راج دھارا تے لوک تکنی اور ڈاکٹر سعید خاور بھٹا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت گزرے جا رہا ہے، زندگی بسر ہو رہی ہے۔ دونوں کے بیچ میں انسان اپنے حصے کا دورانیہ پورا کر کے اچھی بری یادیں چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت کو گلے لگا کر واپس اپنی ماں (مٹی) میں دفن ہو جاتا ہے۔ ماں سے ماں تک کا یہ سفر ہر آنے والے کو طے کرنا پڑتا ہے۔ طے کرنے کا عمل نشاں دہی کرتا ہے کہ یہ مرنے والے کے ورثا کے لیے فخر یا ذلت کا باعث رہا۔ اولاد کے اچھے عمل پر جو ہستی سب سے زیادہ خوش ہوتی ہے وہ ماں ہے۔

عورت کے لیے جو سب سے بڑی فخر والی بات ہے وہ اس کا ماں ہونا ہے۔ مٹی اور ماں کی یہ خاصیت ان کو باقی تمام کائنات کی مخلوقات سے مختلف بناتی ہے۔ دونوں کے سنگم سے جو چیز جنم لیتی ہے وہ ماں بولی کہلاتی ہے۔ اس کے بولنے والوں پر اس کی عزت و تکریم اسی لیے فرض ہو جاتی ہے۔ جو اقوام یا افراد مذکورہ کی حقیقت کو جان کر اس کی آؤ بھگت شروع کر دیتے ہیں اور اس پر آنچ آنے کی صورت میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تو ان کی حکمرانی و ترقی ایک حقیقت بن کر عیاں ہوتی ہے۔

جو ماں سے بے وفائی کے مرتکز ہوتے ہیں غلامی ہمیشہ کے لیے ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ غلامی غیرت کو کھا جاتی ہے۔ غیرت کی موت اصل میں انسانیت کی موت ہے۔ کسی معاشرے سے انسانیت کے خاتمہ سے بڑی تباہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ ہر وسیب کی اپنی ماں بولی ہے۔ پنجاب کی پنجابی زبان (اپنے مختلف لہجوں کے ساتھ) ہے۔ تاریخی اعتبار سے ویسے تو اسے ہر بیرونی حکمران نے دبایا، چاہے یونانی، ایرانی، مسلمان یا انگریز ہوں۔ وہ اس لیے کہ اپنی لسانی طاقت کے ذریعے مقامی لوگوں کو مغلوب کیا جا سکے۔

جو ماں بولی میں سوچے، پڑھے اور لکھے گا وہ قابل اعتماد، بہادر اور غیرت مند بنے گا۔ ایسا عمل بیرونی حملہ آوروں کے لیے خیر کا پیغام نہیں ہوتا سو وہ مغلوب قوم کی زبان ختم کرنے پر تلے ہوتے ہیں تاکہ اپنی طاقت اور زبان کے ذریعے اپنا بیانیہ رائج کر سکیں۔ پنجاب میں بھی یہ سب کچھ ہوتا آیا ہے۔ اس کھیل کو تاریخی طور پر پرکھنے کے بعد میری نظر میں انسانی دنیا میں تین طرح کی کلاسز یا لوگ سامنے آتے ہیں۔ پہلی قسم کے وہ جو ریاستی بیانے کے مرید (comprador class) بن جاتے ہیں۔

اپنے وقتی اور معمولی فائدے کے لیے اپنی مٹی، ماں بولی، عزت، قابل فخر اثاثہ جات، وسائل، علم وغیرہ کا نہ صرف سودا، بل کہ ہر اس آواز کو دبانے کی ممکنہ کوشش کرتے ہیں جو ان کے مخصوص عزائم کی راہ میں آڑے آ سکتی ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو مذکورہ کلاس کے بیانیے کو نہ صرف چیلنج کرتے ہیں بل کہ اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں، جو لوک ادب، ماں بولی، عزت، غیرت، بہادری، مٹی کی محبت وغیرہ سے تشکیل پاتا ہے۔ اس کلاس کو سب سے زیادہ چیلنجز (تنگی و تکلیف) کا سامنا رہتا ہے۔

تیسری کلاس جو تعداد میں مذکورہ دونوں سے سے بڑی ہوتی ہے وہ ان دونوں کلاسوں کے لیے نرسری کا کام سرانجام دیتی ہے۔ اس کھیل میں پہلی کلاس کے حامی زیادہ ہوتے ہیں جو بظاہر اس کا حصہ نہیں ہوتے مگر بیانیے یا ڈسکورس کی آبیاری یا پھیلاو میں ہر اول دستے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ دوسری کلاس کے حامیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے کیوں کہ یہاں صرف بے لوث قربانی (وقت، پیسے وغیرہ) دینا پڑتی ہے۔ ڈاکٹرسعید خاوربھٹا کو دوسری قسم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

آپ (صدر شعبہ پنجابی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور) کو جو چیز پنجابی ایکٹیوسٹ سے منفرد بناتی ہے وہ یہ کہ آپ پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ پنجابی وسیب، تاریخ، علم و دانش وغیرہ کو معاشرے میں ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلوانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں بلکہ اپنی بات کو دلائل سے سچ ثابت کرنے کے لیے لوک شاعری، فوک وزڈم اور لوک کہانیوں سے کلونیل بیانیے کے سامنے پنجاب کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ آپ زبانی جمع خرچ پر یقین نہیں رکھتے بل کہ علم کو کتابی شکل میں لا کر اپنے موقف کو سب کے سامنے لاتے ہیں تاکہ اگر کسی کو کوئی شک ہو تو اپنے موقف کے ساتھ سامنے آئے۔

میری نظر میں اچھی کتاب کون سی ہے؟ اچھی اور معیاری کتاب وہ ہے جو logic کے ساتھ اپنا بیانیہ نئے انداز سے پیش کرے جو پڑھنے والے کے لیے سوچ کا عمل پیدا کرنے کا اہتمام کرے، یا تو سوچ اور خیالات اتنے نئے اور تروتازہ ہوں کہ پڑھنے والا ان کی ”نویکلتا“ میں کھو جائے یا مصنف پہلے سے رائج بیانیے کو اپنے بیانیے سے de۔ construct کرے کہ اس کا یہ بیانیہ صاحب علم تسلیم کر لیں۔ یا پھر کسی چھپی ہوئی چیز کو سامنے لے آنا۔

اس تمہید کا مقصد آپ کو ان کی نئی کتاب سے متعارف کروانا ہے۔ نئی شائع ہونے والی کتاب ”راج دھارا تے لوک تکنی“ جو حال ہی میں پاکستان پنجابی ادبی بورڈ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پہلے بھی میں ان کے متعلق اکثر یہ بات سوچتا تھا کہ یہ وکھری قسم کا بندہ کیوں ہے؟ یہاں ہر کوئی مادی دنیا کے بنائے ہوئے لسانی قوانین کے مطابق قومی اور عالمی زبانوں میں اپنا نام اور مقام بنانے کے چکر میں بھاگ دوڑ رہا ہے، وہیں یہ اپنی ماں بولی پنجابی کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانا چاہتا ہے۔

اسی لگن کو دیکھتے ہوئے مخالفین کی طرف سے ان کو طرح طرح کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے مگر یہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی دھن میں چلے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر بھٹا کے اس راز سے پردہ اس وقت ہٹا جب میں نے ان کے استاد محترم محمد آصف خان کی کتاب ”پنجابی بولی دا پچھوکڑ“ پڑھی۔ جس طرح سے انہوں نے اس میں پنجابی زبان کی ابتدائی تاریخ، ارتقاء، پنجابی پرسرکاری زبانوں کے اثرات، حروف تہجی، گرائمر وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کی اس کی مثال شاہ مکھی پنجابی میں بہت کم ملتی ہے۔

عظیم انسانوں کے پیچھے عظیم اساتذہ کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ اس بات کی حقیقت مجھ پر واضح طور پر عیاں ہو گئی۔ زیر تحریر کتاب تحقیق کے جدید معیارات کے عین مطابق لکھی گئی ہے۔ اس سے مصنف کی قابلیت اور ماں بولی سے محبت واضح طور پر قاری پر آشکار ہوتی ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہزاروں سال پرانی پنجاب کی مٹی سے ”پنگھرنے“ والی زبان جو ہر بیرونی حملہ آور کے ظلم کا شکار رہی مگر اثر لینے کے باوجود ختم نہ ہو سکی۔

مٹی سے جڑی ہوئی چیزوں کی اہمیت تو فنکاری سے کم کی جا سکتی ہے مگر مٹائی نہیں جا سکتی۔ اسی سوچ پر پیرا دیتے ہوئے اور اپنے استاد کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے والے اس زیر تبصرہ کتاب کے مصنف اس سے پہلے درجن سے زیادہ کتابیں پنجابی زبان کی جھولی میں ڈال چکے ہیں مثلاً راج کہانی، بار کہانی، کمال کہانی، نابر کہانی وغیرہ۔ آپ کی اصل وجہ شہرت پنجاب کیOral history and fokelores ہے جو کلونیل بیانیے کو پوری طرح چیلنج کرتی ہے اور پنجاب کی انگریز زدہ تاریخ کی نہ صرف نشان دہی کرتی ہے بل کہ اس کا اصل چہرہ سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے جو دراصل ان کے مختلف ادوار میں چھپنے والے آرٹیکلز ہیں۔ جنہیں کتابی شکل دی گئی ہے۔ پہلے تین ابواب پنجابی زبان میں تاریخ کی روایت، لوک ادب میں موجود پنجاب کے سورمے جنہوں نے مختلف ادوار میں حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور شہادت پائی مثلاً راجا پورس، رائے احمد خاں کھرل اور ان کے ساتھیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ دونوں نابروں (بہادروں ) کی کہانیاں مٹی کے دفاع میں جان دینے کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔

چوتھا باب ”دی لیجنڈز آف دی پنجاب:کجھ نویں وچار“ خاصے کی چیز ہے۔ جو بتاتا ہے کہ یورپین نے سب سے پہلے اپنے علم اور فنکاری سے مقامی لوک ادب پر دسترس حاصل کی۔ پھر مردم شماری میں مذہب کا خانہ شامل کر کے مذہبی شناخت کی بنیاد ڈالی۔ جو آگے چل کر مذہبی انتہا پسندی اور نفرت میں بدل گئی۔ اسی طرح قبائلی کلچر کو ذاتوں میں بانٹ کر کہا: ہندوستانی کوئی قومی شناخت نہیں رکھتے۔ گورے کی لوٹ مار سے مقامی آبادی وسائل کی کمی سے دوچار ہوگی اور یوں مالی کمزوری کی وجہ سے مقامی ادب بھی زوال کا شکار ہو گیا اور یوں پنجابی زبان کو پنجاب کے نظام تعلیم سے نکال کر اس کی جگہ اردو لائی گئی۔

اس میں folklore پر بحث یہ چیز سامنے لاتی ہے کہ کس طرح انگریز نے علم کے ذریعے طاقت حاصل کی۔ یہ بھی گماں کیا جا سکتا ہے کہ میشل فوکو نے اپنا فلسفہ knowledge and power اسی سے مستعار لیا ہو گا۔ اس باب کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح آر۔ سی۔ ٹمپل 59 لوک کہانیاں اکٹھی کرتا ہے اور اس سے معاشرے کی لوک وزڈم، ادب، رہن سہن اور رویوں کا اندازہ لگاتا ہے۔ جن مقامی لوگوں سے کہانیاں سن کر جمع کرتا ہے آخر میں ان ہی سنانے والوں کو جاہل کہتا ہے۔ آر۔ سی۔ ٹمپل کا حوالہ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے بھی اپنے ایک افسانے۔ (افسانہ:جھوٹ کا فسٹیول، کتاب خاک کی مہک) میں اسی تناظر میں پیش کیا ہے

پانچواں باب یورپین علم کی طاقت کو تسلیم کرتا ہے مگر ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ جدید تحقیق کاروں کو کہ اگر پنجاب کی بات کرنی ہے تو پھر انگریزی تحقیقی قواعد وضوابط یا تواریخ کی بجائے مقامی لوگ اور ان کے طور طریقے سے اصلی تاریخ تک پہنچا جائے۔ مثلاً میراثی، کھوجی، لوک ادب وغیرہ کیوں کہ ہر علاقے کے اپنے طور طریقے، تاریخ اور کلچر ہوتا ہے جن کی گہرائی وہاں رائج قواعد وضوابط کی مدد سے ہی ماپی جا سکتی ہے۔ چھٹا باب پنجابی ”وار“ (پنجابی شاعری کی صنف یعنی تاریخ کو شاعری میں بیان کرنا) پر روشنی ڈالتا ہے۔

بیرونی حملہ آوروں کی مرتب کردہ پنجاب کی تاریخ سے ان واروں میں بیان کردہ حقائق و شواہد کسی بھی طرح مطابقت نہیں رکھتے یا سرے سے موجود ہی نہیں۔ یہ باب وار کی قسمیں، تاریخ، اور اس کے قدآور مصنفین جن میں سلطان پیرے شاہ شیخ کھوکھر کی وار کا نا معلوم شاعر، بابا گرونانک، نجابت، وارث شاہ، بھائی سیال سنگھ، سوہن سنگھ سیتل، شاہ محمد، مٹک، سوبھا شجاع آبادی شامل ہیں۔ ساتواں باب مقامی قبائل کی لڑائیوں اور رائے احمد خاں کی شخصیت، کردار اور غداروں پر روشنی ڈالتا ہے۔

آخری باب شہادت خاں لکھیرا کے متعلق ہے جس میں پنجاب کی مٹی کی انسانی قدریں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اقتباس پڑھیں ”آکھیاہے شہادت خان،“ بچڑا بھل کے نونہہ آیا۔ تلوار واقعی میں ہی ماری ہائی چوہدری سلیم نوں۔ امر ربی انجیں ہائی۔ میری تلوار نال اوس مرنا ہائی لیکن بندہ کجاک ہائی۔ مرگیا۔ توں آ گیا ہیں۔ ”اوس سر نوایا،“ لے جا سر میرا۔ لاہ لا۔ ”جیس ایلے سر نوایا شہادت خان۔“ بس چاچا ویر مک گیا ہے۔ میں گھر پیا جاناں ہاں۔ ”یہ اقتباس پنجاب کے کلچر کی پوری عکاسی کرتا ہے کہ بدلہ لازمی لینا ہے مگر اگلے کو اگر احساس ہو جائے تو بدلے کی بجائے معافی دے دی جاتی تھی وہ چاہے پورس کی سکندر کے لیے ہو یا شہادت کی سلیم خان کے بیٹے کے لیے۔ قدروں کی پاس داری کا یہ تسلسل شاید ہی کرہ ارض پر کسی اور علاقے کی مٹی کی قسمت میں ہو۔ پنجاب کی تاریخ قدم قدم پر ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

اس سے یہ بات سامنے آئی کے کلونیل دور کی بنیادیں علم کی طاقت پر تعمیر کی گئی تھیں اس لیے یہ اتنی مضبوط ہیں کہ انگریز کے جانے کے 73 سال بعد بھی ہماری قوم اسی عمارت کے زیر سایہ جی رہی ہے۔ ہم اگر دنیا میں کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی تاریخ، ہیروز، زبان، ادب وغیرہ کی پہچان کرنا ہوگی۔ اس پہچان کو جدت کے ساتھ جوڑیں گے تو دنیا کی رفتار کا ساتھ دے سکیں گے۔ ہم تو مذکورہ چیزوں کی پہچان تو دور واقفیت سے بھی بہت پرے ہیں جس کی وجہ سے ہم قوموں میں اپنی علیحدہ پہچان بنانے میں بری طرح ناکام ہیں۔

اگر ہم پہچان چاہتے ہیں تو پھر ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ کسی کی پہچان اپنی مٹی، ماں بولی، کلچر اور ادب کے صحیح معنوں میں پروان چڑھنے میں ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ریاست (بقول اولڈن برگ A place of insufficiently imagined) اور عوام میں بہت بڑا خلا ہے جو ختم ہونے کی بجائے بڑھتا جاتا ہے۔ جب پاکستان نہیں بنا تھا تو مسلمانوں کو ہندو کے مقابلے میں اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے اسلام اور اردو کا سہارا لینا پڑا اور کام یاب رہا مگر آزادی کے بعد اب پاکستان مسلم اکثریت کا ملک تھا اب اس کا مقابلہ کسی غیر مسلم سے نہیں تھا بل کہ اپنے ہی صوبوں کے مسلمانوں سے تھا۔

اس لیے کلچر اور زبان کی حقیقتوں کو پہچاننے کی ضرورت تھی اور ہے۔ پاکستان کی Ideology میں اسلام اور اردو کے ساتھ مذکورہ دونوں حقیتوں کو جگہ دینے کی ضرورت تھی۔ اگر دی جاتی تو شاید 1971 کا واقعہ یوں پیش نہ آتا۔ اب بھی بنیادوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ اگر کوئی خلا ہے تو اسے اپنی انا اور ذاتی فائدے کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے سچ میں اس میٹیریل سے پورا کیا جائے جو مستقل حل ٹھہرے۔ وقتی حل آسان مگر کم عمر ہوتا ہے جب کہ دائمی مشکل مگر پائیدار۔ گیارہ کروڑ پنجابیوں کی ماں بولی پنجابی ہے ان کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ ریاستی پاکستان اور عام لوگوں کے پاکستان کو اور

ریاستی بیانیہ اور عوام کا بیانیہ ایک کرنے کی ضرورت ہے۔

میرے خیال میں بھٹا صاحب کا یہ کام اس تناظر میں علیحدہ کھڑا ہے جو مین اسٹریم تاریخ دانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بھی اس میدان میں آئیں اور سائنسی تحقیق سے اس area of study میں تحقیق کریں کہ پنجابی زبان کے استاد کی تحقیق تاریخی اعتبار سے کتنی سچی اور معیاری ہے۔ تحقیق کے بعد اگر ڈاکٹر بھٹاسچے ثابت ہوتے ہیں تو پھر پنجاب کی دھرتی پر اس سے بڑا احسان اور کیا ہو سکتا ہے کہ انگریز کی پہچان سے یہ دھرتی جان چھڑوا کے اپنی اصل تاریخ سے روشناس ہو جائے۔ اصل تاریخ پنجابی وقار اور عزت میں نہ صرف اضافہ کرے گی بل کہ ان چہروں کو بھی سامنے لائے گی جو انگریز کے اشاروں پر آزادی سے پہلے اور بعد میں بھی ناچ رہے ہیں اور غریب اور عام آدمی کو نچوا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •