ای بکس کی اہمیت و افادیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صاحب وہ زمانے لد گئے جب بغل میں مسودہ دبائے کتاب کی اشاعت کے لیے پبلشر کے آفس کے چکر لگائے جاتے تھے۔ کتاب کے ٹائٹل کے لیے کس نامور مصور کی خدمات لی جاتی تھیں، کتاب کی معیاری اشاعت کی کئی بار یقین دہانی کے بعد پبلشر کے ہاتھ میں پیشگی رقم تھمائی جاتی تھی۔ کتاب کے لیے معیاری کاغذ کا اہتمام کیا جاتا تھا، اور پھر خد ا خدا کرے کتاب اشاعت کے پل صراط سے گزرتی تھی، پبلشر صاحب بلٹی کرواتے تھے اور کتابیں مصنف کے گھر پہنچ جاتی تھیں۔

کتابوں کو وصول کرتے ہی مصنف کو کتاب کی رونمائی کی فکر لاحق ہوجاتی تھی، نیز مختلف ادبی رسائل کو تبصرہ کے لیے اور بیرون شہر مقیم دوستوں کو بذریعہ ڈاک کتاب پہنچانے کی منصوبہ بندی کا آغاز ہو جاتا تھا۔ جی صاحب! اب وہ زمانے لد گئے ہیں اب ایک نئے عہد کا سورج طلو ع ہو گیا ہے۔ مسودہ کو ای بک کی شکل میں کمپوز کیجئے، کتاب کا دیدہ زیب ٹائٹل منتخب کیجئے اور اس ای بک کو کسی ای لائبریری میں اپ لوڈ ہونے کے لیے بھیج دیجئے، اگر آپ دوستوں کو بھی اپنی تخلیقات سے مستفید کرنا چاہتے ہیں تو واٹس اپ اور ای میل کے ذریعے ترسیل کر دیجئے، نہ ڈاک کا خر چ نہ پرنٹنگ کا جھنجٹ، نہ خطیررقم کی ضرروت۔

مغرب میں ای بک کا رجحان فروغ پا چکا ہے، ای لائبریریاں طالبان علم کی تشنگی کو سیراب کر رہی ہیں، پاکستان میں موجود وہ ادارے جن کے کاندھوں پر اردو زبان کی ترقی و ترویج کی ذمہ داری ہے ان کو چاہیے کہ ای بکس اور ای لائبرریوں کے قیام پر سنجیدگی سے توجہ دے۔ آج کل ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا اور اس کے متعلقات سے وابستہ ہے، نیز لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے تعلیمی ادارے آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جس کی وجہ سے طلبا، میں انٹر نیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اس موقع پر اگر طلبا میں ای بکس ریڈنگ کے رجحان کو فروغ دے دیا جائے تو ہماری نئی نسل کی تہذیبی و ثقافتی تربیت کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے، نیز اہل دانش کی یہ شکایت بھی دور کی جا سکتی ہے کہ نئی نسل کتاب سے دور ہو رہی ہے۔ میرے محدود علم کے مطابق ہمسایہ ملک میں دنیائے اردو کی سب سے بڑی ای لائبریری ریختہ اردو زبان کی ترقی و ترویج میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے، حالانکہ اردو ہماری قومی زبان ہے اس کے باوجود ہمارے ہاں کوئی ایسی ای لائبریری موجود نہیں ہے جو وسعت میں ریختہ کی ہمسری کر سکے، نیز قومی زبان و ادب کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ نئے لکھاریوں کی تصانیف کو ای بک کی شکل میں تشکیل و ترتیب دینے کا کوئی ایساپروگرام واضح کرے جس سے نہ صرف بڑے شہروں میں رہنے والے شعر و ادبا مستفیدہوں بلکہ مضافات میں رہنے والوں کو بھی یکساں فائدہ ہو، نہایت دکھ سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے شعر و ادبا خون جگر سے رقم کی ہوئیں اپنی تصانیف مالی وسائل ناکافی ہونے کے سبب زندگی بھر شائع نہیں کروا پاتے جس کی وجہ سے بہت سا قیمتی ادب مسودوں کی شکل میں صندقچوں اور الماریوں کی قبروں میں دفن ہو جاتا ہے ۔

شعرا و ادبا کا تخلیقی کام منظر عام پر نہ آنے کی وجہ سے نہ صرف لکھاری عمر بھر اپنی پہچان سے محروم رہتا ہے بلکہ دامن ادب میں بھی نئے جواہر ادب شامل نہیں ہو پاتے۔ صرف یہی نہیں کہ نئے لکھنے والوں کی کتابیں ای بکس کی شکل میں تشکیل و ترتیب دی جائیں بلکہ اردو زبان کی ترقی و ترویج کرنے والے حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اردو ادب کی تمام کتابوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عملی منصوبہ شروع کرے تاکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو کے عشاق اپنے ذوق سلیم کی تسکین کر سکیں۔ اگر ہم چاہتے کہ نوجوان نسل کتاب سے وابستہ ہو جائے، اگرہم چاہتے کہ اردو زبان پھلے پھولے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو اد ب کا دامن نئے جواہر ادب سے لبالب بھرا رہے، اگر ہم چاہتے کہ نوجوان نسل میں اد ب فہمی کی کی خو جنم لے لے تو ہمیں ای بکس کے فروغ کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنے پڑے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •