نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی….

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی مہنگائی کا طوفان تھم جائے گا۔ آٹا، چینی، دال، گوشت، سبزیاں سب سستے ہو جائیں گے۔ پٹرول، ڈیزل، گیس وغیرہ ایندھن کی قیمتیں ٹیکس کے ختم ہونے سے نیچے آ جائیں گی کہ پھر بالواسطہ کی بجائے بلاواسطہ ٹیکس امیر اور امیر ترین طبقے پر دولت کی شرح کے مطابق لگا کرے گا۔ غربت میں واضح کمی آئے گی۔ بیروزگاری کی شرح انتہائی کم ہونے کا امکان ہے بلکہ عین ممکن ہے باہر سے لوگ پاکستان نوکریاں کرنے کے لیے آنے لگ جائیں۔ غریب آدمی کے لیے رہائش کے مسائل بھی ختم ہو جائیں گے۔ یہ جو جھگیوں، کچی بستیوں، کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں انہیں اپنے مکان کا سکھ دیکھنا نصیب ہو جائے گا۔ چینی مافیا، آٹا مافیا اور نہ جانے کون کون سے منافع خور مافیاز ہیں جن کی اس ملک میں جگہ ختم ہو جائے گی۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی پی آئی اے پھر سے دنیا کی نمبرون ایئرلائن بنے گی تو سٹیل مل منافع بخش کاروبار ہو گی جس کے دم سے ملک میں ایک صنعتی انقلاب آ جائے گا۔ پاکستان ریلوے چین جاپان کی ریلوے سے مقابلہ نہ کر سکے گی تو کم از کم ایک منافع بخش اور اعلیٰ سفری سہولیات سے مزین ریلوے ضرور بن جائے گی۔ شہری ٹرانسپورٹ میں کوئی مافیا اپنا کام نہیں کر سکے گا۔ یہ جو درالحکومت میں ہائی ایس کے ”پھٹے“ پر سفر کرنے کی ذلالت برداشت کرتے ہیں ان کے لیے بہترین اربن ٹرانسپورٹ کا بندوبست تو ہو گا ہی باقی بھی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لوگ باعزت طریقے سے سفر کر سکیں گے۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی ختم ہو جائے گا۔ بلوچستان سے نہ کوئی لاپتہ ہو گا نہ کوئی مسخ شدہ لاش برآمد ہو گی۔ کوئٹہ اگر پیرس نہ بن سکا تو کم از کم لاہور ضرور بن جائے۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی کا طرہ امتیاز ہو گی۔ پہاڑوں پر جانے والے شرمندہ ہوں گے اور پاکستان کا پرچم ہر گھر میں لہرائے گا۔ پنجابی مزدوروں کو اس لیے قتل نہیں کیا جائے گا کہ ان کے صوبے کی ایلیٹ بلوچستان کے مسائل کی ذمہ دار ہے۔ ایران کے مقامات مقدسہ سے واپس آتے زائرین تو محفوظ ہوں گے ہی شعیہ ہزارہ قبیلے کو ہزارہ ٹاؤن میں محصور بھی نہیں ہونا پڑے گا۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری کی بیماریاں تو دور کوئی فرقہ وارانہ ریلی تک نہیں نکلے گی۔ یہ شہر ایک دفعہ پھر روزگار کا ایسا مرکز ہو گا کہ بھوکوں کی ماں کہلائے گا۔ گرین بس منصوبے اور سرکلر ریلوے کے مکمل ہونے کے ساتھ اربن ٹرانسپورٹ کا وہ انتظام ہو گا کہ دبئی والے شرما جائیں گے۔ سندھ سمیت سارے ملک میں وڈیروں، جاگیرداروں کے راج کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مزارع اور ہاری زمین کا مالک قرار پائے گا تو حکومت جدید خطوط پر استوار زراعت کے ذریعے ملک کو زرعی شعبے میں مکمل خود کفیل بنا لے گی۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی پختونخوا کے غیور لوگوں کے مسائل ایسے ختم ہوں گے کہ پی ٹی ایم والے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے نہیں تھکیں گے۔ سابقہ قبائلی علاقوں میں سیرو سیاحت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہو گا۔ اے پی ایس کے شہداء کو ہم یاد ضرور رکھیں گے مگر ایسا کوئی واقعہ مستقبل میں ہونے کے امکانات کو مکمل طور پر معدوم کر دیں گے۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی پاکستان قرضوں کے بوجھ اور آئی ایم ایف کے چنگل سے یوں آزاد ہو گا کہ لوگ مثالیں دیا کریں کہ دیکھا اپنے سابقہ حکمرانوں سے کرپشن کے پیسے ایسے نکلوا کر قومیں ترقی کرتی ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہو گی اور عالمی دنیا بھی۔ ہمارا مقام بلند ہو گا۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی مزدور کی کم از کم اجرت اسمبلیوں کے ممبران کے برابر ہو جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز اور بہت سے سرکاری افسران کی رہائش پر اٹھنے والے بے تحاشا اخراجات کم ہو جائیں گے کہ ان میں سرکاری تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائے جائیں گے۔ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کسی کے لیے بھی خواب نہ ہو گی کہ یونیورسٹی تک مفت تعلیم کا ذمہ سرکار اٹھائے گی۔ صحت کی سہولیات عالمی معیار کے مطابق تو ہوں گی ہی مگر مفت بھی ہوں گی۔ کسی کو یہ دکھ نہیں ہو گا کہ نواز شریف تو انگلستان سے علاج کروا لیتا ہے میں کہاں سے علاج کرواؤں۔

نواز شریف کے واپس جیل جاتے ہی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے۔ انصاف غریب اور امیر کے فرق کے بغیر ہر کسی کو اس کی دہلیز پر بغیر تاخیر کے فراہم کیا جائے گا۔ لوگ تھانے جانے سے نہیں ڈریں گے بلکہ ہر غیر قانونی کام کرنے والا تب غیرقانونی کام کرنے کا سوچنے سے بھی ڈرے گا۔ کرپشن ملک سے یوں کم ترین سطح پر ہو گی کہ کہ کرپشن سے پاک ملک کے طور پر ہماری مثال دی جائے گی۔

یہ تو چند مثالی باتیں ہیں مختصر یہ کہ راوی چین ہی چین لکھے گا جب نواز شریف دوبارہ جیل واپس چلا جائے گا۔ یقیناً ایسا ہی ہو گا تبھی تو ہماری حکومت اتنے مسئلوں کو چھوڑ کر صرف اس فکر میں ہے کہ اسے واپس لایا جائے کہ تمام مسائل کے حل کی چابی یہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •