کے لیے ملٹری ہسپتال جایا کرتا تھا۔

اپنے دو ساتھی دوستوں ڈاکٹر حماد اور ڈاکٹر فیصل کے ساتھ صبح سات بجے سے رات بارہ بجے تک، مریضوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ مارچ کا مہینہ تھا، کورونا کی خبریں گرم تھیں اور ابھی کورونا آنا باقی تھا۔ وارڈ میں تیاری کے دوران ایک اسی سال کے بابا جی کو دیکھا۔ بابا جی کے جگر پر نشان تھے اور اسی وجہ سے یہ معدہ و جگر کے وارڈ میں تھے۔ ان نشانوں پر جگر کے کینسر کا شبہ تھا، سی ٹی سکین ہونا باقی تھا۔ میں نے بابا جی کا معائنہ کیا تو انہوں نے میری طرف بڑی ناراضگی سے دیکھا۔

ہر وقت خفا خفا، خاموش رہنے والے بابا جی، اس حالت میں وارڈ میں اکیلے تھے۔ ایک شام بارش ہو رہی تھی، میں اپنے امتحان کے نتیجے کو لے کر کافی پریشان تھا، نجانے میرے دل میں کیا آئی، میں نے ایک جوس کا ڈبا لیا اور جا کر بابا جی کے پاس رکھ دیا۔ پھر یہ روز کا ہی معمول بن گیا، میں اور بابا جی کوئی بات نہیں کرتے تھے، وہ مجھے بس اپنے لیے کچھ لاتا دیکھتے، اور ہم کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ ایک دن بابا جی کی سی ٹی کی رپورٹ آئی، تشخیص یہ ہوئی کہ پھیپھڑوں کا کینسر ہے، جو کچھ جگر میں ہے، وہ وہی کینسر پھیلا ہوا ہے۔

بابا جی آواز نہیں نکلتی تھی، جب بولتے، بس بڑبڑاتے اور کسی میں کچھ بات سمجھ آجاتی۔ کمزور تھے، مگر سخت جان تھے، اکڑ اور غصہ بھی بلا کا تھا۔ میں نے ایک شام ان کا ٹوٹا ہوا فون اٹھایا اور اس میں پانچ چھ نامعلوم نمبروں پر فون کیا کہ ان کا کوئی اپنا اس حالت میں ان کے پاس آ جائے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ بابا جی نے اس عمر تک شادی نہیں کی تھی، بہن بھائیوں سے ناراض تھے اور بھتیجے بھتیجیاں ان کے غصے سے ڈرتے تھے، مگر ان کا راولپنڈی میں ایک گہرا دوست تھا، جو ان کا حال جان کر فوری پہنچنا چاہتا تھا اور اس نے میرے بتائے ہسپتال کے ایڈریس پر شام پہنچنے کا وعدہ کیا۔

بابا جی کی حالت دن بدن خراب ہو رہی تھی اور میں ان کا واحد تیمار تھا۔ ایک دن ان کے فون کا چارجر خراب ہو گیا، میں نے وہ چارجر لاکر میز پر رکھا، تو مڑتے ہوئے، انہوں نے پہلی بار میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے بستر پر بیٹھنے کو کہا۔ میں بیٹھا تو کافی دیر مجھے دیکھتے رہے، پھر اچانک اٹھ کے بیٹھے، ان کی آواز میں ہوا کی جگہ سختی آ گئی، دونوں ہاتھوں سے میرا ہاتھ پکڑا، چومنے لگے اور بولے۔ ’اللہ صلہ دے گا‘ ۔ بس پھر ان کی آنکھوں میں ایک روشنی دیکھی اور اس کے جاتے ہی آنسوؤں کی لڑی، کافی دیر روتے رہے۔

میں نے تسلی دی تو کہنے لگے ’میں جا رہا ہوں، وہ بلا رہا ہے، سب نے جانا ہے، اللہ صلہ دے گا‘ ۔ یہ عصر کا وقت تھا، تھوڑی دیر کے لیے مجھے ایسے لگا کہ میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔ یہ سب عالم ارواح کا کھیل ہے۔ مجھے سے مخاطب وہ بابا جی نہیں ہیں۔ یہ معاملہ کچھ اور ہے۔ میں ایک دم گھبرا گیا۔ اٹھ کے سیدھا مسجد میں بھاگا، سجدے میں گر گیا، میرا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ میں نے سورت الرحمان کی اونچی آواز میں تلاوت شروع کردی اور پھر گھر کی راہ لی۔

راستے میں مجھے اردو پوائنٹ کے ملٹی میڈیا ہیڈ شاہد نذیر چوہدری صاحب کا فون آیا، جو اس واقعے کے پہلے گواہ تھے اور جو وجدانیت کا علم رکھتے ہیں۔ یہی وہ نام ہیں جو مجھے ڈیجیٹل میڈیا پر لے کر آیا۔ انہوں نے فون اٹھاتے ہی اپنے انداز میں مجھے کہنا شروع کیا کہ کورونا اپنے عروج پر ہے، دنیا آپ کو دیکھتی ہے، یہ وقت نہیں ہے کہ آپ اور ڈاکٹر نازش میڈیا سے غائب ہوجائیں، آپ فوری طور پر شو شروع کریں۔ میں نے ان کو واقعہ بتایا تو وہ کہنے لگا، ڈاکٹر صاحب، یہ سب بہت گہرا ہے، وقت آپ کو سب بتا دے گا، ابھی اس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا۔

میں نے آ کر اہلیہ اور والدہ کو یہ واقعہ بتانا تھا، والدہ ملتان تھیں، میں شاہد صاحب کے کہنے پر خاموش ہو گیا اور کسی سے یہ بات شیئر نہیں کی۔ رات عشاء کے وقت، مسجد میں مجھے ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی۔ اس کال پر بابا جی تھے، اور اپنے مخصوص انداز میں بول رہے تھے، یہ ہوا جیسی آواز تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا، مگر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ انہی کی کال ہے۔ اس کے بعد ان کے اسی دوست نے فون پکڑا اور کہا کہ شام سے ضد کر رہے ہیں کہا آپ سے بات کروا دوں، آپ کو شکریہ کہہ رہے ہیں، یہ بات کریں، اسی ہوا میں پھر مجھے آواز آئی ’اللہ صلہ دے گا‘ ۔

میں نماز پڑھ کر سجدے میں گرا، اللہ پاک سے دعا مانگ رہا تھا کہ مجھے زمین پر ایک عکس دکھائی دیا، یہ عکس یہ بتانے کو کافی تھا کہ میرا امتحان جس کے لیے میں شدید پریشان تھا، وہ پاس ہو گیا ہے۔ میں گھر پہنچا، اہلیہ کو کہا کہ میرا امتحان اللہ کے حکم سے پاس ہو جائے گا۔ رات دیر تک پڑھتا رہا اور صبح جلدی ہسپتال چلا گیا۔ بابا جی کے لیے فروٹ اور جوس لیا، ہسپتال داخل ہوا تو میرا دوست ڈاکٹر حماد میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے امتحان میں آنے والی کچھ چیزیں دکھانے، اینڈوسکوپی لے گیا، ہمیں بارہ بج گئے، واپسی میں نے جوس فروٹ اٹھایا اور اوپر پہنچا، بابا جی کے پاس پہنچا تو ان کے اوپر سفید چادر تھی اور وہ پرسکون لیٹے تھے۔

ساتھ والے بستر پر لیٹا مریض مجھے کہنے لگا، ڈاکٹر صاحب یہ آپ کا انتظار کر رہے تھے فجر سے، بار بار آپ کا پوچھ رہے تھے، آپ کو فون خود ملانے کی کوشش بھی کی، بس ابھی آپ کے آنے سے دس منٹ پہلے یہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ سننا تھا کہ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اپنے میڈیکل کے تیرہ سالہ کیرئیر میں پہلی بار میں کسی مریض کی وفات پر اس کے بستر پر کھڑا ہو کر بے اختیار رویا اور بہت رویا۔ وہ شخص مجھ سے جاتے جاتے ہم کلام ہو کر کچھ کہنا چاہتا تھا، اور قدرت اس کو روک رہی تھی۔

یہ وجدانیت کا عجب عالم تھا۔ میں نے بابا جی کا ہاتھ پکڑا تو مجھے جنبش کا احساس ہوا، وہ شخص مجھ سے مخاطب ہوا، اس کی روح مجھ سے مخاطب ہوئی، اب وہ آس پاس بھٹک تو رہی تھی، مگر اپنا احساس کھو چکی تھی، وہ جس جسم سے مجھ سے مخاطب ہوئی تھی، وہ جسم اسے آزاد کرچکا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ طاقت جس نے مجھے اس بابا جی کے اتنا قریب آنے کے لیے مجبور کیا، وہی مجھے اس کے آخری دن ان سے ملنے سے روکتی رہی، کیا میں کسی ایسے راز کی حد کو چھو رہا تھا، جو پردہ تھا؟

کیا میں عشق مجازی کی منزل سے عشق حقیقی تک پہنچ کر واپس لوٹا تھا؟ جو روح مجھ سے ہم کلام ہوئی تھی کیا وہ خدا کا کوئی روپ تھا؟ میرا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔ چند دن بعد کورونا پھیل گیا، ہر طرف لاک ڈاؤن ہو گیا اور میں اسی میں اپنی ٹرانسپلانٹ ہیپاٹولوجی کی فیلوشپ کرنے گمبٹ سندھ آ گیا۔ یہ ایک انتہائی پسماندہ علاقہ تھا اور یہاں تنہائی اور مصروفیت کی زندگی تھی، جس میں میں وقت کے ساتھ گم ہوتا گیا۔ اس واقعے کے پانچ ماہ بعد وقت ظہر مسجد میں تھیوری کا رزلٹ آیا اور میں پاس ہو گیا۔

اس کے دو ماہ بعد کلینکل کی تیاری کے لیے میں پھر راول پنڈی ایم ایچ آ گیا۔ اسی وارڈ میں ڈیڑھ ماہ ڈاکٹر حماد اور ڈاکٹر فیصل کے ساتھ تیاری کرتا رہا اور پھر ایک روز مجھے پریشانی کے عالم مجھے اسی ہسپتال کی ایک دیوار پر بابا جی کا وہ چہرہ دکھائی دیا جو کہہ رہا تھا ’اللہ صلہ دے گا‘ ۔ میں نے حماد اور فیصل کو وقت سے پہلے بتا دیا تھا کہ اس بار ہم تینوں فیلو بن رہے، ہم تینوں پاس ہوں گے۔ ان دونوں نے میرا نام بابا جی رکھ دیا، جبکہ وہ اس واقعے کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے۔

ہم تینوں پاس ہو گئے اور اس امتحان کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ مجھے امتحان میں آنے والا مریض اسی بستر پر وارڈ میں داخل تھا، جس پر آٹھ ماہ پہلے بابا جی کا انتقال ہوا تھا۔ آج جب گمبٹ کی تاریک راتوں میں ریگستان کے بیچوں بیچ عالم تنہائی میں روہڑی ایکسپریس کی آواز سنائی دیتی ہے تو مجھے بابا جی یاد آتے ہیں، میرے سامنے وہ چہرہ آتا ہے، مجھے وہ آنکھیں یاد آتی ہیں، مجھے یہ یقین ہوتا ہے کہ میں نے جسے دیکھا ہے وہ خدا کا روپ تھا۔

یہ روپ اس وقت بھی تھا، جب میں نے مجاز کا عشق کیا تھا، وہ لاحاصل ہوا تھا اور رب نے مجھ سے بہت اچھے کا وعدہ کر کے مجھے اہلیہ ڈاکٹر نازش اور بیٹی آئرہ تحفے میں دی، وہ روپ اس وقت بھی تھا کہ جب چین تیانجن میں والد کا جگر ٹرانسپلانٹ تھا، اور میں برف کے دریا پر سجدوں میں ان کی صحت یابی کی دعا کرتا تھا کہ جہاں ایک بوڑھی چینی عورت نے مجھے اس دریا پر دلاسا دیا تھا، وہ روپ اس وقت بھی تھا کہ جب میں معدہ و جگر میں ریزیڈنسی کے لیے پریشان تھا کہ کلر کہار کے ایک ٹرمینل پر ایک فقیر نے مجھے دعا دی تھی بیڑے پار، وہ روپ اس وقت بھی تھا کہ جب اہلیہ کا تبادلہ کرانا اور ایک بوڑھا فقیر فائل ہاتھ میں تھام کر لے گیا تھا کہ اس کا کام کردو، رب کا حکم ہے۔

میں نے کس موقع پر اور کہاں رب کے احساس کو محسوس نہیں کیا؟ میں نے زندگی کی ڈوبتی کشتی میں کتنی بار معجزے نہیں دیکھے؟ میں نے رب کو ہر سو دیکھا ہے۔ ہر جا دیکھا ہے۔ میرے اندر بھی پھونکی روح اسی کی ہے، یہ روح اس کے طواف میں جاتی ہے اور وہ ہر بار پلٹ کر اس کی خبر لینے آتا ہے۔ یہ اس سے مخاطب ہوتی ہے، یہ براہ راست اس سے بات کرتی ہے، یہ میرے جسم سے نکل کر اس سے ہم کلام ہوتی ہے۔ یہ اپنے مکان کی حفاظت بھی کرتی ہے اور اس کو اس بات کا احساس بھی دلاتی ہے کہ اس کی اصل منزل اس کی اصل ہے۔

وہ اصل جو بار بار اس کا پتہ لینے آتی ہے۔ میں جسم میں بسی روح سے اس عشق کو عشق مجازی کا نام دے دوں، تو اس روح کے اپنی اصل سے عشق کو کیا نام دوں؟ کیا روح سے روح کا یہ جوڑ عشق حقیقی ہے؟ کیا یہ وجدانیت کے سلسلے ہیں؟ کیا بابا جی کی آنکھوں میں، میں نے جو دیکھا تھا وہ خدا کا کوئی روپ تھی اور جس لمحے وہ روح ان سلسلوں سے آزاد اس کی طرف بار بار مجھے لے جا رہی تھی تو وہ میرے رب کا بلاوا تھا۔ یہ سب خدائی سلسلے ہیں۔

تقدیر الہٰی کے نوشتے بھی وہی ہیں
اللہ بھی وہی، اس کے فرشتے بھی وہی ہیں
اتر سکتے ہیں تیری مدد کو ملائک اب بھی
گر ذات الہٰی سے تیرے رشتے بھی وہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •