محترم وزیر داخلہ! آپ میاں افتخار حسین سے کچھ سیکھ بھی سکتے تھے
آج کل وزیر داخلہ اعجاز شاہ صاحب کی ایک تقریر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس تقریر میں کچھ اپوزیشن لیڈروں کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی وزراء اپوزیشن لیڈروں کے بیانات پر تنقید کرتے ہیں لیکن یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ پاکستان کے لئے اس تقریر کے مضمرات کیا ہوں گے۔ اس تقریر میں انہوں نے فرمایا کہ جو فوج کے خلاف بات کرتا ہے وہ بارڈر کراس کر جائے۔ وہ امرتسر جا کر رہے۔ آپ نے دیکھا نہیں ہے کہ جس وقت اے این پی کی حکومت آئی تھی۔ تحریک طالبان افغانستان اور پاکستان نے بلوروں کو مار دیا تھا۔ پھر افتخار کے بیٹے کو مار دیا ہے۔ یہ ری ایکشن ہے۔ [اس پر وہ ہلکے سے مسکرائے۔ مونا لیزا کی طرح یہ مسکراہٹ بہت واضح نہیں تھی] میں اس کے ساتھ جو لوگ نون کے بیانیہ کے ساتھ ہیں اللہ ان کو ہدایت دے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت بھی کرے۔ [شاید وہ یہ اشارہ کر رہے تھے کہ ہم سے کسی حفاظت کی امید نہ کرنا۔ صاف گوئی کے سو فیصد نمبر ]
جیسا کہ ہمارے وزیر داخلہ نے فرمایا کہ جو فوج کے خلاف بات کرتا ہے اسے بارڈر کراس کر کے امرتسر چلے جانا چاہیے۔ کیا ہمارے آئین اور قانون میں کہیں یہ سزا درج ہے کہ جس پر ایسا الزام لگایا جائے اسے ہندوستان بھجوا دینا چاہیے۔ یا اعجاز شاہ صاحب بیک وقت نہ صرف مدعی وکیل اور عدالت کا کردار ادا کر رہے تھے بلکہ قوم کے وسیع تر مفادات میں قانون ساز ادارے کے فرائض بھی انہوں نے سنبھال لئے تھے۔
اس عاجز کا سوال یہ ہے کہ جس گروہ نے پاکستان میں بغاوت کر کے ہمارے کئی فوجی جوانوں اور افسروں کو شہید کر دیا ان کے متعلق وزارت داخلہ کا کیا فتویٰ ہے۔ شاید یہ خبر مکرم اعجاز شاہ تک بھی پہنچی ہو کہ پاکستان کے کئی فوجی تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ان میں جی او سی سوات میجر جنرل ثناء اللہ نیازی شہید بھی شامل تھے۔
حیرت ہے کہ ہمارے معزز وزیر داخلہ نے طالبان کے متعلق یہ فتویٰ نہیں دیا کہ انہیں بارڈر کراس کر لینا چاہیے۔ بلکہ ان کی قتل و غارت کو انہوں نے کمال کسر نفسی سے ری ایکشن کا نام دے دیا۔ کس چیز کا ری ایکشن؟ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون بہانے کے بعد ذرا تنقید سنی تو طالبان کی نازک مزاجی ملاحظہ ہو کہ اس غصے میں آ کر بلور خاندان کے چشم و چراغ گل کر دیے۔ میاں افتخار صاحب کا اکلوتا بیٹا شہید کر دیا۔ آپ اس ملک کے وزیر داخلہ ہیں۔ آپ کا فرض تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرتے۔ نہ کہ ان پر تنقید کرنے والوں کو ڈراوے دیتے۔
جس وقت صحافی ڈینیل پرل کا اغوا ہوا تھا، اعجاز شاہ صاحب اس وقت پنجاب کے ہوم سیکریٹری تھے۔ ڈینیل پرل مشہور جریدے وال سٹریٹ جنرل کے نمائندے تھے۔ انہیں کراچی سے اغوا کر لیا گیا۔ پھر ان کی تصویر منظر عام پر آئی۔ اس پر عالمی سطح پر پاکستان پر ہر طرف سے تنقید کے تیر برس رہے تھے۔
پہلے مشرف صاحب کا یہی رد عمل تھا کہ ڈینیل پرل کو ہندوستان کی ایجنسیوں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس دوران پرویز مشرف صاحب عالمی اکنامک فورم میں شرکت کے لئے گئے۔ وہاں بھی ہر طرف سے ملامت کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرف صاحب نیویارک میں تھے کہ 12 فروری 2002 کو حکومت پاکستان نے یہ اعلان کیا کہ ڈینیل پرل کو اغوا کر نے والے عمر شیخ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بعد میں یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ جب عالمی دباؤ بڑھا تو ڈینیل پرل کو اغوا کرنے والے عمر شیخ نے 5 فروری کو ہی اپنے آپ کو اعجاز شاہ صاحب کے حوالے کر دیا تھا۔ لیکن اعجاز شاہ صاحب نے ایک ہفتہ تک پولیس کی اس ٹیم کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی جو کہ اس اغوا کی تحقیقات کر رہی تھی۔ ایک ہفتہ تک کراچی پولیس اس بات سے بے خبر تھی کہ اس صحافی کو اغوا کرنے والا اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر چکا ہے۔
ابھی اس پر سوالات ختم نہیں ہوئے تھے ایک اور دھماکہ یہ ہوا کہ یہ پتہ چلا ہے کہ ڈینیل پرل کو تو قتل کر دیا گیا ہے۔ اور جب پاکستان کے صدر یہ اعلان کر رہے تھے کہ انہیں یقین ہے کہ ڈینیل پرل زندہ ہیں۔ اس سے ہی قبل ان کو قتل کیا جا چکا تھا۔ ان کا سر قلم کیا گیا تھا اور ظالمانہ طریق پران کے جسم کے نو ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔
عمر شیخ صاحب تو جیل سے بھی پاکستانی اداروں کو دھمکیاں دیتے رہے تھے لیکن اس واقعہ نے پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اور جو سوالات پاکستان کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بنے تھے۔ ان میں ایک سوال یہ تھا کہ ہوم سیکریٹری پنجاب اعجاز شاہ صاحب نے ایک ہفتہ تک عمر شیخ کے پکڑے جانے کو حکومتی اداروں سے بھی خفیہ کیوں رکھا؟
(Descent into Chaos by Ahmed Rashid p 151-153)
(Sleepwalking to Surrender by Khalid Ahmed p 70-81)
یہ اٹھارہ سال پرانا واقعہ ہے۔ اتنے سال میں تو ایک بچہ پیدا ہو کر بالغ ہوجاتا ہے۔ اعجاز شاہ صاحب کے تازہ بیان سے اپوزیشن کو تو اتنا نقصان نہیں ہوا لیکن اس نے پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرنے کے علاوہ عالمی منظر پر پاکستان کی پوزیشن کو بھی کمزور کیا ہے۔
چونکہ اعجاز شاہ صاحب نے میاں افتخار حسین صاحب کی بیٹے کی شہادت کا بھی ذکر کیا تھا تو میں اس سلسلہ میں اپنا ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میاں افتخار حسین صاحب کے بیٹے کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد میں ناران کے علاقہ میں سیر کے لئے گیا ہوا تھا۔ اس وقت پہلا ناران فیسٹیول ہو رہا تھا۔ اس سلسلہ میں ناران سے کچھ آگے راک کلائمنگ کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ میرے بیٹے کی عمر دس سال کے قریب ہو گی۔ میرا بیٹا بھی اس مقابلے میں شرکت کر رہا تھا۔
جب اس نے اوپر چڑھنا شروع کیا تو میں نے کھڑے ہو کر اس کی حوصلہ افزائی شروع کی۔ اس وقت مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے پیچھے کوئی شخص کھڑا ہے۔ جب مڑ کر دیکھا کہ تو وہ میں افتخار حسین صاحب تھے وہ اس وقت وزیر تھے اور کسی حفاظتی انتظامات کے بغیر سڑک پر کھڑے ہو کر بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے ایک چھوٹی سی بچی کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا ”اتنی چھوٹی سی بچی نے پہاڑ پر اتنا اوپر چڑھ کر دکھا دیا۔“
میں اس وقت ان کے بیٹے کے افسوس میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس خیال سے کہ ان کا صدمہ تازہ ہو جائے گا خاموش کھڑا رہ گیا۔ لیکن دل میں یہ خیال ضرور آیا کہ اپنا اکلوتا بیٹا قربان کر کے یہ شخص بغیر کسی حفاظت کے سڑک کے کنارے ہمارے بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ہمارے وزیر داخلہ طنز کرنے کی بجائے میاں افتخار حسین صاحب سے کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں۔ میں نے اس وقت تو کچھ نہیں کہا تھا لیکن آج یہ ضرور عرض کروں گا کہ میں اور میرے جیسے کروڑوں پاکستانی آج بھی میں افتخار حسین صاحب کے بیٹے اور اس قوم کے ان ہزاروں بچوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں جن کے خون سے پاکستان کی زمین سرخ کر دی گئی۔ لیکن فیض کے الفاظ میں
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں
نہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناں
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا


