مظفر ہاشمی: داغ فرقت دے گیا ہے کیسا کیسا آشنا


یہ کمبخت دو ہزار بیس کا وبا زدہ سال کیسی کیسی نابغۂ روزگار ہستیاں نگل گیا ہے۔ ان انسان دوست ہستیوں میں ایک محترم مظفر الدین احمد ہاشمی تھے۔ شگفتگی اور اپنا پن ان کی شخصیت کا جزو لاینفک تھا۔ میری بے ربط تحریر ہاشمی صاحب کے ساتھ گزرے انمول لمحوں کی انگلی تھامے نشاط یاد کے جھونکوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

گئے برسوں کی بات ہے کہ وادیٔ شال کی ایک سرد شام تھی جب میں پہلی بار اس دھیمی مسکان کے حامل شخص سے ملا تھا۔ ان کے دولت کدے پر انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان، بلوچستان چیپٹر کے عہدے داران کی اہم میٹنگ تھی۔ میزبان کی خوش اخلاقی اور پر تپاک استقبال نے بشمول میرے، تمام حاضرین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ پھر بعد کی ملاقاتوں میں بھی خوب گپ شپ رہی کہ ہم گھنٹوں بیٹھے باتیں کیا کرتے۔ میری دلچسپی کا محور ان کی ذات بارے معلومات اکٹھا کرنا تھی جبکہ انہیں ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی تھی کہ روشن فکر حلقے کیوں کئی دھڑوں میں منقسم ہیں بالخصوص انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان۔

جب انہیں پتہ چلا تھا کہ بلوچستان میں انجمن کو از سر نو فعال کیا جا رہا ہے تو بہت خوش ہوئے اور انجمن کی فعالیت کے لیے ہر طرح سے جٹ گئے۔ اپنی مخدوش صحت کے باوجود وہ ہمیشہ انجمن کی ہر میٹنگ اور مذاکرے میں نہ صرف پیش پیش رہے بلکہ اکثر و بیشتر میزبانی کے فرائض بھی فراغ دلی سے سرانجام دیے۔ یہاں مسز مظفر ہاشمی (ڈاکٹر زویا) کا ذکر کرنا ناگزیر ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ہمیشہ ہاشمی صاحب کے شانہ بشانہ انجمن کے مذاکروں میں شرکت کی اور خوش دلی سے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔

اس ادب پرور کنبے کی ادبی محافل میں شریک احباب ان کے ذوق سخن کے معترف ہیں۔ ذہانت، نفاست، شگفتگی اور مہمانداری کی جو چمک ہاشمی صاحب کی طبعیت میں موجود تھی، وہی ان کی محفلوں میں نمایاں تھی۔ گو خود شعر نہ کہتے مگر ان کا شعری ذوق باکمال تھا۔ شعری نشستوں کا انتظام کرتے ہوئے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے یہ شخص شاعری کی پوجا کر رہا ہو۔ اسی خلوص کا اعجاز تھا کہ شعر گوئی کا جو لطف ان کے ہاں تھا وہ بڑے بڑے مشاعروں میں عنقا تھا۔

یوں تو جناب مظفر ہاشمی صاحب طالب علمی کے زمانے سے ہی ترقی پسند، روشن فکر علمی و ادبی حلقوں میں متحرک چلے آ رہے تھے مگر کچھ عرصے سے علالت کے باعث عملی طور پر تقریباً کنارا کشی اختیار کر چکے تھے۔ اس کے باوجود ذہنی اور فکری حوالے سے کبھی انہوں نے خود کو وطن عزیز کے ترقی پسند حلقوں سے الگ نہیں رکھا۔ انھیں دوبارہ عملی طور پر انجمن ترقی پسند مصنفین سے جوڑنے کا سہرا جناب راحت سعید صاحب ( کراچی ) کے سر ہے جنہوں نے بلوچستان میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی فعالیت کے لیے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں بلوچستان کے شعراء و ادباء کے ساتھ ایک میٹنگ رکھی جس کا اہتمام روشن فکر، ترقی پسند مصنف جناب آغا گل صاحب نے کیا تھا۔

اس میٹنگ میں راقم کے ساتھ جناب راحت سعید، جناب آغا گل، جناب بیرم غوری، جناب راحت ملک، جناب سرور جاوید اور دیگر نے شرکت کی البتہ مظفر ہاشمی صاحب علالت کے باعث شریک نہیں ہو سکے۔ بعد ازاں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان، بلوچستان چیپٹر کی عبوری کابینہ کی تشکیل کے بعد صوبائی کابینہ کی پہلی میٹنگ جناب مظفر ہاشمی صاحب کی رہائش گاہ پرہی رکھی گئی۔

ہاشمی صاحب کبھی کبھار اپنے بچپن کا ذکر کیا کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ وہ 09 فروری 1949 ء کو ملتان کے نوحی قصبے چک ہاشمیہ میں لطیف احمد ہاشمی کے ہاں پیدا ہوئے۔ ہاشمی صاحب نے اپنی فکری منزل پا لینے کی خاطر اب تک جتنا بھی سفر طے کیا تھا، اگر دیکھا جائے تو اس مسافت میں کئی پڑاؤ آئے۔ ایک سے دوسرے پڑاؤ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اپنے سامنے مقصد کا کوئی نہ کوئی سنگ میل ضرور رکھا۔ اور مصمم عزم و ارادہ، بے پناہ ہمت و قوت اور فولادی حوصلہ بروئے کار لا کر اس مقصد کی تکمیل کے لئے اپنے قدم آگے ہی آگے بڑھاتے چلے گئے۔

جد و جہد کے اس سارے سفر میں ہاشمی صاحب کی کامیابیوں کا پلڑا بھاری رہا۔ دراصل بنیادی چیز ان کی غیر معمولی قوت ارادی تھی۔ وہ طویل علالت کے سبب مشت استخواں دکھائی دینے کے باوجود موت کے تصور سے بھی بے نیاز معلوم ہوتے۔ سفر آخرت سے قبل آخری صبح رات گئے ٹیلیفون پر میری ان سے خوب باتیں ہوئیں۔ باتیں کرتے جب سانس پھول جاتا تو میں انھیں آرام کی تلقین کرتا مگر وہ ”نہیں عاصمی صاحب ابھی کچھ دیر اور“ کہہ کر بات آگے بڑھا دیتے ”آج کتنے دنوں بعد آپ سے بات ہو رہی ہے۔ مجھے جی بھر کے باتیں کرنے دیں“

اس روز شاید وہ ان کی آخری کال تھی۔
ہوا تھی گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا تھا
وہ مرد درویش جس کو حق نے دیے تھے انداز خسروانہ

انہوں نے مجھ سے میرے متوقع سفر نامے ”خواب، پرندے اور شمال“ کی بابت پوچھا۔ نئے شعری مجموعے کو جلد طباعت کے لئے روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس آخری کال کا اختتام اس جملے پر ہوا ”بس عاصمیؔ صاحب! ذرا میری طبعیت سنبھل جائے پھر ایک بیٹھک رکھتے ہیں صباؔ صاحب کو میرا سلام کہنا“ ۔ میں نے جواباً کہا ”ہاشمی صاحب اپنا خیال رکھنا“ تب مصنوعی غصے سے کہنے لگے ”بھئی یہ اچھا ہے کہ اب اپنا خیال خود رکھیں یعنی کسے دے آسرے تے نہیں رہنا“

انہوں نے جیسے مایوس ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔ میں اگر ترقی پسندوں کے رویوں سے کبھی مایوس ہوتا تو مجھے ڈانٹ دیتے اور پھر بڑے پیار سے سمجھاتے ”عاصمیؔ صاحب ہم نے کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا۔ بس اپنے حصے کا کام کرتے رہنا ہے“ ۔

چونکہ مظفر ہاشمی صاحب کی رہائش بھی سیٹلائیٹ ٹاؤن میں ہے اور احقر کا مستقر بھی یہیں ہے۔ گویا ہم ہاشمی صاحب کے پڑوسی ٹھہرے اس لیے آنے والے سالوں میں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان، بلوچستان کی میٹنگز، مشاعروں اور مذاکروں کے علاوہ بے شمار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہاشمی صاحب بہت شفیق، ہمدرد اور ملنسار انسان تھے۔ میں نے کبھی انہیں غصے میں نہیں دیکھا۔ ہمیشہ مسکراتے چہرے سے استقبال کرتے اور باوجود انکار کے مہمان نوازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

انہوں نے اپنی وسیع چھت پر خوبصورت سا باغیچہ بنوا رکھا تھا۔ لان ایک عجوبہ تھا، قدرتی گھاس کے علاوہ کئی قسم کے پھول اور درخت بھی جلوہ افروز تھے، پرندوں کی چہچہاہٹ میں گھنٹوں گپ شپ رہتی۔ ہم اکثر وہاں نشست لگاتے۔ آہ! لان میں خالی کرسیاں رہ گئیں۔ ہاشمی صاحب آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں براجمان رہیں گے اپنی میٹھی، مخملی مسکان کے ساتھ۔ آپ کے دامن میں متاع خلوص کے سوا کچھ نہ تھا۔

میں نے اکثر محسوس کیا کہ ہاشمی صاحب دوستوں کو چونکانے اور محظوظ کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے۔ شعوری طور پر نہیں بلکہ ایسا گفتگو کی نوعیت اور معیار کی وجہ سے ہوتا۔ آپ کی گفتگو میں کمال کی متانت، شگفتگی اور ٹھہراؤ تھا جو سب کو چونکا دیتا۔ وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار ایسے معیاری پیرایہ میں کیا کرتے تھے کہ ان کے مسلمہ اہل علم و دانش ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہتا۔ عصر حاضر کے سیاسی و سماجی تغیر و تبدل پر آپ کی گہری نظر تھی۔ ان کی نپی تلی باتیں دل میں گھر کرتی چلی جاتیں۔ یہی اوصاف دوستوں کو ان کے گرد جمع رکھتے۔ میں تو ان کی دھیمی دھیمی سی مسکان اور متانت بھری گفتگو کا گرویدہ تھا۔

وہ کم گو تھے مگر کم آمیز نہیں۔ البتہ دوستی کے بارے میں قدرے محتاط تھے کہ ارتکاب گناہ سہل مگر انتخاب گناہ مشکل ہوتا ہے۔ آپ دوست سے بجز خلوص کسی چیز کی توقع نہ رکھتے تھے۔ ان کے ہاں جناب راحت سعید، صباح الدین صباؔ، محترم شیام کمار اور میر خدا بخش لہڑی کی موجودگی میں طویل اور آسودہ محفلیں سجتیں۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا۔ ڈاکٹر زویا صاحبہ کے صبر اور خندہ پیشانیوں کو سلام۔

آپ کے دل میں مظلوم طبقے کا درد کوٹ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، انسانوں کی خستہ حالی اکثر انہیں بے چین رکھتی۔ وہ اکثر نچلے طبقے کے مظلوموں کی فلاح و بہبود کی راہیں تلاش کرنے میں تن دہی سے کوشاں رہتے۔ آپ باہر سے بدیسی لیکن اندر سے خالص دیسی، پنجابی جاٹ۔ سادگی اور انسان دوستی ان کا خاصا تھا۔ وہ تصور ملکیت کے زبردست حامی تھے مگر مادی ملکیت جیسے زر، زمین وغیرہ کے نہیں بلکہ متاع مہر و محبت، شخصی وقار اور عزت نفس کو وہ اپنی سب بڑی ملکیت اور سرمایہ گردانتے تھے۔ اور وہ اس ملکیت سے زیادہ سے زیادہ مالا مال ہونے کے خواں تھے۔

وہ اکثر کہا کرتے کہ انسانیت میرا مذہب اور سارا جہان میرا وطن ہے۔ وہ انسان کو تقسیم کرنے والے کسی بھید بھاؤ کے قائل نہ تھے۔

میری ان سے جب سے دعا سلام ہوئی میں نے انہیں مختلف بیماریوں سے لڑتے ہوئے دیکھا۔ سچ ہے کہ بڑھاپا خود ایک بیماری ہے لیکن وہ ذہنی اور قلبی طور پر نہ تو بوڑھے تھے اور نہ بیمار۔ جسمانی کمزوری کے باعث وہ اکثر گر پڑتے بہت شدید چوٹیں آتیں مگر ہمت نہ ہارتے۔ اپنی بے پناہ قوت ارادی اور ڈاکٹر صاحبہ ( مسز ہاشمی ) کی محبت کے سہارے زندہ تھے۔

تابوت میں مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے آنسو بہانے کی جرات نہیں ہو سکی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہاشمی صاحب کسی نئے مقصد کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے کچھ دیر کو آنکھیں موندے آرام کر رہے ہیں۔ ابھی آنکھیں کھولیں گے اور میری آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو دیکھ کر محبت بھرے غصے سے کہیں گے

یہ دنیا تو ہے صرف ہمت وروں کی
کبھی آنسوؤں سے نہ آنکھوں کو بھرنا

ہاشمی صاحب کو میرا مذکورہ بالا شعر بہت پسند تھا۔ اکثر فرمائش کر کے مجھ سے غزل سنتے۔ انہیں کسی بھی حال میں آنسو بہانا پسند نہ تھا وہ آنسوؤں کو شکست خوردگی کی علامت سمجھتے تھے۔

07 اکتوبر 2020 ء کی صبح دلنواز مظفر ہاشمی ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔
دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے
میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن۔

Facebook Comments HS